اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)1992 میں کونکورڈیا یونیورسٹی میں فائرنگ کر کے چار افراد کو قتل کرنے والا مجرم ویلری فیبریکنٹ 86 برس کی عمر میں جیل میں انتقال کر گیا۔
کینیڈا کی اصلاحی سروس (Correctional Service Canada) نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ ویلری فیبریکنٹ ہفتے کے روز بظاہر طبعی وجوہات کے باعث انتقال کر گیا۔ وہ لارنٹینز کے علاقے سینٹ این ڈے پلینز میں واقع آرشمبولٹ انسٹیٹیوشن میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا، جہاں درمیانی اور کم سکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔
ادارے کے مطابق ہر قیدی کی موت کی طرح اس واقعے سے بھی پولیس اور کورونر کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ویلری فیبریکنٹ، جو کونکورڈیا یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کا سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر تھا، نے 24 اگست 1992 کو یونیورسٹی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں چار پروفیسرز ہلاک جبکہ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی سیکریٹری زخمی ہو گئی تھیں۔
فائرنگ کے روز سول انجینئرنگ کے پروفیسر میتھیو میک کارٹنی ڈگلس اور کیمسٹری کے پروفیسر مائیکل گورڈن ہوگبین ہلاک ہوئے، جبکہ مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر آرون جان سیبر اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ فویوس زیوگاس ایک ماہ بعد زخموں کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ زخمی سیکریٹری الزبتھ ہورووڈ کو طبی امداد کے بعد بچا لیا گیا تھا۔
اس سانحے کے بعد یونیورسٹی نے دو تحقیقاتی کمیشن قائم کیے۔ 1994 میں شائع ہونے والی پہلی رپورٹ میں کہا گیا کہ فیبریکنٹ نے یونیورسٹی میں 13 برس کے دوران ایسا رویہ اختیار کیا جو مختلف اوقات میں "ناگوار سے ناقابل برداشت” تک قرار دیا گیا اور اس نے متعدد افراد کو مشکلات سے دوچار کیا۔
رپورٹ کے مطابق جرم سے قبل فیبریکنٹ کو ملازمت سے برطرف کیے جانے کا سامنا تھا، جبکہ وہ اپنے ساتھی اساتذہ پر اپنے تحقیقی کام کی چوری کے الزامات بھی عائد کرتا رہا۔
8 جون 1993 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے بعد بھی وہ مختلف معاملات پر متعدد مرتبہ عدالتوں سے رجوع کرتا رہا۔
سن 2020 میں کینیڈا کے پیرول بورڈ نے اس کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ بورڈ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگرچہ فیبریکنٹ خود کو معاشرے کے لیے خطرہ نہیں سمجھتا، تاہم اس کی نگرانی کرنے والی ٹیم اس رائے سے متفق نہیں تھی۔
بورڈ نے قرار دیا تھا کہ 28 سال جیل میں گزارنے کے باوجود فیبریکنٹ نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس نے بے گناہ افراد پر حملہ کیا تھا، اس لیے اس کی رہائی معاشرے کے لیے غیر معمولی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔