اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں غیر معمولی اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے ایک بڑی نئی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیاں نافذ کرنے جارہا ہے، جسے وہ کسی دشمن ملک کے خلاف امریکا کی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
فیصلہ کن مرحلے کا آغاز
سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف کارروائی کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ ان کے مطابق نئی اقتصادی پالیسی کا مقصد ایرانی حکومت پر ایسا دباؤ ڈالنا ہے جس سے اس کی مالی اور معاشی بنیادیں کمزور ہوں۔
امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ نئی کارروائی کے ذریعے ایران کے لیے عالمی سطح پر معاشی سرگرمیاں جاری رکھنا مزید مشکل بنا دیا جائے گا۔
ایران کی اقتصادی شریانیں نشانے پر
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی کا بنیادی ہدف ایران کی وہ تمام اہم اقتصادی شریانیں اور مالی راستے بند کرنا ہے جو ایرانی حکومت کے نظام کو سہارا دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ تہران کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ تنہا کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھنے والے ممالک اور ادارے بھی امریکی اقدامات کی زد میں آسکتے ہیں۔
یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں صرف ایرانی اداروں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ایران کے ساتھ کاروباری یا مالی روابط رکھنے والے بیرونی فریقوں پر بھی دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ کی فوجی کارروائیوں کا حوالہ
امریکی وزیر خزانہ نے ایران کے خلاف ماضی کی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی تقریباً تمام فوجی فیکٹریاں تباہ کردی گئی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق اس بیان سے سامنے نہیں آتی، اس لیے انہیں امریکی حکومت کے مؤقف کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
حکومت کی تبدیلی کا عندیہ
سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نئی پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق امریکی حکومت کا دباؤ ایران کے موجودہ نظام کی معاشی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بیان واشنگٹن کی ایران سے متعلق پالیسی میں محض معاشی دباؤ کے بجائے سیاسی نتائج حاصل کرنے کی خواہش کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔
تمام امریکی اختیارات استعمال کرنے کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں جن میں امریکی حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کی صلاحیت، قانونی اختیارات اور دستیاب اقدامات استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن اب ان معاشی اور قانونی ذرائع کو بھی بروئے کار لاسکتا ہے جن کے استعمال کے بارے میں ماضی میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ امریکا شاید ان کا سہارا نہ لے۔
ایران کو دی گئی واضح دھمکی
بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران کئی برس تک اس تصور کے تحت اپنے نظام کو چلاتا رہا کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کی صورت میں جوابی ردعمل یقینی ہوگا۔
ان کے مطابق ماضی میں امریکا کی جانب سے بعض سخت اقدامات کے نفاذ کو مذاکرات کے ذریعے روکنے یا محدود کرنے کی گنجائش موجود رہتی تھی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ میں یہ دور ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خوف کی بنیاد پر واشنگٹن کے عزم کو آزمانا چاہتے ہیں، انہیں اس کے ممکنہ نتائج کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کا اثر صرف تہران تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ اگر امریکا ایران سے تجارت یا مالی روابط رکھنے والے دوسرے ممالک اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کرتا ہے تو عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور خطے کے کاروباری روابط متاثر ہوسکتے ہیں۔
خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے، ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات خطے میں سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
تہران کے لیے بڑا چیلنج
ایرانی حکومت پہلے ہی امریکا کی طویل مدتی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہی ہے۔ نئی پابندیوں کی صورت میں ایران کے لیے بیرونی تجارت، مالی لین دین اور اہم آمدنی کے ذرائع برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب تہران مسلسل امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا آیا ہے اور اپنے خلاف اقتصادی دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔
فیصلہ کن مرحلہ یا نئی کشیدگی؟
امریکی وزیر خزانہ کے بیان سے واضح ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ میں کمی کے بجائے مزید شدت لانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ نئی پابندیوں کا اصل اثر ایران کی معیشت اور حکومت پر کتنا پڑتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔
تاہم اگر ایران نے ان اقدامات کے جواب میں سخت ردعمل دیا تو امریکا اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی اقتصادی نظام تک پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔
