اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے سے متعلق ۲۰۲۲ میں کی گئی قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔ عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ قانون شرعی اصولوں اور تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ۲۰۲۲ میں ضابطہ فوجداری سے جس شق کو حذف کیا گیا تھا، اسے دوبارہ بحال تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد خودکشی کی کوشش سے متعلق پرانی قانونی شق دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا اور متعلقہ قانون کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون سازی کو شرعی معیار کے مطابق ہونا ضروری ہے، اور اس معاملے میں کی گئی ترمیم اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔
واضح رہے کہ ۲۰۲۲ کی قانون سازی کے دوران خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے والی شق ختم کر دی گئی تھی، جسے اب عدالت نے بحال کر دیا ہے۔