سنگاپور میں آن لائن فراڈ کا بڑا انکشاف، 6 ماہ میں شہری 410 ملین ڈالر سے زائد سے محروم

سنگاپور (ویب نیوز): سنگاپور میں آن لائن فراڈ اور مختلف قسم کے اسکیمز کے خلاف حکومتی اقدامات کے باوجود شہریوں کو رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران سنگاپور میں فراڈ کے واقعات میں شہریوں نے مجموعی طور پر تقریباً 410.6 ملین سنگاپور ڈالر گنوائے۔

اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی مالی نقصان میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن حکام کے مطابق scam اب بھی سنگاپور میں سب سے زیادہ عام جرائم میں شامل ہے اور شہریوں کے لیے ایک اہم خطرہ بنا ہوا ہے۔ (The Straits Times)

فراڈ کے نقصانات میں کمی کے باوجود خطرہ برقرار

سنگاپور میں پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کی جارہی ہے اور بینکوں کے ساتھ مل کر مشکوک لین دین کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں scam سے ہونے والے مالی نقصان میں کمی آئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں نہیں سمجھا جاسکتا۔

خاص طور پر تشویش کی بات یہ ہے کہ فراڈ کے بہت سے متاثرین اپنی مرضی سے رقم scammers کو منتقل کردیتے ہیں۔ یعنی ہر کیس میں بینک اکاؤنٹ ہیک ہونا یا کسی تکنیکی طریقے سے رقم چوری ہونا ضروری نہیں۔

8 میں سے تقریباً 8 متاثرین نے خود رقم منتقل کی

تازہ اعداد و شمار میں سامنے آنے والی اہم بات یہ ہے کہ scam کے تقریباً 10 میں سے 8 متاثرین نے خود رقم scammers کو منتقل کی۔

فراڈ کرنے والے افراد عام طور پر خود کو بینک ملازم، سرکاری افسر، پولیس اہلکار، سرمایہ کاری ماہر یا کسی معروف کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرکے لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہیں۔

اس کے بعد متاثرہ شخص کو فوری کارروائی کرنے، اکاؤنٹ محفوظ بنانے یا کسی مبینہ قانونی مسئلے سے بچنے کے نام پر رقم منتقل کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

جعلی سرمایہ کاری اور آن لائن فراڈ بڑا مسئلہ

سنگاپور میں scam کی مختلف اقسام سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں جعلی سرمایہ کاری، آن لائن خریداری، بینک اکاؤنٹس سے متعلق دھوکا دہی، رومانوی تعلقات کے ذریعے فراڈ اور سرکاری اداروں کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا شامل ہے۔

کچھ کیسز میں scammers متاثرین کو ایسی سرمایہ کاری کا لالچ دیتے ہیں جس میں بہت کم وقت میں غیر معمولی منافع کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

ابتدا میں متاثرہ شخص کو معمولی منافع دکھا کر اس کا اعتماد حاصل کیا جاتا ہے، پھر اسے بڑی رقم لگانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ بعد میں رقم نکالنے کی کوشش پر مزید فیس یا ٹیکس کے نام پر پیسے مانگے جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے فراڈ کو مزید خطرناک بنا دیا

ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ scammers کے طریقے بھی زیادہ sophisticated ہوگئے ہیں۔

اب دھوکا دہی میں جعلی ویب سائٹس، جعلی پیغامات، جعلی دستاویزات اور بعض صورتوں میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آواز یا تصاویر کا استعمال بھی ممکن ہے۔

اس صورتحال میں عام صارف کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ سامنے آنے والا پیغام یا فون کال حقیقی ہے یا جعلی۔

اسی لیے حکام شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی مشکوک کال یا پیغام پر فوری طور پر رقم منتقل نہ کریں اور پہلے متعلقہ ادارے سے براہ راست تصدیق کریں۔

حکومت اور بینکوں کے اقدامات

سنگاپور میں scam کے خلاف مختلف ادارے مل کر کام کررہے ہیں۔ پولیس، بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مشکوک لین دین کی نگرانی، عوامی آگاہی اور متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

بینک بھی بعض حالات میں مشکوک ٹرانزیکشنز کو روکنے یا صارفین سے اضافی تصدیق لینے کے طریقے استعمال کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی حفاظتی نظام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن scam روکنے کے لیے عوام کا محتاط رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔

شہریوں کے لیے اہم احتیاط

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص فون یا آن لائن پیغام کے ذریعے آپ کو فوری طور پر رقم منتقل کرنے کا کہے تو پہلے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنی چاہیے۔

کسی بھی شخص کو بینک کا OTP، PIN، پاس ورڈ یا دیگر حساس معلومات فراہم نہیں کرنی چاہئیں، چاہے وہ خود کو بینک یا کسی سرکاری ادارے کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔

اسی طرح ایسی سرمایہ کاری جس میں غیر معمولی یا یقینی منافع کا وعدہ کیا جائے، اس میں رقم لگانے سے پہلے مکمل تحقیق ضروری ہے۔

سنگاپور کے لیے مسلسل چیلنج

اعداد و شمار میں مالی نقصان کم ہونے کے باوجود scam کا سب سے زیادہ عام جرم برقرار رہنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فراڈ کرنے والے گروہ مسلسل اپنے طریقے تبدیل کررہے ہیں، اس لیے عوامی آگاہی، بینکنگ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

سنگاپور میں گزشتہ برسوں کے دوران scams کے باعث مجموعی مالی نقصان اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انفرادی شہریوں تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک اہم معاشرتی اور مالی چیلنج بن چکا ہے۔ (The Straits Times)

 

 

ہمیں فالو کریں