اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے امریکی اقدامات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے تیل اور گیس کی برآمدات کو روکنے یا محدود کرنے کی کوشش کی گئی تو خطے میں توانائی کی ترسیل کا راستہ "یا تو سب کے لیے کھلا ہوگا یا کسی کے لیے نہیں”۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک اپنے معاشی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کی اہم گزرگاہ ہے اور اگر ایران کی برآمدات متاثر ہوئیں تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جنہیں امریکہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کا تحفظ اور تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس اہم راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین میں خلل اور توانائی کے بحران کا باعث بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے بیانات اپنے اپنے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اور مزید پیش رفت پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔