قاسم علی شاہ کی المصطفیٰ ویلفیئر البرٹا کے تاریخی پروگرام میں شرکت، کیلگری میں پاکستانی کمیونٹی کا بھرپور اجتماع
کیلگری — محمد امان اللہ
عالمی شہرت یافتہ موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے کیلگری میں المصطفیٰ ویلفیئر البرٹا کے پہلے تاریخی پروگرام میں شرکت کی، جہاں پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی سیاسی، سماجی، کاروباری اور مذہبی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔
المصطفیٰ ویلفیئر کینیڈا کے زیر اہتمام اور المصطفیٰ ویلفیئر البرٹا کے ذمہ دار امتیاز احمد اور ان کی ٹیم کی جانب سے قاسم علی شاہ کے اعزاز میں خصوصی تقریب سلطان بینکوئٹ ہال، کیلگری میں منعقد ہوئی۔
قاسم علی شاہ کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کو المصطفیٰ ویلفیئر کے دنیا بھر میں جاری فلاحی منصوبوں اور خدمات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
قاسم علی شاہ کا اصلاحِ ذات پر زور
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاسم علی شاہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں بہتر زندگی گزارنے، اپنی شخصیت کا جائزہ لینے، اپنی خامیوں کو پہچاننے اور ان پر قابو پانے کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو خود کو مکمل اور بے عیب سمجھنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ اپنی خامیوں کا ادراک ہی اصلاح اور بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔
قاسم علی شاہ نے قدیم فارسی قالین سازی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بہترین اور نفیس قالین کے ایک کونے کو معمولی طور پر نامکمل رکھنے کا تصور اس حقیقت کی علامت تھا کہ مکمل اور بے عیب ہونا انسان کے لیے ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں موجود ہوتی ہیں، تاہم کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی خامیوں کو پہچانے اور انہیں بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشش کرے۔
کامیابی کے لیے ٹیلنٹ کے ساتھ محنت ضروری
موٹیویشن، ٹیلنٹ اور مہارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قاسم علی شاہ نے کہا کہ قدرتی صلاحیت رکھنے والے شخص کو مسلسل محنت، مشق، نظم و ضبط اور اپنی فیلڈ پر مکمل توجہ کے ذریعے اپنی صلاحیت کو نکھارنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ٹیلنٹ انسان کو کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچاتا، بلکہ مسلسل محنت اور مشق ہی قدرتی صلاحیت کو غیر معمولی کامیابی میں تبدیل کرتی ہے۔
حقیقی تبدیلی انسان کی ذات سے شروع ہوتی ہے
معاشرتی رویوں پر گفتگو کرتے ہوئے قاسم علی شاہ نے کہا کہ ہم اکثر ملک، حکومت، معاشرے اور دوسروں کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن حقیقی تبدیلی کا آغاز انسان کو اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔
انہوں نے غصے، تکبر، حسد، منفی سوچ، کینہ، عدم برداشت اور دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کو ایسے رویے قرار دیا جو فرد، خاندان اور معاشرے کو اندر سے کمزور کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک شخص اپنی اصلاح شروع کر دے تو اس کے مثبت اثرات گھر اور خاندان سے ہوتے ہوئے پورے معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔
قاسم علی شاہ نے اپنے خطاب میں ایک سبق آموز واقعہ بھی بیان کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ انسان اپنی پوری زندگی دنیا، ملک، شہر، گھر اور حتیٰ کہ اپنی اولاد کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، لیکن آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ اگر اس نے ابتدا ہی میں خود کو تبدیل کیا ہوتا تو اس کے اردگرد کے حالات اور لوگ بھی تبدیل ہونا شروع ہو جاتے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی باہر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔
خبروں کی تصدیق ضروری ہے
معلومات اور سوشل میڈیا کے دور میں بغیر تحقیق خبروں اور دعوؤں کو آگے بڑھانے کے رجحان پر بھی قاسم علی شاہ نے تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ کسی بھی خبر یا دعوے پر یقین کرنے اور اسے آگے پہنچانے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے۔
انہوں نے سچائی، تحقیق اور ذمہ داری کو معاشرتی زندگی کے بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ضبطِ نفس اور معافی کی اہمیت
قاسم علی شاہ نے اپنی گفتگو میں انسان کی اصل جدوجہد کو اپنی ذات اور نفس کی اصلاح سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انسان کے لیے اپنی خواہشات، غصے، تکبر اور دیگر کمزوریوں پر قابو پانا ایک مشکل لیکن ضروری جدوجہد ہے۔
انہوں نے درگزر، معافی، برداشت اور ضبطِ نفس کو مضبوط شخصیت کی اہم علامات قرار دیا اور کہا کہ انسان کو دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی ذات کا احتساب کرنا چاہیے۔
بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے اہم پیغام
قاسم علی شاہ نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی صرف دولت کمانے اور مستقبل کے لیے وسائل جمع کرنے کا نام نہیں۔
والدین، اولاد اور قریبی رشتوں کو وقت دینا بھی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات انسان مستقبل بنانے کی دوڑ میں موجودہ زندگی کے قیمتی لمحات، والدین کی محبت اور بچوں کا بچپن کھو دیتا ہے اور بعد میں صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔
منتظمین کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ
تقریب کے منتظمین المصطفیٰ ویلفیئر کینیڈا کے ذمہ دار نثار کلو اور المصطفیٰ ویلفیئر البرٹا کے ذمہ دار امتیاز احمد نے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں، شرکاء اور اسپانسرز کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی بھرپور شرکت نے اس پروگرام کو یادگار اور تاریخی بنا دیا۔
تقریب کی میزبانی امتیاز احمد کے صاحبزادے طلحہ اور صاحبزادی نے پُراعتماد اور خوبصورت انداز میں انجام دی۔
قاسم علی شاہ کا مثبت تبدیلی کا پیغام
اختتام پر قاسم علی شاہ نے شرکاء کو پیغام دیا کہ انسان پوری دنیا کو تبدیل نہیں کر سکتا، لیکن اپنی ذات کو ضرور بہتر بنا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ہر فرد اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے رویوں کی اصلاح شروع کر دے تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
