اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے لبرل رکن پارلیمنٹ شان چن کی جانب سے ایوانِ نمائندگان کی نشست سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین، دائیں بازو سے وابستہ شخصیات اور چند موجودہ و سابق کنزرویٹو ارکانِ پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ شان چن نے رواں سال چین میں موجودگی کے دوران کینیڈین پارلیمنٹ میں قانون سازی پر ووٹ دیا، جو ایوان کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی ہے۔
یہ دعویٰ بنیادی طور پر چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر شیئر ہونے والی ان ویڈیوز کی تاریخوں کو بنیاد بنا کر کیا گیا جن میں شان چن کو چین میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم دستیاب سفری دستاویزات اور شان چن کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اس دعوے کی مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
الزام کیسے سامنے آیا؟
آزاد صحافی اینڈی لی نے سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس کے ذریعے سوال اٹھایا کہ شان چن نے 25 مارچ کو چین میں موجود ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹ کیسے دیا۔
ان کے مطابق وی چیٹ پر ایک ویڈیو 25 مارچ کو پوسٹ کی گئی جس میں شان چن چین میں آئس کریم کھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اسی روز ایوان میں چھ مرتبہ الیکٹرانک ووٹ دیا۔
اسی بنیاد پر بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر شان چن نے چین سے ووٹ دیا تو کیا یہ قومی سلامتی اور پارلیمانی سکیورٹی کے حوالے سے سنگین معاملہ ہوسکتا ہے؟
معاملہ اس وقت مزید سیاسی رنگ اختیار کر گیا جب کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ جان بارلو نے شان چن کے سفر سے متعلق ایک سوشل میڈیا تھریڈ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ محض چین کے دورے تک محدود نہیں بلکہ کئی سوالات کے جواب درکار ہیں۔
بل سی 9 بھی زیر بحث
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے متعدد دعووں میں خاص طور پر کینیڈین حکومت کے متنازع نفرت انگیز جرائم سے متعلق قانون سازی، بل سی 9 کا ذکر کیا گیا۔
دعویٰ کیا گیا کہ شان چن نے 25 مارچ کو اس قانون سازی پر اس وقت ووٹ دیا جب وہ چین میں موجود تھے۔ اس کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید ایک کینیڈین رکن پارلیمنٹ نے ملک سے باہر بیٹھ کر حساس قانون سازی میں حصہ لیا۔
تاہم بعد میں خود اینڈی لی نے بھی اس امکان کو تسلیم کیا کہ وی چیٹ پر موجود ویڈیوز میں ترمیم کی گئی ہو یا انہیں سفر ختم ہونے کے بعد اپ لوڈ کیا گیا ہو۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ شان چن کے چین میں رہتے ہوئے ووٹ دینے کے امکان پر سوال اٹھانا جائز ہے۔
پارلیمانی قواعد کیا کہتے ہیں؟
کینیڈا کے ایوانِ نمائندگان کے قواعد کے مطابق ارکان پارلیمنٹ بیرونِ ملک موجودگی کے دوران ایوان کے ووٹ میں حصہ نہیں لے سکتے۔
الیکٹرانک ووٹنگ کے حوالے سے بھی واضح طریقہ کار موجود ہے۔ ارکان کو ایک مخصوص ایپ کے ذریعے اپنا ووٹ ریکارڈ کرنا ہوتا ہے اور اس عمل میں ان کی شناخت کی بصری تصدیق کی جاتی ہے۔
ووٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے نظام میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ووٹ ڈالنے والا وہی رکن پارلیمنٹ ہے جس کے نام سے ووٹ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
ایوان کے اسپیکر فرانسس اسکارپیلیا کے دفتر کے ترجمان کے مطابق ووٹنگ کے دوران تکنیکی کنٹرولز اور انسانی تصدیق کے متعدد مراحل موجود ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ارکان ملک کے اندر موجود ہیں۔
شان چن کے دفتر کا مؤقف
شان چن کے دفتر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمنٹ نے چین میں موجود ہوتے ہوئے کوئی ووٹ نہیں دیا۔
دفتر کے مطابق شان چن 14 مارچ سے 22 مارچ تک چین میں تھے اور 22 مارچ کو چین سے روانہ ہوئے۔ ان کے دفتر نے ان کی بورڈنگ پاس کی نقل بھی فراہم کی، جس کے مطابق وہ 22 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 50 منٹ پر تائیوان کے شہر تائی پے سے ٹورنٹو کے لیے روانہ ہوئے۔
تائی پے سے ٹورنٹو کی پرواز عموماً تقریباً 14 گھنٹے لیتی ہے، تاہم وقت کے فرق کی وجہ سے مسافر اسی تاریخ کو ٹورنٹو پہنچتے ہیں۔
شان چن کے دفتر کے مطابق وہ 23 مارچ کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا واپس پہنچ چکے تھے۔ یوں 25 مارچ کو ان کی جانب سے چین سے ووٹ دینے کا دعویٰ ان کے فراہم کردہ سفری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاسپورٹ بھی اہم ثبوت
کینیڈین پریس نے شان چن کے پاسپورٹ پر موجود ویزا اسٹیمپس کی تصویر بھی دیکھی، جن کے مطابق چین میں ان کی آمد 14 مارچ اور روانگی 22 مارچ کو ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :جنسی ہراسانی کا مقدمہ ،ویسٹ جیٹ 45 لاکھ کینیڈین ڈالر ادا کرنے پر رضامند، ہزاروں فلائٹ اٹینڈنٹس کو ادائیگی ہوگی
اگرچہ نجی معلومات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس تصویر کو عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا، تاہم کینیڈین پریس کے مطابق پاسپورٹ کے ریکارڈ بھی شان چن کے دفتر کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ ان کا چین کا سفر 22 مارچ کو ختم ہوگیا تھا۔
شان چن کے دفتر نے واضح کیا کہ مئی 2019 کے بعد یہ ان کا چین کا پہلا اور واحد دورہ تھا۔
دورہ کیوں کیا گیا؟
شان چن کا چین کا دورہ حکومتی یا ذاتی تعطیلاتی سفر نہیں تھا بلکہ ہاکا کینیڈین ایسوسی ایشن کی جانب سے اسپانسر کیا گیا دورہ تھا۔
یہ تنظیم کینیڈا میں ہاکا برادری کے افراد کے درمیان دوستی اور روابط کے فروغ کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ تنظیم کے سربراہ مارکھم کے کونسلر جو لی ہیں۔
کینیڈا کے مفادات کے ٹکراؤ اور اخلاقیات کے کمشنر کے دفتر کی جانب سے بھی شان چن کے دورہ چین سے متعلق عوامی معلومات جاری کی گئی تھیں۔ دورے کی دعوت میں بتایا گیا تھا کہ یہ سفر 14 سے 22 مارچ تک جاری رہا اور اس دوران سات راتوں کے لیے ہوٹل میں قیام شامل تھا۔
سائبر سکیورٹی کا خدشہ
شان چن کے دفتر نے ایوانِ نمائندگان کے آئی ٹی عملے کے ساتھ ہونے والی ای میلز بھی شیئر کیں، جن میں چین کے دورے کے دوران انہیں عارضی فون، سم کارڈ اور قرض پر دیا گیا ٹیبلٹ فراہم کرنے سے متعلق انتظامات شامل تھے۔
ان رابطوں میں یہ بھی درج تھا کہ شان چن کے سفر کو ممکنہ طور پر زیادہ سائبر سکیورٹی خطرے والا سفر قرار دیا گیا تھا۔
یہ تفصیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارلیمانی حکام کو ان کے بیرون ملک سفر کے بارے میں سکیورٹی خدشات کا علم تھا اور ان کے آلات کے استعمال کے حوالے سے احتیاطی اقدامات کیے گئے تھے۔
صحت کا معاملہ بھی زیر بحث
شان چن نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ سال ٹورنٹو اور اوٹاوا کے درمیان سفر کے دوران وہ ایک گاڑی کے حادثے کا شکار ہوئے تھے۔
ان کے مطابق حادثے کے بعد صحت سے متعلق جاری مسائل کے باعث ان کے لیے اوٹاوا کا اتنا باقاعدگی سے سفر کرنا ممکن نہیں رہا جتنا پارلیمانی ذمہ داریوں کے لیے ضروری ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اگلے ماہ اپنی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم ان کے ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وہ چین کا سفر کرنے کے قابل تھے تو اوٹاوا کا سفر کرنے میں مشکلات کیوں پیش آرہی تھیں۔
شان چن کے دفتر کا کہنا ہے کہ چین کا دورہ ایک مخصوص دعوت پر کیا گیا محدود مدت کا سفر تھا، جبکہ پارلیمانی ذمہ داریوں کے لیے مسلسل اور باقاعدہ سفر درکار ہوتا ہے۔
دعوے اور شواہد
مجموعی طور پر شان چن کے خلاف چین میں موجودگی کے دوران پارلیمانی ووٹ دینے کا الزام وی چیٹ ویڈیوز کی پوسٹ ہونے والی تاریخوں پر مبنی ہے۔ دوسری جانب ان کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ بورڈنگ پاس، پاسپورٹ کے سفری ریکارڈ اور دورے سے متعلق سرکاری عوامی معلومات بتاتی ہیں کہ ان کا چین کا سفر 22 مارچ کو ختم ہوچکا تھا۔
چونکہ 25 مارچ کو پارلیمانی ووٹنگ ہوئی، اس لیے صرف وی چیٹ پر کسی ویڈیو کے 25 مارچ کو پوسٹ ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ویڈیو بھی اسی دن ریکارڈ ہوئی تھی۔
پارلیمانی حکام کے مطابق ووٹنگ کے نظام میں ارکان کے مقام اور شناخت کی جانچ کے لیے تکنیکی اور انسانی حفاظتی اقدامات بھی موجود ہیں۔
اس لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر شان چن کے چین میں رہتے ہوئے ووٹ دینے کا دعویٰ ثابت شدہ حقیقت کے بجائے ایک ایسا سوال ہے جو سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی تاریخوں کی بنیاد پر اٹھایا گیا، جبکہ دستیاب سفری شواہد اس الزام کی براہ راست تصدیق نہیں کرتے۔
