اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کو ملک سے علیحدہ کرنے کی حامی نمایاں تنظیم البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ کے ایک رکن ایان پارکنسن نے ایک تقریب میں نسل پرستانہ اور توہین آمیز جملہ ادا کرنے کے بعد تنظیم سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب البرٹا کی آزادی یا کینیڈا سے علیحدگی کے حوالے سے سیاسی بحث زور پکڑ رہی ہے اور علیحدگی پسند گروہ آئندہ ممکنہ ریفرنڈم کے لیے اپنی تجاویز سامنے لارہے ہیں۔
پارکنسن نے جمعرات کو ایئرڈری میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران متنازع بیان دیا۔ تقریب میں ایک آزاد البرٹا کے لیے مجوزہ آئین ’’فاؤنڈیشن آف فریڈم‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ نے کیا تھا جبکہ اسے آن لائن بھی براہ راست نشر کیا گیا۔
متنازع بیان پر شدید ردعمل
پارکنسن کو تقریب میں ’’فاؤنڈیشن آف فریڈم‘‘ کے شریک مصنف کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ تقریر کے دوران شہریوں کے حقوق اور شخصی آزادی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا توہین آمیز لفظ استعمال کیا جو عام طور پر سکھ، مسلمان یا عرب افراد کے لیے ان کے مذہبی یا ثقافتی سرپوشوں کے حوالے سے بطور گالی استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے اس بیان پر تقریب میں موجود بعض افراد کی جانب سے تالیاں بھی بجائی گئیں، تاہم بعد میں یہ تبصرہ وسیع پیمانے پر تنقید کا باعث بن گیا۔
البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ کے سربراہ مچ سلویسٹر نے جمعے کو تصدیق کی کہ انہوں نے پارکنسن کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کرلیا ہے۔ ان کے مطابق پارکنسن آئندہ تنظیم کی کسی تقریب میں شرکت، تقریر یا تنظیم کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
سلویسٹر نے واضح کیا کہ تنظیم پارکنسن کے بیان کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی ایسے تبصروں کو برداشت کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اس پلیٹ فارم سے کہی گئی جو تنظیم نے فراہم کیا تھا، اس لیے وہ اس واقعے پر مایوس ہیں۔
تنظیم کے سربراہ نے کیا کہا؟
سلویسٹر نے بتایا کہ جب پارکنسن نے یہ متنازع جملہ ادا کیا تو وہ تقریب کے بیک اسٹیج پر موجود تھے اور انہوں نے خود یہ بات نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں موجود ہوکر یہ تبصرہ سنتے تو اسی وقت اس کے خلاف کارروائی کرتے۔
انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تبصرے نے تقریب کے اصل مقصد سے توجہ ہٹا دی۔ ان کے مطابق تقریب کا مقصد البرٹا کے مستقبل اور ممکنہ آئینی ڈھانچے پر بحث کرنا تھا، لیکن ایک رکن کے متنازع بیان نے پوری سرگرمی کو مختلف تناظر میں ڈال دیا۔
پارکنسن سے بھی موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
علیحدگی پسند حلقوں میں بھی مذمت
پارکنسن کے بیان کی مخالفت صرف البرٹا کی آزادی کے مخالفین تک محدود نہیں رہی بلکہ علیحدگی کے حامی حلقوں کے بعض رہنماؤں نے بھی اس بیان کو مسترد کردیا۔
البرٹا کی آزادی کی حامی تنظیم ’’لیٹ البرٹا ڈیسائیڈ‘‘ کے شریک سربراہ کیتھ ولسن نے بھی پارکنسن کے تبصرے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک گروہ یا فرد کی جانب سے نامناسب اور نسل پرستانہ بیان پوری علیحدگی پسند تحریک کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرسکتا ہے۔
ولسن کے مطابق علیحدگی کی حمایت کرنے والے البرٹا کے شہری مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور پارکنسن کے بیان کو پوری تحریک کی اقدار کی نمائندگی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
’’فاؤنڈیشن آف فریڈم‘‘ بھی متنازع
پارکنسن کے بیان کے علاوہ تقریب میں پیش کیے جانے والے مجوزہ آئین ’’فاؤنڈیشن آف فریڈم‘‘ نے بھی البرٹا کے علیحدگی پسند حلقوں میں اختلاف پیدا کردیا ہے۔
اس مجوزہ آئینی دستاویز میں آزاد البرٹا کے لیے موجودہ کینیڈین حکومتی نظام سے مختلف ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔ تجاویز میں حکومت کی ایک نئی چوتھی شاخ قائم کرنا، جسے ’’نگرانی کی شاخ‘‘ کہا گیا ہے، جائیداد ٹیکس ختم کرنا، بیشتر منتخب عہدیداروں کے لیے چار سالہ مدت کی حد مقرر کرنا اور ججوں کی تقرری کے بجائے انہیں منتخب کرنے کی تجویز شامل ہے۔
تاہم دستاویز کو تقریب سے قبل عوامی سطح پر مکمل طور پر جاری نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اسے میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا۔
علیحدگی پسند رہنماؤں میں اختلاف
کیتھ ولسن سمیت کئی نمایاں علیحدگی پسند رہنماؤں نے تقریب سے پہلے ہی اس مجوزہ آئین سے خود کو الگ کرلیا تھا۔ ولسن نے اسے ایک ایسی کوشش قرار دیا جس سے علیحدگی کی تحریک میں مدد کے بجائے غیر ضروری توجہ کسی ایک گروہ کی تجاویز پر مرکوز ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دستاویز میں بیان کیے گئے بعض تصورات انہیں غیر منطقی محسوس ہوتے ہیں، تاہم جمہوری معاشرے میں لوگوں کو اپنے خیالات پیش کرنے اور حتیٰ کہ ناقص خیالات پر بھی بحث کرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا علیحدگی معاملہ،پریمیئر ڈینیئل استمھ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ختم
کوئنز یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر اور البرٹا کی آزادی کے حامی بروس پارڈی نے بھی واضح کیا کہ وہ مجوزہ آئین کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ کسی اتفاق رائے کی بنیاد پر تیار کیا گیا آئینی مسودہ نہیں اور اس میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔
آئندہ ریفرنڈم سے پہلے بڑا سوال
البرٹا کی علیحدگی کی تحریک اس وقت ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہی ہے کیونکہ صوبے میں کینیڈا سے علیحدگی کے ممکنہ ریفرنڈم پر بحث جاری ہے۔ تاہم حالیہ واقعات نے یہ سوال مزید نمایاں کردیا ہے کہ اگر علیحدگی کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تو آزاد البرٹا کا آئینی اور حکومتی نظام آخر کیسا ہوگا۔
البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ کے سربراہ سلویسٹر کا کہنا ہے کہ پیش کیا گیا مسودہ حتمی آئین نہیں بلکہ مستقبل میں ہونے والی وسیع بحث کے لیے ابتدائی خاکہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کبھی علیحدگی کے حق میں پابند ریفرنڈم کامیاب ہوا تو آئین کی تیاری کے لیے ایک باقاعدہ آئینی کانفرنس منعقد کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مختلف گروہوں اور البرٹا کے شہریوں کو اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے۔
ماہر سیاسیات: تحریک ابھی متحد نہیں
یونیورسٹی آف البرٹا کے سیاسیات کے پروفیسر جیرڈ ویسلی کے مطابق حالیہ اختلافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ البرٹا کی علیحدگی کی تحریک اب بھی مکمل طور پر متحد نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ البرٹا کے شہری مستقبل میں علیحدگی پسند رہنماؤں سے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھیں گے کہ اگر صوبہ واقعی کینیڈا سے الگ ہونا چاہتا ہے تو اس کا عملی منصوبہ کیا ہے۔
ویسلی کے مطابق اس وقت علیحدگی پسند تحریک کی جانب سے اس سوال کا کوئی ایک واضح اور متفقہ جواب موجود نہیں۔
یوں نسل پرستانہ بیان پر ایک رکن کا استعفیٰ اور مجوزہ آئین پر علیحدگی پسند رہنماؤں کے اختلافات نے البرٹا کی آزادی کی تحریک کے اندر موجود تقسیم کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ممکنہ ریفرنڈم سے قبل تحریک کو نہ صرف عوامی حمایت حاصل کرنے بلکہ ایک واضح، متفقہ اور قابلِ عمل مستقبل کا منصوبہ پیش کرنے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔
