اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے تسلسل میں آئندہ چند روز کے دوران قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات متوقع ہیں، جہاں دونوں ممالک کے ماہرین اور حکام باہمی مفاہمت کے مختلف نکات، اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ عرب میڈیا کے مطابق مذاکراتی عمل سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد گزشتہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لینا اور مستقبل کے تعاون کے لیے قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے براہِ راست رابطے کے خصوصی ذرائع بھی فعال رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری رابطہ قائم کرکے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران اعتماد سازی، علاقائی سلامتی، سفارتی روابط کے فروغ اور مستقبل میں ممکنہ پیش رفت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ادھر امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود بھی اس ہفتے دو روزہ سرکاری دورے پر چین جائیں گے ،جہاں وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی کے شعبے، خطے کی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق قطر ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط بھی خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات مثبت نتائج دیتے ہیں تو اس سے امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو تقویت مل سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔نوٹ: مذکورہ خبر میں شامل بعض دعوے (جیسے مفاہمتی یادداشت، بعض حملوں اور دیگر واقعات کی تفصیلات) آزاد اور معتبر بین الاقوامی ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لیے انہیں حتمی حقائق کے بجائے متعلقہ ذرائع کے دعووں کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔