اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جبکہ اس بار پاکستان ممکنہ طور پر میزبان کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک نے کوششیں تیز کر دی ہیں اور دونوں فریقین سے رابطے جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند روز میں مذاکرات کا نیا دور منعقد ہو سکتا ہے، جس کے لیے مقام اور وقت کے تعین پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار The New York Times کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سفارتی رابطوں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ اب بھی کھلی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست ملاقات کا امکان زیرِ غور ہے، جو مذاکرات کو نئی سمت دے سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ثالث ملک کے سفارتکار کے مطابق تہران اور واشنگٹن اصولی طور پر مذاکرات کے اگلے مرحلے پر آمادہ ہو چکے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وفود کی سطح کیا ہوگی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک سنجیدگی سے بات چیت جاری رکھنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے دوران ایران نے یورینیم افزودگی کو پانچ سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بیس سالہ معطلی پر زور دیا، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو تقریباً اکیس گھنٹے تک جاری رہا، لیکن کسی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔
اس حوالے سے امریکی نائب صدر J. D. Vance نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ چکا ہے، اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ ایران ایک منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے، جبکہ روس کے وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے اس بات پر زور دیا کہ کسی نئی جنگ سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے اور اس بحران کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اس تنازع کے پرامن حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کا دوسرا دور کامیابی سے منعقد ہوتا ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔