پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے میں 7 فیصد اضافہ، مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات اب صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری لاگت پر بھی پڑنے لگے ہیں۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے ڈیزل اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی لاگت میں موجودہ اضافے کے بعد پرانے کرایوں پر مال برداری کا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

7 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ویڈیو پیغام میں کرایوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 26 روپے 88 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ ایندھن ان کے مجموعی اخراجات کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے قیمتوں میں اچانک اور مسلسل اضافے کا براہ راست اثر مال برداری کے کرایوں پر پڑتا ہے۔

مہنگائی کا نیا دباؤ

گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافہ ہونے کا سب سے اہم اثر اشیا کی ترسیل کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں خوراک، سبزیوں، پھلوں، تعمیراتی سامان، صنعتی خام مال اور دیگر مصنوعات ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے بڑی حد تک سڑکوں کے ذریعے مال برداری پر انحصار کرتی ہیں۔

اس لیے جب ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو کاروباری ادارے اور سپلائرز اضافی لاگت کو اشیا کی قیمتوں میں شامل کرسکتے ہیں۔ یوں ایندھن کی قیمت میں اضافے کا اثر بالواسطہ طور پر عام صارف تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

روزانہ قیمتوں پر اعتراض

ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی اور مسلسل اضافے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز حکومت کی اس پالیسی کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔

ٹرانسپورٹرز کے لیے قیمتوں میں بار بار تبدیلی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مال برداری کے کرائے طویل روٹس اور کئی روز کے سفر کے لیے پہلے سے طے کیے جاتے ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمت میں اچانک تبدیلی سے ان کے اخراجات کا حساب متاثر ہوجاتا ہے۔

حکومت سے ریلیف کا مطالبہ

گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کی جائے اور ٹول ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں ریلیف دیا جائے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن مہنگا ہو، ٹول ٹیکس اور دیگر اخراجات برقرار رہیں اور اس کے مقابلے میں مال برداری کے کرایے نہ بڑھائے جائیں تو ٹرانسپورٹ کا کاروبار مالی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم کا بڑا اعلان، موٹر سائیکل اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف

پرانے معاہدوں کا معاملہ

ٹرانسپورٹرز نے حکومت کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی دوبارہ سامنے رکھ دیا ہے۔ اتحاد کے مطابق 8 اگست سے 17 اگست تک ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مختلف معاملات پر معاہدے ہوئے تھے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان معاہدوں پر مقررہ مدت میں عمل کرنا چاہیے۔ اتحاد نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عملدرآمد کے لیے 40 دن کا وقت دیا تھا اور اس کی مدت آئندہ ہفتے ختم ہونے والی ہے۔

ملک گیر ہڑتال کا امکان

ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہوا اور انہیں مطلوبہ ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پاکستان بھر میں دوبارہ ملک گیر ہڑتال کی جاسکتی ہے۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ ملکی سپلائی چین کا بنیادی حصہ ہے۔ طویل ہڑتال کی صورت میں صنعتوں کے لیے خام مال، مارکیٹوں کے لیے اشیا اور مختلف علاقوں کے لیے روزمرہ استعمال کی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

اصل دباؤ صارف پر؟

موجودہ صورتحال کا بنیادی سوال یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا آخری بوجھ کون برداشت کرے گا۔ ٹرانسپورٹرز اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایے بڑھا رہے ہیں، جبکہ کاروباری طبقہ اضافی ترسیلی لاگت کو اپنی قیمتوں میں شامل کرسکتا ہے۔ اس صورت میں بالآخر مہنگائی کا دباؤ صارفین تک منتقل ہونے کا امکان موجود ہے۔

دوسری طرف حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں، ٹیکس آمدن، ٹرانسپورٹرز کے اخراجات اور عام صارف پر پڑنے والے اثرات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

فیصلہ کن ہفتہ

اگلا ہفتہ ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان معاملات کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔ اگر سابقہ معاہدوں پر پیش رفت ہوئی اور ٹرانسپورٹرز کو ٹیکس یا دیگر مدوں میں ریلیف ملا تو ملک گیر ہڑتال کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو مال برداری کے کرایوں میں اضافے کے ساتھ ہڑتال کا معاملہ بھی سپلائی چین اور مہنگائی کے لیے نیا دباؤ بن سکتا ہے۔

یوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف ٹرانسپورٹرز کے اخراجات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات ملکی تجارت، سپلائی چین، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عام صارف کی جیب تک پہنچنے کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے۔

ہمیں فالو کریں