اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات میں لگی آگ کے باعث نافذ کی گئی صوبائی سطح کی ایمرجنسی ختم کردی گئی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور فائر سیزن ابھی ختم نہیں ہوا۔
برٹش کولمبیا کے وزیر جنگلات روی پرمار نے جمعرات کو سمرلینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں صوبائی ایمرجنسی کے تحت حاصل اضافی اختیارات اور اقدامات کی مزید ضرورت نہیں رہی، اسی لیے ایمرجنسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
8 اگست کو ایمرجنسی نافذ
برٹش کولمبیا کی حکومت نے 8 اگست کو صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بالڈ رینج جنگلات کی آگ تیزی سے پھیلنے لگی اور سمرلینڈ کے علاقے میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا۔
آگ کی شدت اور اس کے تیزی سے پھیلنے کے باعث مقامی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائی کرنا پڑی تھی۔ اس صورتحال نے اوکا ناگن کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں اور کاروباری مراکز کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کردی تھیں۔
ایمرجنسی میں توسیع
ابتدائی طور پر نافذ کی گئی صوبائی ایمرجنسی کو بعد میں 21 اگست کو مزید توسیع دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق اس دوران جنگلات میں آگ کے خطرے، مختلف علاقوں میں موجود فائرز اور موسمی حالات کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا رہا۔ تاہم حالیہ دنوں میں بعض علاقوں میں صورتحال بہتر ہونے اور موسم میں تبدیلی کے باعث صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایمرجنسی کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کو برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
فائر سیزن ابھی جاری
وزیر جنگلات روی پرمار نے خبردار کیا کہ ایمرجنسی ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے میں جنگلات کی آگ کا خطرہ ختم ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کا وائلڈ فائر سیزن ابھی مکمل نہیں ہوا اور آنے والے کئی دن اور ہفتے اہم ہیں۔ ان کے مطابق برٹش کولمبیا میں جنگلات کی آگ کے موسم پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدید اور طویل ہوتے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :برٹش کولمبیا میں جنگلات کی آگ بے قابو، سیکڑوں مزید شہریوں کو انخلا کا حکم
پرمار کا کہنا تھا کہ حکومت حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ اضافی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
سمرلینڈ میں شدید آگ
بالڈ رینج وائلڈ فائر نے سمرلینڈ کے علاقے میں خاص طور پر تشویش پیدا کی تھی۔ آگ کے باعث ہزاروں مقامی رہائشیوں کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑا جبکہ فائر فائٹرز نے آگ کو آبادی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
سمرلینڈ کے رہائشیوں اور کاروباری برادری کو آگ کے باعث معاشی نقصان اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد افراد کو کچھ عرصے کے لیے اپنے گھروں اور کاروبار سے دور رہنا پڑا۔
سیاحوں سے واپس آنے کی اپیل
وزیر جنگلات روی پرمار نے سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ اوکا ناگن کے علاقے کا رخ دوبارہ کریں تاکہ جنگلات کی آگ سے متاثر ہونے والے مقامی کاروباروں کو سہارا مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ سمرلینڈ اس وقت عوام کی مدد کا مستحق ہے اور علاقے کی طاقت اور حوصلے کو ظاہر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگ مقامی کاروباروں سے خریداری کریں، برٹش کولمبیا کی مصنوعات خریدیں اور علاقے میں آکر ہوٹلوں اور دیگر کاروباری مراکز میں اخراجات کریں۔
مقامی کاروبار متاثر
جنگلات کی آگ کے باعث سمرلینڈ اور اردگرد کے علاقوں میں سیاحت سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انخلا، سفری پابندیوں اور آگ کے خدشات کے باعث متعدد سیاحوں نے اپنے سفر منسوخ یا مؤخر کیے۔
مقامی کاروباری حلقوں کے لیے موسم گرما کا سیزن انتہائی اہم ہوتا ہے، اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بعد سیاح دوبارہ علاقے کا رخ کریں تاکہ مقامی معیشت کو بحال کرنے میں مدد مل سکے۔
آف روڈ گاڑیوں پر پابندی ختم
صوبائی ایمرجنسی کے خاتمے کے ساتھ برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس نے بھی بعض علاقوں میں آف روڈ گاڑیوں کے استعمال پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ پابندی صوبے کے مختلف حصوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے خطرے کے پیش نظر نافذ کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق موجودہ حالات میں بعض علاقوں میں موسم بہتر ہونے اور آئندہ دنوں میں نسبتاً ٹھنڈے اور زیادہ مرطوب موسم کی پیش گوئی کے باعث پابندی ختم کرنا ممکن ہوگیا ہے۔
پابندی جمعہ کو ختم ہوگی
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے مطابق آف روڈ گاڑیوں پر عائد پابندی جمعہ کو دوپہر 12 بجے پیسیفک ٹائم پر ختم ہوجائے گی۔
سروس نے تاہم واضح کیا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے باوجود جنگلات میں آگ کے خطرے پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔ اگر موسمی حالات دوبارہ خراب ہوئے یا آگ کا خطرہ بڑھا تو مختلف علاقوں میں پابندیاں دوبارہ نافذ کی جاسکتی ہیں۔
کن علاقوں میں پابندی تھی؟
10 اگست کو صوبائی حکومت نے تفریحی مقاصد کے لیے کراؤن لینڈ پر آف روڈ گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
یہ پابندی پورے کاملوپس فائر سینٹر اور ساؤتھ ایسٹ فائر سینٹر میں نافذ کی گئی تھی جبکہ کیریبو اور کوسٹل فائر سینٹرز کے بعض علاقوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق آف روڈ گاڑیوں کے استعمال سے خشک حالات میں آگ بھڑکنے یا پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اسی لیے خطرناک موسم کے دوران ایسی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا۔
موسم میں بہتری
وائلڈ فائر سروس کے مطابق صوبے کے بعض علاقوں میں حالات میں بہتری آئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں نسبتاً ٹھنڈے اور زیادہ مرطوب موسم کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
ان حالات کے باعث حکام نے محسوس کیا کہ بعض موجودہ پابندیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم صوبائی فائر سروس نے واضح کیا ہے کہ جنگلات میں آگ کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
دوبارہ پابندی ممکن
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہے اور حالات میں تبدیلی کے مطابق پابندیاں دوبارہ نافذ یا ختم کی جاسکتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ موجودہ فیصلے مستقل نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ موسمی حالات، نمی، درجہ حرارت، ہواؤں اور جنگلات میں آگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے دوبارہ تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔
شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
حکام نے صوبے کے شہریوں اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ ایمرجنسی ختم ہونے کے باوجود احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔ خشک جنگلات میں معمولی سی لاپرواہی بھی بڑی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔
وزیر جنگلات روی پرمار نے بھی واضح کیا ہے کہ برٹش کولمبیا ابھی مکمل طور پر وائلڈ فائر سیزن سے باہر نہیں نکلا۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں اور ہفتوں میں بھی فائر رسک موجود رہے گا۔
کاروباری سرگرمیوں کی بحالی
حکومت کی جانب سے ایمرجنسی ختم کرنے اور بعض پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کو متاثرہ علاقوں میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔
خاص طور پر سمرلینڈ جیسے سیاحتی علاقوں کے لیے سیاحوں کی واپسی انتہائی اہم ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ مقامی کاروباروں کی مدد کریں تاکہ جنگلات کی آگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کیا جاسکے۔
برٹش کولمبیا میں اگرچہ صوبائی ایمرجنسی ختم ہوگئی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وائلڈ فائر کا خطرہ برقرار ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔ موسم بہتر ہونے کے باوجود فائر سیزن کے باقی دنوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ تیار رہے گی۔
