ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے اپوزیشن لیڈر پیئر پولیور نے وزیرِ اعظم مارک کارنی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ گورڈی ہوو انٹرنیشنل برج کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
جمعہ کو ارسال کیے گئے خط میں پولیور نے کہا کہ کینیڈین عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ اس معاہدے کے تحت حکومت نے کون سی شرائط اور ممکنہ رعایتوں پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کو خفیہ رکھنے سے شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔گورڈی ہوو انٹرنیشنل برج، جو ونڈسر، اونٹاریو کو ڈیٹرائٹ، مشی گن سے ملاتا ہے، کئی ہفتوں کی تاخیر کے بعد اب 27 جولائی کو ٹریفک کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔
اس تاخیر کی تصدیق گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر حکام نے بھی کی تھی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکہ کے لیے پہلے سے بہتر معاہدہ حاصل کیا ہے۔اپنے خط میں پولیور نے کہا کہ کینیڈا نے اس پل کی تعمیر پر آنے والی لاگت کا سو فیصد حصہ اس یقین دہانی کے ساتھ ادا کیا تھا کہ جب تک تمام اخراجات واپس نہیں ہو جاتے، پل سے حاصل ہونے والی ٹول آمدنی کا سو فیصد حصہ کینیڈا کو ملے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایک نیا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت امریکہ کو پل سے حاصل ہونے والے منافع میں توقع سے پہلے حصہ دیا جائے گا۔ ان کے بقول حکومت نے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہ لا کر کینیڈین شہریوں کو اصل شرائط سے لاعلم رکھا ہے۔
پیئر پولیور نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی مکمل دستاویزات فوری طور پر جاری کی جائیں تاکہ عوام خود اس کے مندرجات کا جائزہ لے سکیں اور یہ معلوم ہو سکے کہ کینیڈا کے مفادات کا کس حد تک تحفظ کیا گیا ہے۔