ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان،سالانہ شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ملک میں مہنگائی کا دباؤ اگست کے دوسرے ہفتے میں بھی برقرار رہا اور ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.15 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔

ایک ہفتے میں 20 اشیا مہنگی

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والی 51 بنیادی اشیائے ضروریہ کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 20 اشیا کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا جبکہ 9 اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں اور 22 اشیا کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کے اعتبار سے پیاز نمایاں رہا جس کی قیمت میں 24.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چنے کی دال 3.35 فیصد اور مرغی کے گوشت کی قیمت 2.45 فیصد بڑھ گئی۔ ایل پی جی کے نرخوں میں بھی 0.67 فیصد اضافہ ہوا۔ چائے، سرسوں کا تیل، دہی اور مسور کی دال سمیت متعدد اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔

ٹماٹر کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر بڑا اضافہ

سالانہ بنیاد پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے لیے خاصی تشویش پیدا کردی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 143.77 فیصد بڑھ گئی ہے، جو زیر جائزہ اشیا میں سب سے نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 15.28 فیصد تک پہنچ گئی

اسی طرح پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر 125.75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گندم کا آٹا 77.41 فیصد مہنگا ہوگیا۔ ایل پی جی کی قیمت میں بھی ایک سال کے دوران 55.41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی قیمت سالانہ بنیاد پر 34.05 فیصد اور پیٹرول کی قیمت 23.02 فیصد بڑھ چکی ہے۔ کیلے، مرچ پاؤڈر، مٹن اور بیف سمیت کئی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرول اور بعض اشیا سستی

مہنگائی میں مجموعی اضافے کے باوجود ایک ہفتے کے دوران بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2.35 فیصد کمی ہوئی، جو ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں کمی شمار کی گئی ہے۔

اسی طرح ٹماٹر کی قیمت میں ہفتہ وار بنیاد پر 1.26 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی جبکہ آلو 0.73 فیصد اور ڈیزل 0.29 فیصد سستا ہوا۔ کیلے، مونگ کی دال، انڈے اور چینی کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

سالانہ بنیاد پر کچھ اشیا بھی سستی

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی ہے۔ آلو کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ چینی 17.93 فیصد سستی ہوئی۔

مرغی کی قیمت میں بھی سالانہ بنیاد پر 17.45 فیصد کمی ہوئی۔ چنے کی دال، انڈے اور مونگ کی دال سمیت بعض دیگر اشیائے خورونوش کے نرخ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہے۔

عوام پر مہنگائی کا دباؤ برقرار

ماہرین کے مطابق مہنگائی کی مجموعی شرح میں معمولی ہفتہ وار اضافہ بظاہر کم دکھائی دیتا ہے لیکن روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں سالانہ اضافہ عام شہریوں کے بجٹ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ خصوصاً سبزیوں، آٹے، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے گھر کے ماہانہ اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں :

اوٹاوا،مہنگائی میں بڑا اضافہ متوقع، عالمی توانائی بحران کے اثرات سامنے آنے کا خدشہ

تازہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم بنیادی ضروریات کی متعدد اشیا مہنگی ہونے کے باعث عوام کو روزمرہ خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگلے ہفتوں میں قیمتوں کا رجحان اس بات کا تعین کرے گا کہ مہنگائی میں موجودہ اضافے کا سلسلہ برقرار رہتا ہے یا اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں کمی آنا شروع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں