یوکرین کی کینیڈا سے ہنگامی مدد کی اپیل،روس کے توانائی نظام پر حملوں کے باعث سخت سردیوں کا خطرہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یوکرینی پارلیمنٹ کے ارکان نے کینیڈا کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے روسی حملوں کے باعث ملک کے توانائی کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے فوری مدد کی اپیل کردی ہے۔ یوکرینی وفد نے خاص طور پر بجلی کے ٹرانسفارمرز کی خریداری کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آنے والی شدید سردیوں میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام برقرار رکھا جاسکے۔

سخت سردیوں کی تیاری

یوکرین کی یورپی یونین کے ساتھ انضمام سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ ایوانا کلیمپوش تسنتسادزے نے کہا کہ یوکرین ممکنہ طور پر انتہائی سخت سردیوں کے لیے تیاری کررہا ہے۔

ان کے مطابق روس سرد موسم کو بھی جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کررہا ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر توانائی اور شہری سہولیات پر حملے جاری رہے تو ایسے انسانی بحران پیدا ہوسکتے ہیں جن کی شدت کا پہلے مشاہدہ نہیں کیا گیا۔

روسی حملوں میں شدت

یوکرینی حکام کے مطابق موسم گرما کے دوران روس نے فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور یوکرین کے مختلف شہروں کو دن رات ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران 800 سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔روسی فورسز جدید جیٹ انجن والے ڈرونز، بیلسٹک میزائلوں اور گائیڈڈ گلائیڈ بموں کی بڑی تعداد استعمال کررہی ہیں، جس کا مقصد یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو دباؤ میں لانا ہے۔

شہروں کو ناقابل رہائش بنانے کا الزام

ایوانا کلیمپوش تسنتسادزے نے الزام عائد کیا کہ روسی حملوں کا مقصد یوکرینی شہروں کی آبادی کم کرنا اور انہیں رہنے کے قابل نہ چھوڑنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا اور یوکرین میں 100 سالہ شراکت داری، لاکھوں ڈرون بنانے کا منصوبہ

انہوں نے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نقصان پہنچنے سے موسم سرما میں شہریوں کو بجلی، پانی اور دیگر ضروری سہولیات کے شدید بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کینیڈا سے ٹرانسفارمرز کی مدد مانگ لی

یوکرینی وفد نے کینیڈا سے خاص طور پر بجلی کے ٹرانسفارمرز کی خریداری کے لیے تعاون طلب کیا ہے۔یوکرینی پارلیمنٹیرینز کے مطابق شمالی امریکا میں تیار ہونے والے بجلی کے ٹرانسفارمرز یورپ میں استعمال ہونے والے ٹرانسفارمرز کے ساتھ براہ راست مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے یوکرین کے موجودہ توانائی نظام کے مطابق ٹرانسفارمرز کی تیاری اور فراہمی میں مدد موسم سرما سے پہلے انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک صوبہ مدد کے لیے آگے آگیا

ایوانا کلیمپوش تسنتسادزے نے بتایا کہ کینیڈا کے ایک صوبے نے پہلے ہی اس معاملے میں مدد کے لیے آمادگی ظاہر کردی ہے، تاہم انہوں نے صوبے کا نام بتانے سے گریز کیا۔

ان کے مطابق جمعرات کو اونٹاریو حکومت کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی یوکرین کے لیے ٹرانسفارمرز کی مالی معاونت کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے نظام کے لیے ٹرانسفارمرز کی مدد ایک ایسا عملی اور مخصوص قدم ہے جو کینیڈا اٹھا سکتا ہے۔

الیکٹرانک جنگی آلات کا بھی مطالبہ

یوکرینی وفد نے کینیڈا سے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید الیکٹرانک وارفیئر آلات فروخت کرنے اور مزید فضائی میزائلوں کی خریداری میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی۔

وفد نے کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبوں سے یورپی یونین کی ایک ایجنسی، انرجی کمیونٹی، کے ذریعے چلائے جانے والے توانائی کے امدادی پیکیجز میں مالی تعاون شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

جنگ میں نئے فریق شامل ہونے کا دعویٰ

یوکرینی پارلیمنٹیرین اولیکساندر میریزکو نے کہا کہ مکمل جنگ شروع ہوئے ساڑھے چار سال گزرنے کے بعد صورتحال مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

ان کے مطابق یوکرین اب صرف روس کے خلاف نہیں لڑ رہا بلکہ کئی ممالک بالواسطہ یا براہ راست اس جنگ میں شامل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ روس کو بڑی تعداد میں ڈرون فراہم کررہا ہے، جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے بھی گولہ بارود اور افرادی قوت فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

زیلنسکی کا بھی عالمی برادری سے مطالبہ

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران روس کی جنگ میں دوسرے ممالک کے شہریوں کی شمولیت کا معاملہ اٹھایا۔

زیلنسکی کے مطابق روس نے جنگ کو عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے اور 47 ممالک کے شہریوں کو روس کی جانب سے جنگ میں حصہ لینے کے لیے بھرتی کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :زیلنسکی نے کینیڈا اور امریکا کے تنازع کو ’خطرناک‘ قرار دے دیا، روس یوکرین جنگ سے موازنہ

انہوں نے ان ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شہریوں کو روس کی جنگ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

یوکرینی وفد کا کینیڈا کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کیف آنے والی سردیوں سے قبل اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو روسی حملوں سے بچانے کے لیے بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کی کوششیں تیز کررہا ہے۔

ہمیں فالو کریں