آرکٹک میں چینی تحقیقی جہازوں کی سرگرمیاں، کینیڈا اور امریکا نے نگرانی بڑھا دی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)چین کے دو برف شکن تحقیقی جہازوں کی آرکٹک کے قریب سرگرمیوں نے امریکا اور کینیڈا کی سکیورٹی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ دونوں ممالک گزشتہ کئی ہفتوں سے چینی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کینیڈین فضائیہ کا نگرانی کرنے والا طیارہ بھی الاسکا سے ان کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ میں مصروف ہے۔

چینی جہازوں کی نقل و حرکت

امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق چینی تحقیقی جہاز شوئی لونگ (Snow Dragon) اور شوئی لونگ 2 (Snow Dragon 2) جولائی کے دوران بیرنگ سی میں امریکی خصوصی اقتصادی زون کے قریب شمال کی جانب بڑھے۔

چینی تحقیقی جہازوں کی آرکٹک میں موسم گرما کے دوران مسلسل موجودگی گزشتہ چند برسوں سے مغربی ممالک کے دفاعی اور سکیورٹی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی سرگرمیوں کو صرف سائنسی تحقیق تک محدود سمجھنا کافی نہیں اور ان کی جدید صلاحیتوں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔

کینیڈین طیارہ بھی نگرانی میں

آزاد بحری تحقیقاتی ماہر اور شپ ٹریکر اسٹیفن واٹکنز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق رائل کینیڈین ایئر فورس کا CP-140 نگرانی طیارہ جولائی کے آغاز سے الاسکا میں موجود ہے۔

کینیڈا کے محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس طیارے نے امریکی حکام کے ساتھ مل کر دونوں چینی جہازوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔

محکمہ دفاع کی ترجمان چیریل فورسٹ کے مطابق کینیڈین جوائنٹ آپریشنز کمانڈ آرکٹک میں بحری ٹریفک کی سرگرمیوں کی فعال نگرانی کر رہی ہے، جس میں شوئی لونگ اور شوئی لونگ 2 بھی شامل ہیں۔

کینیڈین حدود سے باہر

کینیڈین حکام کے مطابق دونوں چینی جہاز اس وقت کینیڈا کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر کام کر رہے ہیں۔ خصوصی اقتصادی زون میں ساحلی ملک کو سمندری وسائل اور بعض سرگرمیوں کے حوالے سے خصوصی حقوق حاصل ہوتے ہیں، تاہم یہ علاقہ مکمل علاقائی سمندری حدود کے برابر نہیں ہوتا۔

کینیڈا کا کہنا ہے کہ جہاز اس کی براہ راست سمندری حدود میں موجود نہیں، تاہم آرکٹک میں بڑھتی ہوئی چینی سرگرمیوں کے پیش نظر ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

سائنسی تحقیق یا سکیورٹی سرگرمی؟

چین نے متعدد مرتبہ واضح کیا ہے کہ اس کے آئس بریکرز آرکٹک میں پرامن سائنسی تحقیق، ماحولیاتی نگرانی اور موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے کے لیے کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چینی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے ژانگ ژینیان کا کینیڈا میں جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

تاہم مغربی دفاعی ماہرین ان جہازوں پر نصب جدید سونار اور ٹیلی میٹری بوائز کی صلاحیتوں کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ آلات سمندری ماحول، زیرِ آب جغرافیہ اور سمندر کی تہہ سے متعلق معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ آبدوزوں کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دفاعی محقق رچرڈ شمُوکا کے مطابق چینی تحقیقی جہاز مختلف نوعیت کی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے ان کی موجودگی کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔

زیرِ آب نظام پر بھی نظر

ماہرین کے مطابق بیرنگ سی کے علاقے میں بڑے بین الاقوامی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کا نیٹ ورک موجود نہیں، تاہم الاسکا کے لیے اہم علاقائی سب سی نیٹ ورک موجود ہے۔

دفاعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی جہاز سمندری تحقیق کے دوران ان زیرِ آب نظاموں اور سمندری راستوں سے متعلق معلومات بھی جمع کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکا اور کینیڈا ان کی سرگرمیوں کو زیادہ قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

آرکٹک میں بڑھتی کشیدگی

کینیڈا گزشتہ سال سے شمالی سمندری علاقوں کی نگرانی بہتر بنانے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطہ بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بحریہ کے جنگی جہازوں، آرکٹک آپریشنز کے لیے تیار بحری جہازوں، فضائی نگرانی اور خصوصی فورسز کو مختلف کارروائیوں میں شامل کیا گیا ہے۔

کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی دلچسپی کے باعث شمالی علاقوں کی نگرانی مستقبل میں مزید اہم ہوجائے گی۔

دفاعی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ

کینیڈا نے آرکٹک میں اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے نئے بحری جہازوں اور جدید آبدوزوں کے حصول کے منصوبوں پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ حکومت زیرِ سمندر سینسرز پر مشتمل ایک جدید نیٹ ورک بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ شمالی سمندری علاقوں میں مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جاسکے۔

کینیڈین پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے رکن جیمز بیزن نے بھی آرکٹک میں مزید نگرانی کے وسائل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق چین اور روس کی بڑھتی سرگرمیاں کینیڈا کی نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو آزما رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطہ مستقبل میں عالمی طاقتوں کے درمیان سکیورٹی، قدرتی وسائل اور سمندری راستوں کے حوالے سے اہم ترین علاقوں میں شامل ہوسکتا ہے، جس کے باعث چین، روس، امریکا اور کینیڈا کی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں