کیوبیک انتخابی مباحثہ: صحت کے شعبے پر حکمران جماعت شدید تنقید کی زد میں آگئی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں صوبائی انتخابات سے قبل آخری انتخابی مباحثے میں صحت کے شعبے کی کارکردگی اور گزشتہ آٹھ برس کے دوران کیے گئے وعدوں پر حکمران کولیشن ایونیر کیوبیک (CAQ) کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کی رات ہونے والے تیسرے اور آخری مباحثے میں پانچوں جماعتوں کے رہنماؤں نے صحت عامہ، فیملی ڈاکٹرز کی دستیابی، اسپتالوں میں انتظار کے وقت اور سرکاری و نجی شعبے کے ممکنہ اشتراک سمیت مختلف معاملات پر اپنے مؤقف پیش کیے۔

صحت کے وعدے پھر دہرائے گئے

کیوبیک لبرل پارٹی کے رہنما چارلس ملیارڈ نے CAQ پر الزام عائد کیا کہ جماعت نے گزشتہ انتخابات میں صحت کے شعبے سے متعلق کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور اب ایک بار پھر وہی وعدے کیے جارہے ہیں۔

ملیارڈ کے مطابق بہت سے کیوبیکرز خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں کیونکہ ایمرجنسی رومز میں انتظار کا وقت کم نہیں ہوسکا اور تمام شہریوں کو فیملی ڈاکٹر تک رسائی بھی نہیں مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو ایک ٹیلی ہیلتھ پلیٹ فارم متعارف کرایا جائے گا جس کے ذریعے شہری بغیر پیشگی اپائنٹمنٹ کے طبی ماہر سے مشورہ کرسکیں گے۔

پی کیو کی بھی تنقید

پارٹی کیوبیکوا کے رہنما پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے بھی CAQ کی صحت سے متعلق پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ناکام ہونے والے وعدوں کو دوبارہ انتخابی مہم میں پیش کرنا عوام کی سمجھ بوجھ کی توہین کے مترادف ہے۔

پارٹی کیوبیکوا معمولی نوعیت کی ہنگامی طبی ضروریات کے لیے مزید سرکاری CLSCs قائم کرنے کی تجویز دے رہی ہے۔ جماعت کے مطابق اس سے اسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں پر دباؤ کم کیا جاسکتا ہے اور سرجری کے لیے انتظار کا وقت بھی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کا مؤقف

کیوبیک کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ایرک دوہائم نے بھی فیملی ڈاکٹرز کی تعداد بڑھانے اور اسپتالوں میں انتظار کا وقت کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر انتخاب کے دوران یہی مسائل دوبارہ زیر بحث آتے ہیں اور سیاسی جماعتیں بار بار انہی معاملات پر بات کرتی ہیں۔

تاہم دوہائم نے تنقید کا دائرہ CAQ تک محدود نہیں رکھا اور کہا کہ صحت کے شعبے میں وعدے پورے نہ ہونے کا مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے، جس کی ذمہ داری سابقہ پی کیو اور لبرل حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

سرکاری اور نجی شعبے کا ماڈل

دوہائم نے صحت کے شعبے میں سرکاری اور نجی نظام کے امتزاج پر مبنی ’’مکسڈ پریکٹس‘‘ ماڈل کی حمایت کی۔ان کے مطابق فرانس اور جرمنی سمیت دنیا کے بعض ممالک میں صحت کے ایسے نظام موجود ہیں جن میں سرکاری اور نجی شعبہ دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے ابتدائی خطاب میں بھی صحت کے شعبے میں نجی شعبے کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کی بات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :کیوبیک کا نیا بوتل ریفنڈ نظام: صارفین کو طویل قطاروں اور محدود مراکز کی مشکلات کا سامنا

CAQ کا دفاع

CAQ کی سربراہ کرسٹین فریشیت نے اعتراف کیا کہ صحت کے شعبے میں ابھی بہت کام باقی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے کئی شعبوں میں بہتری بھی لائی ہے۔

انہوں نے سرجریوں کی تعداد میں اضافے اور سیکڑوں ہزاروں شہریوں کو فیملی ڈاکٹرز کے گروپس کے ساتھ رجسٹر کیے جانے کا حوالہ دیا۔

فریشیت نے مکسڈ پریکٹس ماڈل پر بھی غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ ان کے مطابق جو مریض سرجری کے لیے نو ماہ تک انتظار کرچکے ہوں، انہیں بغیر اضافی لاگت کے نجی شعبے میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

کیوبیک سالیڈیر کی مخالفت

کیوبیک سالیڈیر کی شریک ترجمان روبہ غزال نے سرکاری اور نجی شعبے کے امتزاج کی مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے لیے ڈاکٹرز کہاں سے آئیں گے، بالآخر وہ سرکاری نظام ہی سے منتقل ہوں گے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح نجی شعبے کو مضبوط کرنے کی کوشش سرکاری صحت کے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔

Santé Québec بھی زیر بحث

مباحثے میں Santé Québec کے مستقبل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پارٹی کیوبیکوا کی جانب سے Santé Québec کو ختم کرنے کی خواہش پر دیگر تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے تنقید کی۔یہ معاملہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مباحثے میں بھی نمایاں رہا تھا۔

امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ

صحت کے علاوہ امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی بھی آخری مباحثے کا اہم موضوع رہی۔ایرک دوہائم نے کرسٹین فریشیت پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تجارتی جنگ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خاموش رہنے کا رویہ اختیار کیا اور کیوبیک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔انہوں نے کیوبیک کے ردعمل کا موازنہ اونٹاریو کے اقدامات سے بھی کیا۔

ٹیرف پر اختلاف

پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے CAQ کی جانب سے امریکا کے خلاف ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جوابی ٹیرف سے گریز کرنے کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق اوٹاوا نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا، جس سے مذاکرات میں کیوبیک کی پوزیشن اور حکمت عملی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

فریشیت نے اپنے دفاع میں کہا کہ کیوبیک میں ملازمتوں کا نقصان اتنا شدید نہیں جتنا بعض حلقوں کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے۔اس پر چارلس ملیارڈ نے جواب دیا کہ دونوں نے ایک جیسے کاروباری مالکان سے ملاقات نہیں کی۔

انتخاب سے پہلے آخری بڑا مباحثہ

ریڈیو کینیڈا کے زیر اہتمام یہ مباحثہ صوبائی انتخابات سے 12 روز قبل ہوا اور تمام پانچوں جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے ایک ہی اسٹیج پر براہ راست ایک دوسرے کو جواب دینے کا آخری موقع تھا۔

کیوبیک میں صوبائی انتخابات 5 اکتوبر 2026 کو ہونے ہیں۔ اس انتخابی مہم کے دوران اب تک تینوں مرکزی مباحثے فرانسیسی زبان میں ہوئے ہیں اور اس سال انگریزی زبان میں کوئی مباحثہ منعقد نہیں کیا گیا۔

ہمیں فالو کریں