کینیڈین ریسٹونٹس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بڑا سوال اٹھنے لگے

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  کینیڈا میں ریستورانوں کے مینو اور تشہیری مواد میں مصنوعی ذہانت سے تیار یا بہتر کی گئی کھانے کی تصاویر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

بعض ریسٹورنٹ مالکان کے لیے یہ ٹیکنالوجی وقت اور اخراجات کم کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی غیر حقیقی تصاویر انہیں کھانے کے اصل معیار اور شکل کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

کینیڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بعض ریستورانوں کے سائن بورڈز اور مینو پر ایسی تصاویر دیکھی گئی ہیں جو حقیقت سے زیادہ مصنوعی اور غیر معمولی دکھائی دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے بعض تصاویر کو عجیب و غریب قرار دیا اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر مینو پر دکھائی جانے والی تصویر اور اصل کھانے میں نمایاں فرق ہو تو صارف کو کیا توقع رکھنی چاہیے۔

مینو پر عجیب تصاویر

مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار ہونے والی تصاویر نے خاص طور پر فاسٹ فوڈ کے شعبے میں توجہ حاصل کی ہے۔ کچھ صارفین نے ایسے سینڈوچز اور دیگر کھانوں کی تصاویر شیئر کیں جن میں اجزا غیر معمولی ساخت اور شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے بعض تصاویر کو غیر حقیقی اور بدذائقہ دکھائی دینے والی قرار دیا۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسی تصاویر انہیں ریستوران جانے سے بھی روک سکتی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ تصویر میں دکھایا گیا کھانا حقیقت میں اس سے بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔

ٹورنٹو کی ایک صارف سنتھیا لیم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصاویر انہیں غیر مستند محسوس ہوتی ہیں اور ایسی تصاویر دیکھ کر ریستوران جانے کا شوق کم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی تصاویر یہ سوال بھی پیدا کرتی ہیں کہ پلیٹ میں پیش کیا جانے والا اصل کھانا کیسا ہوگا۔

ریستورانوں کے اخراجات میں کمی

دوسری جانب ریستوران ان تصاویر کے استعمال کو صرف ایک فیشن نہیں سمجھتے بلکہ اسے کاروباری اخراجات کم کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیتے ہیں۔

مارکیٹنگ کے ماہر اور شولک اسکول آف بزنس کے پروفیسر ڈیوڈ پلّارا کے مطابق ریستوران کے صارفین کھانا آرڈر کرنے سے پہلے اس کی تصویر کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھی فوڈ فوٹوگرافی فروخت بڑھانے میں مدد دیتی ہے جبکہ خراب تصویر برانڈ اور کاروبار دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

تاہم ان کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال احتیاط کے ساتھ کیا جائے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریستورانوں کے لیے یہ اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریستورانوں کو پہلے ہی کم منافع اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔ ریسٹورینٹس کینیڈا کے ایک حالیہ سروے میں 41 فیصد ارکان نے بتایا کہ وہ یا تو نقصان میں کام کر رہے ہیں یا بمشکل اخراجات پورے کر رہے ہیں۔

فوٹوگرافر کا خرچ بچانے کی کوشش

پیشہ ور فوٹوگرافر کی خدمات حاصل کرنا چھوٹے ریستورانوں کے لیے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض کاروبار حقیقی کھانے کی تصاویر لے کر انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہتر بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کینیڈین برگر فرنچائز دی فینسی انڈیوسڈ برگر کے مارکیٹنگ مینیجر فیز میان کے مطابق ان کی ٹیم باورچی خانے سے نکلنے والے حقیقی برگر کی موبائل فون سے تصویر بناتی ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصویر کی ساخت اور تازگی کو بہتر کیا جاتا ہے۔

یہ تصاویر مینو بورڈز، ریستوران کے اندر تشہیری پوسٹرز اور آن لائن تشہیر میں استعمال ہوتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس طریقے سے پیشہ ور فوٹوگرافر کی بکنگ اور فوٹو شوٹ کے لیے انتظار کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔

فیز میان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصویر تیار کرنے کا عمل چند منٹوں میں مکمل ہوسکتا ہے۔ اس تیزی کی وجہ سے کمپنی سوشل میڈیا کے لیے بھی زیادہ تیزی سے نیا مواد تیار کر سکتی ہے۔

اصل کھانے سے فرق پر سوال

مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصاویر کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ صارف کو گمراہ تو نہیں کرتیں۔

رٹمن اسکول آف مینجمنٹ کے مارکیٹنگ پروفیسر ڈیوڈ سوبَرمن کے مطابق ریستوران کا مقصد اپنی مصنوعات کو اچھا دکھانا ضرور ہوسکتا ہے لیکن تصویر کو اس حد تک تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے کہ صارف کو اصل مصنوعات کے بارے میں غلط تاثر ملے۔

مثال کے طور پر اگر مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسٹیک کو حقیقی سائز سے بہت زیادہ موٹا دکھایا جائے جبکہ اصل میں وہ اس کے مقابلے میں آدھا ہو تو ایسی تبدیلی صارف کے لیے گمراہ کن ہوسکتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق صرف مصنوعی ذہانت کا استعمال ہی صارف کو گمراہ کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ روایتی فوڈ فوٹوگرافی میں بھی کھانے کو زیادہ خوبصورت دکھانے کے لیے روشنی، ترتیب اور دیگر تکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اصل تصویر کو بہتر بنانے کا طریقہ

دی فینسی انڈیوسڈ برگر کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر فرضی کھانے کی تصاویر تیار کرنے کے بجائے حقیقی کھانے کی تصاویر میں تبدیلیاں کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت سے بہتر کی گئی تصاویر کو استعمال کرنے سے پہلے انسانی عملہ ان کا جائزہ لیتا ہے۔

مارکیٹنگ ٹیم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران کوئی ایسا اضافی جزو تصویر میں شامل نہ ہوجائے جو اصل کھانے میں موجود نہیں۔ اس نگرانی کا مقصد صارف کو کھانے کے بارے میں غلط تاثر سے بچانا ہے۔

فوڈ اسٹائلنگ بھی الگ فن ہے

ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی فوڈ اسٹائلسٹ زوئی روسو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مقابلے میں روایتی فوڈ اسٹائلنگ کا عمل زیادہ مستند ہے۔

ان کے مطابق عام تاثر کے برعکس فوڈ اسٹائلنگ میں اکثر جعلی کھانے استعمال نہیں کیے جاتے۔ اس کے بجائے بہترین دکھائی دینے والے اجزا کا انتخاب کیا جاتا ہے اور انہیں احتیاط سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ فوٹوگرافرز اور پروپ اسٹائلسٹس بھی اس عمل کا حصہ ہوتے ہیں تاکہ تصویر میں کھانا زیادہ خوبصورت نظر آئے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ریستورانوں کے لیے ایک نئی سہولت ضرور پیدا کی ہے لیکن اس کے ساتھ صارفین کے اعتماد کا سوال بھی اہم ہوگیا ہے۔ کاروبار کے لیے کم وقت اور کم خرچ میں تشہیری مواد تیار کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے مگر ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ تصویر خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اسے حقیقت سے اتنا دور نہ کیا جائے کہ صارف کو پیش کیے جانے والے کھانے کے بارے میں غلط توقع پیدا ہو۔

ہمیں فالو کریں