محمد امان اللہ اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز)
کٹھمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے ایک مرتبہ پھر ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرادی ہے۔ شدید مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوئی، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودوں اور دیگر قدرتی عوامل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
نیپال جیسے پہاڑی ملک میں چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی غیر معمولی بارش بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ پہاڑوں سے آنے والا پانی انتہائی تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف جاتا ہے، جس کے باعث لوگوں کو پیشگی انتباہ ملنے کے باوجود محفوظ مقامات تک پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔
حالیہ واقعات نے یہ سوال بھی پیدا کردیا ہے کہ آخر نیپال میں بار بار شدید سیلاب کیوں آتے ہیں اور مستقبل میں ایسے سانحات کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے؟
شدید مون سون بارشیں، سیلاب کی فوری بڑی وجہ
نیپال میں سیلاب کی بنیادی اور فوری وجوہات میں شدید مون سون بارشیں نمایاں ہیں۔ مون سون کے دوران جب کم وقت میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوتی ہے تو پہاڑی دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کا بہاؤ اچانک کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب مسلسل بارش زمین کو نرم کردیتی ہے۔ اس کے بعد چٹانیں اور مٹی ڈھلوانوں سے نیچے گرنے لگتی ہیں، جس سے سڑکیں، پل اور آبادیوں کے راستے متاثر ہوتے ہیں۔
بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ دریا کا راستہ بھی روک دیتی ہے۔ اگر پانی ملبے کے پیچھے جمع ہوتا رہے اور عارضی بند اچانک ٹوٹ جائے تو چند منٹوں میں ایک انتہائی طاقتور فلیش فلڈ پیدا ہوسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے خطرہ کیوں بڑھا دیا؟
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ہمالیائی خطے میں بارشوں، برف پگھلنے اور پہاڑی ماحول کے عدم استحکام سے متعلق خطرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
دنیا کے بڑھتے ہوئے اوسط درجہ حرارت کے باعث فضا زیادہ نمی برقرار رکھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض حالات میں انتہائی شدید بارش کے واقعات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
تاہم کسی ایک سیلاب کو صرف موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ کسی مخصوص واقعے میں بارش، مقامی جغرافیہ، دریا کا بہاؤ، زمین کی حالت اور دیگر عوامل کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
گلیشیئرز کا پگھلنا بھی اہم خطرہ
ہمالیہ میں موجود گلیشیئرز خطے کے دریاؤں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز میں تبدیلیاں بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
گلیشیئرز کے پگھلنے سے بعض علاقوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ گلیشیئر کے قریب بننے والی جھیلیں بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اگر کسی گلیشیئر جھیل کا قدرتی بند ٹوٹ جائے تو اچانک بڑی مقدار میں پانی نیچے کی طرف آ سکتا ہے، جسے Glacial Lake Outburst Flood (GLOF) کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ برف، چٹان اور ملبے کے اچانک گرنے کے واقعات دریا کے راستے کو عارضی طور پر بند کرکے بعد میں بڑے سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔
نیپال کا پہاڑی جغرافیہ خطرہ کیوں بڑھاتا ہے؟
نیپال کا بیشتر علاقہ پہاڑی اور ڈھلوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی جغرافیہ ملک کو قدرتی حسن فراہم کرتا ہے لیکن شدید بارش کے دوران یہی پہاڑ سیلاب کی رفتار کو بھی خطرناک حد تک بڑھا سکتے ہیں۔
جب پہاڑوں پر موسلا دھار بارش ہوتی ہے تو پانی کو طویل فاصلے تک پھیلنے کے بجائے تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف راستہ مل جاتا ہے۔
اس دوران دریا کے پانی میں مٹی، پتھر، درخت اور پہاڑی ملبہ شامل ہوجائے تو سیلاب ایک انتہائی طاقتور Debris Flow کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جو اپنے راستے میں موجود انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
غیر منصوبہ بند تعمیرات بھی تباہی بڑھاتی ہیں
نیپال میں بڑھتی ہوئی آبادی، سڑکوں کی تعمیر، ہائیڈرو پاور منصوبوں اور دریاؤں کے قریب تعمیرات نے بھی بعض علاقوں میں سیلابی خطرات کو بڑھایا ہے۔
اگر گھروں، سڑکوں یا دیگر تعمیرات کی وجہ سے پانی کے قدرتی راستے محدود ہوجائیں تو شدید بارش کے دوران پانی کو نکلنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
اسی طرح پہاڑی ڈھلوانوں پر غیر مناسب تعمیرات اور سڑکیں بنانے سے زمین کی ساخت کمزور ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مستقبل میں ایسے سیلاب دوبارہ آنے کا امکان
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر سے متعلق سیلاب اور دیگر قدرتی خطرات مستقبل میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سال اسی شدت کا سیلاب آئے گا، لیکن موسمیاتی تبدیلی اور پہاڑی ماحول میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے باعث خطرناک واقعات کے لیے تیاری پہلے سے زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔
خاص طور پر وہ علاقے جہاں آبادی دریاؤں کے قریب ہے یا جہاں گلیشیئر اور برفانی جھیلیں موجود ہیں، وہاں مسلسل نگرانی اور بروقت انتباہ انتہائی اہم ہے۔
ارلی وارننگ سسٹم وقت پر جانیں بچا سکتا ہے
ماہرین کے مطابق مستقبل میں سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے جدید Early Warning Systems سب سے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
دریاؤں میں پانی کی سطح، بارش، گلیشیئر جھیلوں اور پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی کے ذریعے خطرے کی پہلے سے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔
اگر کسی علاقے کے لوگوں کو سیلاب آنے سے چند منٹ یا چند گھنٹے پہلے قابل اعتماد اطلاع مل جائے تو وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوسکتے ہیں اور جانی نقصان میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے قدرتی راستوں کو محفوظ رکھنا، خطرناک علاقوں میں تعمیرات کو محدود کرنا، مضبوط پل اور سڑکیں بنانا اور مقامی آبادی کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔
ہمالیہ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
نیپال میں آنے والی حالیہ تباہی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ہمالیائی خطے کے لیے ایک اہم وارننگ ہے۔
ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلیاں نیپال کے علاوہ بھارت، پاکستان، بھوٹان، چین اور دیگر علاقوں کے دریائی نظام پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، بارشوں اور دریاؤں کی مشترکہ سائنسی نگرانی مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت وارننگ کے ذریعے ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
ایک سیلاب، کئی عوامل
نیپال کے حالیہ سیلاب سے ایک اہم بات واضح ہوتی ہے کہ جدید دور میں بڑی قدرتی آفات اکثر صرف ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں۔ شدید مون سون بارش، پہاڑی جغرافیہ، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر سے متعلق خطرات، دریاؤں کے قدرتی راستوں میں تبدیلی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات ایک دوسرے کو متاثر کرکے تباہی کی شدت بڑھا سکتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین کا زور صرف سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں پر نہیں بلکہ پیشگی تیاری، سائنسی نگرانی اور بروقت انخلا کے نظام پر ہے۔
نیپال کے لیے یہ سانحہ ایک تلخ یاد کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے: ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحول کے سامنے صرف ردعمل کافی نہیں، بلکہ خطرے کی پیشگی نشاندہی اور مضبوط حفاظتی نظام ناگزیر ہوچکے ہیں۔
