اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک نے کسی مخصوص ریاست کو مشترکہ دشمن قرار نہیں دیا اور معاہدے کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ باہمی دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔
مکہ میں تاریخی معاہدہ
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ میں باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،یہ پیش رفت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی، دفاعی اور برادرانہ تعلقات میں ایک اہم اضافہ قرار دی جارہی ہے۔
ایران کے خلاف نہیں
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی خاص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا۔
ترکی کی سرکاری انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیدان نے کہا کہ تینوں ممالک اس وقت تک کسی ریاست کو مخالف نہیں سمجھتے جب تک وہ ان کے خلاف کوئی معاندانہ کارروائی نہ کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں کسی مشترکہ خطرے یا مخصوص دشمن کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
دشمن کی وضاحت نہیں
ہاکان فیدان نے کہا کہ معاہدے میں ایسا کچھ موجود نہیں جس کے ذریعے کسی مخصوص ملک کو مشترکہ دشمن قرار دیا گیا ہو۔ ان کے مطابق تینوں ممالک نے کسی ایسی شق پر دستخط نہیں کیے جو کسی ریاست کو پہلے سے خطرہ یا ہدف قرار دیتی ہو۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ جو ملک ان تینوں ممالک کے خلاف حملہ نہیں کرتا، اسے ان کا ہدف نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ وضاحت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں اس کے ممکنہ جغرافیائی اور دفاعی اثرات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں۔
علاقائی استحکام پر زور
فیدان نے دفاعی معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرات کے دوران تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مشترکہ تعاون اور باہمی یکجہتی خطے کے ممالک کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
تین بڑی دفاعی طاقتیں
مکہ دفاعی معاہدہ تین ایسے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے جن کی دفاعی صلاحیتیں خطے اور عالمی سطح پر اہم سمجھی جاتی ہیں۔
سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی اور دفاعی طاقت ہے، پاکستان جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے جبکہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ اپنی دفاعی صنعت کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔
ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران اس نے ڈرونز، میزائل، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
پاکستان کا اہم کردار
اس معاہدے میں پاکستان کی شمولیت بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی اسلام آباد کے سیاسی اور عسکری روابط مضبوط ہیں۔
تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی تربیت اور عسکری تعاون پہلے ہی مختلف سطحوں پر جاری رہے ہیں۔ نئے معاہدے سے ان روابط کو زیادہ منظم اور وسیع کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
اجتماعی دفاع کا تصور
معاہدے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اس شق سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانے کا عندیہ ملتا ہے۔
تاہم ترک وزیر خارجہ کی وضاحت سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ باہمی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
خطے کے لیے نیا پیغام
مکہ میں ہونے والے معاہدے کو صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں سمجھا جارہا بلکہ اسے تینوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت بھی قرار دیا جارہا ہے۔
ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ کی وضاحت اس بات کا اشارہ ہے کہ انقرہ اس معاہدے کو کسی نئے عسکری بلاک کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔
مجموعی طور پر مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ ترکیہ کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد باہمی دفاع، تعاون اور علاقائی استحکام ہے، نہ کہ کسی مخصوص ملک کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا۔