وعدے پورے ہوں تو ایران بھی معاہدے پر عمل کیلئے تیار،پزشکیان کا امریکا کو بڑا پیغام

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر واپس آتا ہے تو تہران بھی فوری طور پر اسی کے مطابق جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوچکا ہے اور سفارتی حل کے امکانات پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔

بشکیک میں اہم بیان

مسعود پزشکیان نے یہ بیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر دیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع، عبوری معاہدے اور مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے ایران کا مؤقف واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے امریکا کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔

ایران کی شرط کیا ہے؟

پزشکیان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران یک طرفہ طور پر معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے امریکا کی جانب سے عملی اقدامات کا منتظر ہے۔

تہران کا مؤقف رہا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر مثبت جواب دینے کے لیے تیار ہوگا۔ اس طرح ایرانی صدر نے مذاکرات کی مکمل مخالفت کے بجائے انہیں باہمی اقدامات سے مشروط کیا ہے۔

مذاکرات کا دروازہ بند نہیں

پزشکیان کے تازہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ سفارتی رابطوں کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں کیے۔

ایرانی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے باہمی اعتماد، ضمانتوں اور دونوں فریقوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تہران امریکا سے پہلے عملی قدم اٹھانے کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے اعتماد کی بنیاد دوبارہ قائم ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ تو ہیں مگر شدید ترین زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

کشیدگی میں دوبارہ اضافہ

پزشکیان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکا کے تعلقات ایک مرتبہ پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ فوجی کارروائیوں اور ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بھی عالمی تشویش کا باعث بنا ہے۔

ایسی صورتحال میں کسی بھی جانب سے مذاکرات کی گنجائش پیدا کرنے والا بیان سفارتی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

واشنگٹن کیلئے امتحان

ایرانی صدر کے بیان کے بعد اب توجہ امریکا کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہوگی۔ اگر واشنگٹن واقعی جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پر واپس آنے کا اشارہ دیتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔تاہم اگر امریکا ایران کے مطالبات کو قبول نہیں کرتا تو موجودہ کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

باہمی اعتماد سب سے بڑا مسئلہ

ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی مسئلہ صرف کسی ایک معاہدے کی شرائط نہیں بلکہ باہمی اعتماد کا شدید فقدان بھی ہے۔ تہران کو خدشہ ہے کہ امریکا دوبارہ کسی معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے اقدامات اور وعدوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔اس صورتحال میں کسی بھی نئے معاہدے کے لیے قابل اعتماد ضمانتیں اور مرحلہ وار اقدامات اہم ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

سفارت کاری کیلئے موقع

پزشکیان کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایران نے فوری طور پر جواب دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکا قابل قبول اقدامات کرتا ہے تو تہران بھی ردعمل دینے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔یہ مؤقف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب اصل امتحان امریکا اور ایران دونوں کے عملی اقدامات کا ہے۔ صرف بیانات سے اعتماد بحال ہونا مشکل ہے، تاہم پزشکیان کی جانب سے معاہدے پر عمل کے لیے مشروط آمادگی سفارتی دروازہ کھلا رکھنے کی علامت ضرور ہے۔

اگر واشنگٹن اپنی سابقہ ذمہ داریوں کی طرف واپسی کا عملی قدم اٹھاتا ہے تو تہران کی جانب سے مثبت جواب کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر دوبارہ آسکتے ہیں۔ لیکن اگر دونوں جانب سے سخت مؤقف برقرار رہا تو حالیہ کشیدگی مزید گہری ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔

ہمیں فالو کریں