ایران کا اہم سفارتی رابطوں پر زور، پاکستان سے تعلقات کو تاریخی سطح پر قرار دے دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی امور اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کو دونوں ممالک کے درمیان موجودہ رابطوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سکیورٹی سے متعلق معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

امریکا پر سخت تنقید

ایرانی ترجمان نے امریکا کی اقتصادی پالیسیوں پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران امریکی اقتصادی دباؤ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

اسماعیل بقائی نے امریکی اقتصادی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان پابندیوں کے سامنے اپنا مؤقف برقرار رکھے گا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی اور سیاسی اختلافات بدستور شدید ہیں۔

عمانی وزیر خارجہ کا دورہ

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق سلطنت عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی بھی کل تہران پہنچیں گے۔ ایرانی حکام نے اس دورے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق عمانی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران آبنائے ہرمز سے متصل ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت کو مزید آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

آبنائے ہرمز پر مشاورت

آبنائے ہرمز خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی اس کی خاص اہمیت ہے۔ اس لیے اس خطے میں سکیورٹی اور آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایران مکمل جنگ کی حالت میں ہے، معاشی مسائل پر حکومت شرمندہ ہے: صدر پیزشکیان

ایران کی جانب سے ساحلی ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت بڑھانے کا عندیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران علاقائی سطح پر براہ راست رابطوں کو اہمیت دے رہا ہے۔

مکہ معاہدے سے متعلق وضاحت

اسماعیل بقائی نے مکہ معاہدے میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو اس معاہدے میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے اس معاملے پر کسی حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ ایران کو تاحال باضابطہ دعوت نہیں دی گئی۔

پاکستان ایران تعلقات مضبوط

ایرانی ترجمان نے پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کو بھی انتہائی مثبت انداز میں بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران بھی اسی وسیع سفارتی رابطہ کاری کا حصہ ہے۔

خطے میں نئی سفارتی سرگرمی

پاکستان، ایران اور عمان کے درمیان بیک وقت ہونے والی سفارتی سرگرمیاں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، ایران اور عمان کے درمیان سیاسی مشاورت اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں مستقبل کی علاقائی سفارت کاری پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ امریکی اقتصادی دباؤ کو مسترد کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران علاقائی ممالک کے ساتھ سیاسی رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور عمان کے ساتھ اس کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم راستہ بن سکتی ہیں۔

ہمیں فالو کریں