اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی ممکنہ علیحدگی کے معاشی اثرات پر جاری نئی رپورٹ میں بڑے مالی اخراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر البرٹا کینیڈا سے الگ ہو کر ایک آزاد ملک قائم کرتا ہے تو نئے ملک کے قیام اور منتقلی کے پہلے پانچ برسوں کے دوران 50 ارب سے 170 ارب ڈالر تک لاگت آسکتی ہے۔ یہ اخراجات علیحدگی کے نتیجے میں معاشی ترقی، روزگار اور صوبائی مالی پوزیشن پر پڑنے والے اثرات سے الگ ہوں گے۔
حکومت نے رپورٹ کیوں بنوائی؟
یہ رپورٹ البرٹا کی حکومت نے یونیورسٹی آف کیلگری کے اسکول آف پبلک پالیسی سے تیار کروائی تاکہ 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم سے قبل شہریوں کو ممکنہ علیحدگی کے معاشی نتائج سے متعلق معلومات فراہم کی جاسکیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ علیحدگی صرف سیاسی اور آئینی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں البرٹا کو متعدد ایسے نظام اور ادارے خود قائم کرنا پڑیں گے جو اس وقت وفاقی حکومت کے تحت کام کر رہے ہیں۔
170 ارب ڈالر تک خرچ
رپورٹ کے مطابق نئے ملک کے قیام کے لیے ابتدائی پانچ برسوں میں 50 ارب ڈالر سے شروع ہو کر اخراجات 170 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان میں نئے سرکاری نظام اور انفراسٹرکچر قائم کرنے، اضافی سرکاری ملازمین بھرتی کرنے، وفاقی ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے اور دیگر انتظامی ضروریات پر آنے والی لاگت شامل ہوگی۔
اس کے علاوہ کینیڈا کے وفاقی قرض اور اثاثوں میں البرٹا کے حصے سے متعلق مذاکرات بھی علیحدگی کے مالی بوجھ کو متاثر کرسکتے ہیں۔
دو مختلف منظرنامے
رپورٹ میں علیحدگی کے دو ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلے منظرنامے کو ’’ہموار منتقلی‘‘ قرار دیا گیا ہے، جس میں کینیڈا کے ساتھ مذاکرات تیزی سے اور نسبتاً سازگار ماحول میں مکمل ہونے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
دوسرا منظرنامہ ’’مشکل منتقلی‘‘ کا ہے، جس میں مذاکرات طویل اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جبکہ البرٹا کو تجارت، مارکیٹ تک رسائی اور دیگر معاشی معاملات میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
معیشت کو بڑا دھچکا
مشکل منتقلی کی صورت میں رپورٹ نے البرٹا کے لیے نمایاں طویل مدتی معاشی نقصان کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق علیحدگی کے تقریباً 20 سال بعد صوبے کی معیشت موجودہ صورتحال کے مقابلے میں 16.2 فیصد تک چھوٹی ہوسکتی ہے۔
اسی منظرنامے میں روزگار میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ ایک عام کارکن کی آمدنی کینیڈا کا حصہ برقرار رہنے کی صورت میں متوقع آمدنی کے مقابلے میں تقریباً 12 ہزار ڈالر سالانہ کم ہوسکتی ہے۔
ٹیکس اور قرض کا بوجھ
مشکل صورتحال میں البرٹا کے شہریوں کو زیادہ ٹیکس بھی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کا سالانہ بجٹ خسارہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کا امکان موجود ہے، جبکہ مجموعی سرکاری قرض بھی نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے اندازے کے مطابق مشکل منظرنامے میں حکومت کا قرض تقریباً 442 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس میں پہلے سے موجود قرض اور علیحدگی کے بعد پیدا ہونے والے اضافی خسارے شامل ہوں گے۔
طویل مدت میں ممکنہ فوائد
رپورٹ نے ایک نسبتاً ہموار منتقلی کی صورت میں البرٹا کے لیے کچھ طویل مدتی معاشی فوائد کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ اگر نیا ملک بڑے عالمی تجارتی مراکز تک رسائی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو قدرتی وسائل کی ترقی کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
اس منظرنامے میں طویل مدت کے دوران البرٹا کی مجموعی معیشت میں اضافہ، روزگار میں بہتری اور شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ کم ہونے کے امکانات بھی بیان کیے گئے ہیں۔
تاہم اس راستے میں بھی ابتدائی سالوں کے دوران معاشی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرکاری قرض میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
وفاقی نظام سے علیحدگی
رپورٹ میں مالیاتی پالیسی، وفاقی پروگراموں کی انتظامی ذمہ داری، مزدوروں کی نقل و حرکت، عالمی تجارت اور کینیڈا کے قرض و اثاثوں کی تقسیم جیسے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا علیحدگی معاملہ،پریمیئر ڈینیئل استمھ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ختم
نئے ملک کو اپنی سرکاری مشینری، آئی ٹی نظام، دفاتر اور دیگر انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والی متعدد خدمات کے لیے بھی نئے ادارے بنانا پڑ سکتے ہیں۔
کینیڈا بھی متاثر ہوگا
البرٹا حکومت کے لیے بنائے گئے مشاورتی پینل نے بھی قرار دیا ہے کہ علیحدگی کی صورت میں ابتدائی عرصے میں البرٹا کو نمایاں معاشی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے جبکہ طویل مدت کے فوائد غیر یقینی ہیں۔
پینل کے مطابق اس فیصلے کے اثرات صرف البرٹا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کینیڈا کی مجموعی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ یوں 19 اکتوبر کا ریفرنڈم صرف البرٹا کے مستقبل بلکہ صوبے اور کینیڈا کے درمیان معاشی، مالی اور تجارتی تعلقات کے لیے بھی اہم مرحلہ بن گیا ہے۔
