اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں ایک نئے سروے کے مطابق حکمران یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (یو سی پی) اور اپوزیشن نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کو صوبے بھر میں ووٹرز کی یکساں حمایت حاصل ہے۔
دونوں جماعتیں 41 فیصد پر
جینیٹ براؤن اوپینین ریسرچ کے سروے کے مطابق یو سی پی اور این ڈی پی دونوں کو صوبے بھر میں 41، 41 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ یہ نتائج چند ماہ پہلے کے مقابلے میں یو سی پی کی حمایت میں نمایاں کمی اور این ڈی پی کے لیے قابل ذکر اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سروے کے مطابق اپریل کے بعد یو سی پی کی حمایت میں 8 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ این ڈی پی کی مقبولیت میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تقریباً چھ ماہ قبل یو سی پی کو اپوزیشن جماعت پر واضح برتری حاصل تھی، تاہم تازہ اعداد و شمار میں دونوں جماعتیں برابر سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
این ڈی پی نے پیش رفت کو اہم قرار دے دیا
البرٹا این ڈی پی کے رہنما نِہید نینشی نے سروے کے ساتھ سامنے آنے والے نشستوں کے تخمینوں کو اپنی جماعت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
نینشی نے کہا کہ اگر اس وقت صوبے میں انتخابات کرائے جائیں تو سروے سے منسلک نشستوں کے تخمینے کے مطابق البرٹا نیو ڈیموکریٹس کو واضح اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
کیلگری میں ضمنی انتخاب کا اثر
یہ سروے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب این ڈی پی نے چند ہفتے قبل کیلگری شاو کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کامیابی کو بعض سیاسی مبصرین نے کیلگری میں این ڈی پی کی بڑھتی ہوئی حمایت کی علامت قرار دیا ہے۔
کیلگری طویل عرصے سے البرٹا کی سیاست میں یو سی پی کے لیے اہم سیاسی میدان رہا ہے، اس لیے شہر میں اپوزیشن جماعت کی انتخابی کامیابی کو صوبے کے مجموعی سیاسی رجحانات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ریفرنڈم بھی سیاسی بحث کا مرکز
ماؤنٹ رائل یونیورسٹی کی پالیسی اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر لوری ولیمز کے مطابق ووٹرز کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ اب صوبائی سیاست پر زیادہ توجہ دینا شروع کر رہے ہیں اور یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہونے والے ریفرنڈم میں کس طرح ووٹ دینا ہے۔
عوام میں مختلف آرا
سروے کے دوران بعض البرٹا کے شہریوں نے صوبائی حکومت اور آئندہ ریفرنڈم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ایک ووٹر نے ریفرنڈم کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے لیے کوئی خاص پیش رفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں فیول سستا ہونے کی راہ ہموار، 13 سینٹ فی لیٹر ٹیکس معطل کرنے کا اعلان
تاہم ایک دوسرے ووٹر نے موجودہ حکومت کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں البرٹا میں این ڈی پی کے سابق دور کی کارکردگی پسند نہیں آئی اور وہ موجودہ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کی حکومت سے زیادہ مطمئن ہیں۔
صرف حکومت پر تنقید کافی نہیں
لوری ولیمز نے اپوزیشن جماعت کو بھی خبردار کیا کہ موجودہ سروے کے نتائج کو انتخابات کی حتمی تصویر نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر اپوزیشن جماعت حکومت سے پیدا ہونے والی عوامی بے اطمینانی سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو اسے صرف حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے عوام کے سامنے ایک واضح متبادل سیاسی وژن بھی پیش کرنا ہوگا۔
یو سی پی کی حمایت میں کمی
نینشی نے یو سی پی کی مقبولیت میں کمی کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت پر عائد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ البرٹا کے عوام جانتے ہیں کہ یو سی پی جس صورتحال میں پہنچی ہے، اس کی وجہ خود حکمران جماعت کی پالیسیاں اور اقدامات ہیں۔
دوسری جانب سروے میں عوامی ترجیحات سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ ایک ووٹر نے کہا کہ اگر یو سی پی عوام کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے سرکاری صحت کے شعبے کے لیے زیادہ فنڈنگ فراہم کرنی چاہیے اور صحت عامہ کو ترجیح دینی چاہیے۔
انتخابات میں ابھی وقت باقی
البرٹا میں اگلے صوبائی انتخابات میں تقریباً ایک سال باقی ہے، اس لیے موجودہ سیاسی صورتحال کو حتمی انتخابی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ آنے والے مہینوں میں عوامی رائے میں مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔
19 اکتوبر کو ہونے والا ریفرنڈم اور نومبر میں یو سی پی کا سالانہ اجلاس بھی صوبے کی سیاسی بحث پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان دونوں اہم مراحل کے بعد ووٹرز کی ترجیحات اور دونوں بڑی جماعتوں کی مقبولیت میں مزید تبدیلی سامنے آسکتی ہے۔
تازہ سروے نے تاہم یہ واضح کردیا ہے کہ البرٹا کی سیاست میں حکمران یو سی پی اور اپوزیشن این ڈی پی کے درمیان فرق نمایاں طور پر کم ہوچکا ہے اور صوبے کا سیاسی منظرنامہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت مقابلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
