اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک ہزار سال پرانے ایک گمشدہ خط کے محفوظ شدہ اقتباسات نے 1066 میں انگلستان کی نارمن فتح کے بارے میں تاریخ کا ایک نیا پہلو سامنے لایا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق انگلستان کے تخت پر قبضے کی فیصلہ کن جنگ صرف ہیسٹنگز کے میدان میں نہیں لڑی گئی تھی بلکہ روم میں جاری مذہبی اور سیاسی اقتدار کی کشمکش نے بھی اس تاریخی واقعے کی بنیادیں مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔
یہ خط پوپ الیگزینڈر دوم کا ہے اور اس کے کچھ اقتباسات ویٹیکن کے آرکائیوز میں محفوظ قرون وسطیٰ کے مذہبی قانونی مجموعوں میں موجود ہیں۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے قرون وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر پروفیسر ٹام لائسنس نے ان اقتباسات کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق 1066 کے واقعات کو صرف انگلش تخت کی جانشینی کی جنگ سمجھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا بلکہ اس وقت یورپ میں جاری مذہبی اقتدار کی کشمکش بھی اہم تھی۔
1066 میں انگلستان کے تخت پر قبضے کی جنگ
1066 میں انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد تخت کے لیے کشمکش پیدا ہوئی۔ ہیرالڈ گوڈونسن انگلستان کے بادشاہ بن گئے جبکہ نارمنڈی کے ڈیوک ولیم نے بھی انگلش تخت پر اپنا حق جتایا۔
یہ بھی پڑھیں :
شیطانی طاقت یا سائنسی حقیقت؟ کنویں کی پراسرار ویڈیو کی اصل کہانی سامنے آگئی
ولیم نے ہیرالڈ کے خلاف اپنی مہم کے لیے مختلف سیاسی اور مذہبی دلائل پیش کیے۔ ان میں ہیرالڈ کی جانب سے مبینہ طور پر کیے گئے حلف کی خلاف ورزی اور انگلستان کے کلیسائی نظام سے متعلق شکایات بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں ولیم نے فوجی طاقت کے ذریعے انگلستان پر حملہ کیا اور ہیسٹنگز کی جنگ میں ہیرالڈ کو شکست دے کر انگلش تخت حاصل کرلیا۔
روم میں دو پوپوں کے درمیان اقتدار کی جنگ
نئی تحقیق کا اہم پہلو 1060 کی دہائی میں روم اور مغربی مسیحی دنیا میں جاری مذہبی تنازع ہے۔ اس دور میں دو حریف گروہوں نے الگ الگ پوپ منتخب کیے تھے۔ 1061 میں الیگزینڈر دوم کو ایک دھڑے کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ پارما کے بشپ کادالوس کو مخالف گروہ نے پوپ منتخب کیا اور وہ ہونوریئس دوم کے نام سے جانے گئے۔
یہ تنازع کئی برس جاری رہا اور ہونوریئس کو مقدس رومی سلطنت سمیت یورپ کے بعض طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔ ایسے ماحول میں مختلف یورپی ریاستوں اور حکمرانوں کی جانب سے کسی ایک مذہبی دھڑے کی حمایت محض مذہبی معاملہ نہیں رہتی تھی بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوتے تھے۔
ہیرالڈ کی پالیسی ولیم کے حق میں کیسے گئی؟
پروفیسر ٹام لائسنس کے مطابق پوپ الیگزینڈر دوم کے خط میں انگلستان کے حوالے سے ایسے سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جنہیں ماضی میں مؤرخین نے مختلف انداز میں دیکھا تھا۔ نئی تحقیق میں ان الفاظ کو 1060 کی دہائی کی پوپوں کے درمیان کشمکش کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خط کے مطابق الیگزینڈر نے انگلستان کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ سینٹ پیٹر کی سرپرستی سے دور ہوگیا تھا اور بعض لوگوں نے اسے درست مذہبی راستے سے ہٹا دیا تھا۔ لائسنس کے مطابق ممکن ہے کہ یہ اشارے انگلستان کی جانب سے پوپ کے مخالف دھڑے سے تعلق یا حمایت کی طرف ہوں۔
اس تشریح کے مطابق اگر انگلستان کے حکمران حلقوں نے الیگزینڈر کے مخالف گروہ کی حمایت کی تھی تو پوپ کے لیے ہیرالڈ کے خلاف ولیم کی حمایت کی ایک اضافی سیاسی وجہ موجود ہوسکتی تھی۔ یوں ولیم کی مہم کو صرف ایک غیر ملکی حکمران کی جانب سے تخت پر قبضے کی کوشش کے بجائے مذہبی حمایت اور جواز بھی حاصل ہوگیا۔
پوپ نے ولیم کی حمایت کیوں کی؟
ولیم کی جانب سے انگلستان پر حملے سے قبل پوپ الیگزینڈر دوم نے اس کی حمایت کی تھی اور ایک مقدس جھنڈا بھی فراہم کیا تھا۔ اس اقدام نے نارمن حملے کو مذہبی رنگ دینے میں مدد دی۔ انگلش ہیریٹیج کے مطابق ولیم نے پوپ کو یہ باور کرایا تھا کہ ہیرالڈ نے مقدس حلف توڑا ہے اور انگلستان کے کلیسائی معاملات میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ پوپ کی جانب سے فراہم کردہ جھنڈے نے ولیم کی مہم کو ایک مذہبی جواز فراہم کیا۔
نئی تحقیق اس معروف واقعے کو روم میں جاری وسیع تر اقتدار کی کشمکش سے جوڑتی ہے۔ اس کے مطابق پوپ کی حمایت کو صرف ہیرالڈ کے مبینہ حلف اور انگلش کلیسا کے معاملات تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں اس دور کی یورپی مذہبی سیاست بھی شامل ہوسکتی ہے۔
گمشدہ خط مکمل حالت میں موجود نہیں
اس دریافت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ پوپ الیگزینڈر دوم کے خطوط کا مکمل سرکاری ریکارڈ آج موجود نہیں۔ تحقیق کے مطابق ان کے خطوط کا اصل مجموعہ ضائع ہوچکا ہے تاہم بعض خطوط کے نسخے یا اقتباسات قرون وسطیٰ کے دیگر مجموعوں میں محفوظ رہ گئے۔
مزید پڑھیں :
سعودی خاندان کی شادی کے لیے 500 کلو وزنی دیوہیکل کیک تیار
اسی طرح زیر بحث خط بھی مکمل شکل میں دستیاب نہیں بلکہ اس کے دو اقتباسات مذہبی قانونی متون کے مجموعوں میں محفوظ ملے ہیں۔ پروفیسر لائسنس نے انہی محفوظ حصوں کو تاریخی پس منظر کے ساتھ جوڑ کر خط کے ممکنہ سیاسی مفہوم کی وضاحت کی ہے۔
ہیسٹنگز کی جنگ سے پہلے ہی فیصلہ؟
نئی تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہیرالڈ کی سیاسی مشکلات شاید ہیسٹنگز کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بڑھ چکی تھیں۔ اگر پوپ اور اس کے حامیوں نے ہیرالڈ کو مخالف مذہبی دھڑے کے قریب سمجھا تو ولیم کی مہم کو اس کے خلاف ایک جائز اقدام کے طور پر پیش کرنا آسان ہوگیا ہوگا۔
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ پوپ کی حمایت اکیلے انگلستان کی فتح کا فیصلہ نہیں کرسکتی تھی۔ ولیم کو فوج تیار کرنے، بحری بیڑا جمع کرنے اور انگلستان پہنچنے کے بعد ایک بڑی فوجی مہم چلانے کی ضرورت تھی۔ بالآخر ہیسٹنگز کی جنگ نے انگلستان کے اقتدار کا فیصلہ کیا۔
1066 کی تاریخ کو دیکھنے کا نیا زاویہ
پروفیسر ٹام لائسنس کے مطابق 1066 کا نتیجہ صرف ہیسٹنگز کے میدان میں ہونے والے واقعات سے تشکیل نہیں پایا بلکہ روم میں ہونے والے فیصلوں نے بھی اس تاریخی موڑ کو متاثر کیا ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیق انگلستان، نارمنڈی، روم، مقدس رومی سلطنت اور مغربی مسیحی دنیا کے مختلف طاقتور گروہوں کے درمیان تعلقات کو ایک ہی وسیع سیاسی منظرنامے کا حصہ قرار دیتی ہے۔
مزید پڑھیں :
لائیو نشریات کے دوران نیوز اینکر سو گئیں، کیمرہ چلتا رہا، پھر کیا ہوا؟
یوں تقریباً ایک ہزار سال پرانے گمشدہ خط کے محفوظ اقتباسات نے نارمن فتح کی روایتی کہانی میں ایک نیا باب شامل کردیا ہے۔ ہیسٹنگز کی جنگ بلاشبہ انگلستان کے تخت کا فیصلہ کن میدان تھی، تاہم نئی تحقیق کے مطابق اس جنگ کے سیاسی اور مذہبی جواز کی تشکیل ممکنہ طور پر روم میں بہت پہلے شروع ہوچکی تھی۔ یہ دریافت اس بات پر نئی بحث کو جنم دیتی ہے کہ 1066 میں انگلستان کی قسمت صرف تلوار اور میدان جنگ نے نہیں بلکہ یورپ کی مذہبی سیاست نے بھی کسی حد تک طے کی تھی۔
