سنگاپور میں بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لیے بڑا پیکیج، خاندانوں کو فی بچے 70 ہزار سنگاپور ڈالر تک سہولتیں

سنگاپور (ویب نیوز): سنگاپور حکومت نے ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش سے نمٹنے کے لیے خاندانوں کی مالی معاونت بڑھانے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ نئے اقدامات کے تحت والدین کو ہر بچے کی پیدائش اور پرورش کے دوران مختلف مراحل پر مالی مدد اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن کی مجموعی مالیت 70 ہزار سنگاپور ڈالر سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہے۔

وزیراعظم لارنس وونگ نے نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خاندانوں کو بچوں کی پرورش میں درپیش مالی اور عملی مشکلات کم کرنے کے لیے مزید مدد فراہم کرے گی۔

سنگاپور میں شرحِ پیدائش خطرناک حد تک کم

سنگاپور کو کئی برس سے آبادی میں کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ ملک کی شرحِ پیدائش گزشتہ سال کم ہو کر 0.87 بچے فی خاتون کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جو آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار تقریباً 2.1 کی شرح سے کہیں کم ہے۔

حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ملک کی افرادی قوت، معیشت اور سماجی نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

والدین کو ہزاروں ڈالر کی مالی مدد

نئے منصوبے کے تحت خاندانوں کو بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم اور پرورش تک مختلف مراحل میں مالی معاونت دی جائے گی۔

نئے پیکیج میں بچے کی پیدائش کے وقت S$10,000 کی اضافی رقم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے مرحلے پر بھی مزید مالی معاونت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

مختلف حکومتی سہولتوں، گرانٹس اور دیگر مراعات کو ملا کر ایک بچے کے لیے خاندان کو ملنے والی مجموعی حکومتی معاونت S$70,000 سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

تعلیم اور بچوں کی دیکھ بھال پر بھی توجہ

سنگاپور حکومت نے صرف نقد رقم دینے کے بجائے بچوں کی پرورش کے اخراجات کم کرنے کے لیے دیگر سہولتوں میں بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان اقدامات میں بچوں کی تعلیم اور صحت سے متعلق معاونت، پری اسکول فیس میں سہولت، بچوں کی دیکھ بھال اور والدین کے لیے زیادہ معاونت شامل ہے۔

حکومت کا مقصد یہ ہے کہ والدین کو بچے کی پیدائش کے بعد صرف ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ کئی سال تک مسلسل مالی اور عملی مدد حاصل رہے۔

والدین کے لیے چھٹیوں میں بھی اضافہ

نئے اقدامات میں کام کرنے والے والدین کے لیے حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹیوں میں اضافے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

حکومت کا خیال ہے کہ مالی مدد کے ساتھ والدین کو بچے کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے مناسب چھٹیوں کی سہولت بھی ملنی چاہیے۔

اس سے خاص طور پر ایسے خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جہاں دونوں والدین ملازمت کرتے ہیں اور بچے کی دیکھ بھال کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے۔

گھر حاصل کرنے میں خاندانوں کو ترجیح

سنگاپور میں رہائش بھی خاندان شروع کرنے والے نوجوان جوڑوں کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

نئے اقدامات کے تحت بچوں والے خاندانوں کے لیے سرکاری رہائش حاصل کرنے کے امکانات اور سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ خاندانوں کو مناسب رہائش، بچوں کی دیکھ بھال اور مالی تحفظ فراہم کرنا شرحِ پیدائش میں بہتری لانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

حکومت کے لیے بڑا آبادیاتی چیلنج

سنگاپور کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہورہی ہے۔ حکام کے مطابق 2030 تک ملک کے شہریوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہوسکتا ہے۔

اس صورتحال میں نوجوان افرادی قوت کی تعداد کم ہونے سے مستقبل میں کاروبار، صحت، پنشن اور دیگر سماجی خدمات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے حکومت بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ملک میں پائیدار امیگریشن پالیسی کو بھی آبادیاتی حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

کیا مالی مراعات سے شرحِ پیدائش بڑھے گی؟

وزیراعظم لارنس وونگ نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صرف حکومتی مالی امداد شرحِ پیدائش میں کمی کے مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوسکتی۔

ماہرین کے مطابق نوجوان جوڑوں کے فیصلوں پر رہائش کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، ملازمت کا دباؤ، کام اور خاندانی زندگی میں توازن اور مستقبل کے معاشی خدشات جیسے کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

اسی لیے سنگاپور حکومت نے مالی مدد کے ساتھ خاندان دوست پالیسیوں کو بھی وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنگاپور کے لیے مستقبل کا اہم امتحان

نئے اقدامات کو حکومت کی جانب سے خاندانوں کے لیے اب تک کے بڑے سپورٹ پیکجز میں شمار کیا جارہا ہے۔ تاہم اصل کامیابی کا اندازہ آنے والے برسوں میں شرحِ پیدائش کے اعداد و شمار سے ہوگا۔

اگر نئی مراعات نوجوان جوڑوں کو خاندان شروع کرنے یا مزید بچے پیدا کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ سنگاپور کی آبادیاتی پالیسی کے لیے اہم کامیابی ہوگی۔

تاہم اگر شرحِ پیدائش مسلسل کم رہتی ہے تو حکومت کو مالی مراعات کے ساتھ مزید طویل مدتی پالیسی اقدامات بھی کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں