اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم وصول کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ بھاری وصولی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے ذریعے کی گئی، جس کا براہِ راست بوجھ عام صارفین پر پڑا۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی صارفین سے 35 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی اور دیگر اضافی ٹیکسز کا اثر براہِ راست مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑتا ہے، جس سے مجموعی طور پر عوامی زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکومتی ذرائع اس طرح کی وصولیوں کو مالی نظم و ضبط اور ترقیاتی و ماحولیاتی منصوبوں کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم عوامی حلقوں میں اس پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایندھن پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز روزمرہ زندگی کو مزید مہنگا بنا رہے ہیں۔