اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)خلیج میں امن مذاکرات میں واضح پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مجموعی طور پر مثبت رجحان دیکھا گیا، جہاں بیشتر حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ ایک جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہے تو دوسری جانب امریکا کے معاشی اعداد و شمار اور ممکنہ شرح سود کے فیصلوں کو بھی قریب سے دیکھا جارہا ہے۔
مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی
خلیج میں جاری امن مذاکرات میں نمایاں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی مارکیٹ میں تشویش برقرار ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی رسد کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس راستے سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں معمولی ریلیف کیوں؟ پٹرولیم قیمتوں کے پیچھے چھپی حقیقت
ایران کا اہم اعلان
ایران نے اتوار کو کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے نئے راستوں کے تعین سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے۔
تہران کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور نئے بحری راستوں کے حوالے سے ایک انتظام طے پانے کے قریب ہے۔
تاہم ایران نے ساتھ ہی واضح کردیا کہ صرف نئے بحری راستوں کا تعین کافی نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
تیل کی ترسیل محدود
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل انتہائی محدود رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 84.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی 0.7 فیصد اضافے کے بعد 78.74 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سرمایہ کار خلیج میں جاری صورتحال کے باعث مستقبل میں توانائی کی رسد کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایشیائی مارکیٹس میں تیزی
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مجموعی طور پر مثبت رجحان دیکھا گیا۔امریکی روزگار کے حالیہ کمزور اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ توقع بڑھ گئی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔
شرح سود میں ممکنہ استحکام یا مستقبل میں کمی کی امید نے وال اسٹریٹ پر مثبت رجحان پیدا کیا، جس کے اثرات ایشیائی مارکیٹوں میں بھی دیکھے گئے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈ پر
امریکی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والے حالیہ اعداد و شمار نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ ایک مرتبہ پھر فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کی جانب مبذول کردی ہے۔
روزگار کے کمزور اعداد و شمار سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکی مرکزی بینک معاشی سرگرمیوں کو مزید دباؤ میں ڈالنے سے گریز کرسکتا ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کار شرح سود کے حوالے سے آئندہ فیصلوں کے لیے امریکا کے نئے معاشی اعداد و شمار کا انتظار کررہے ہیں۔
مہنگائی کے اعداد و شمار اہم
ایندھن کی قیمتوں میں تازہ اضافے نے امریکا میں بدھ کو جاری ہونے والے جولائی کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جولائی کے دوران مجموعی مہنگائی میں 0.1 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی میں 0.2 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
اگر مہنگائی توقعات سے زیادہ بڑھتی ہے تو فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے بارے میں سرمایہ کاروں کی توقعات بھی تبدیل ہوسکتی ہیں۔
تیل اور مہنگائی کا تعلق
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دیگر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تیل مہنگا ہونے سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے بعد مہنگائی پر بھی دباؤ آنے کا خدشہ رہتا ہے۔اسی لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کو مرکزی بینک اور سرمایہ کار خاص اہمیت دیتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا مستقبل اہم
اب عالمی منڈیوں کی نظریں ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے پر مرکوز ہیں۔اگر بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے قابل قبول انتظام طے پا جاتا ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں موجود خطرات کم ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر مذاکرات میں مزید تاخیر ہوئی یا امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار رہے تو تیل کی رسد سے متعلق خدشات قیمتوں کو مزید اوپر لے جاسکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں خلیج کی سیاسی پیش رفت، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور امریکا کے مہنگائی کے اعداد و شمار عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم عوامل بن گئے ہیں۔