اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اداروں کی بہتری کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز میں کیبنٹ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 72 ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن کے منصوبوں پر تقریباً 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں پر 1 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کرنے کا تخمینہ شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ نیشنل آرکائیوز پاکستان کی بحالی اور بہتری کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں شمسی توانائی کے نظام کی اپ گریڈیشن اور توانائی بچت منصوبوں کے لیے تقریباً 19 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے کے لیے 1 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کے لیے بھی 70 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کا مقصد سرکاری امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بھی متعدد منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ان تمام منصوبوں کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینا، توانائی کی بچت، خواتین کے لیے سہولیات میں اضافہ اور مجموعی قومی ترقیاتی اہداف کے حصول کو مؤثر بنانا ہے۔