ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کا کینیڈا کو الٹا فائدہ؟ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اربوں ڈالر کا امکان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے گئے بھاری محصولات نے کینیڈا کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جنگ اور عالمی تیل کی قیمتوں میں دوبارہ ہونے والے اضافے نے کینیڈا کے لیے ایک غیر متوقع معاشی فائدے کی صورت پیدا کردی ہے۔ خام تیل کی بلند قیمتیں کینیڈا کی توانائی کی صنعت اور حکومتوں کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے امریکی ٹیرف سے ہونے والے بعض نقصانات کی تلافی ممکن ہو سکتی ہے۔

اربوں ڈالر کے محصولات

کینیڈین معیشت پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے تقریباً 27.6 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات کو ٹیرف کا ہدف بنایا ہے، جس کے اثرات مختلف کاروباری شعبوں، صارفین اور برآمد کنندگان تک پہنچ رہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے کینیڈا کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا کیا ہے۔ گزشتہ سال امریکا نے اپنی خام تیل کی درآمدات کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ کینیڈا سے حاصل کیا تھا، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست فائدہ کینیڈین توانائی کے شعبے کو پہنچ سکتا ہے۔

جنگ نے تیل پھر مہنگا کردیا

ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آنا شروع ہوگئی تھیں۔ موسم گرما کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد جولائی کے اختتام تک تقریباً 72 ڈالر تک آگئی تھی۔

تاہم خطے میں دوبارہ لڑائی اور ایران کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں نے عالمی توانائی کی منڈی کو ایک مرتبہ پھر ہلا دیا۔ جمعے کو کاروبار شروع ہونے پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اگر برقرار رہتا ہے تو کینیڈا کی توانائی کی صنعت کو نمایاں اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔

البرٹا کے خزانے پر اثر

تیل کی بلند قیمتوں کا سب سے نمایاں اثر کینیڈا کی تیل پیدا کرنے والی صوبائی معیشتوں، خصوصاً البرٹا، پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق زیادہ عالمی قیمتوں سے حکومت کو رائلٹی اور دیگر محصولات کی صورت میں اضافی رقم حاصل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں امریکی مصنوعات پر نئے جوابی ٹیرف نافذ، کاروباری طبقہ بڑھتے اخراجات سے پریشان

البرٹا حکومت نے کچھ عرصہ قبل بجٹ خسارے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد صوبے کی مالی صورتحال میں تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اضافی آمدنی مستقبل میں خسارے کو کم کرنے یا بجٹ کو سرپلس کی طرف لے جانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

سعودی عرب مشکل میں

عالمی تیل منڈی میں موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو سعودی عرب کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات بھی ہیں۔ سعودی تیل کا بڑا حصہ ملک کے مشرقی علاقے میں پیدا ہوتا ہے، جو خلیج فارس کے قریب واقع ہے اور جنگ کے دوران ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے سے دوچار ہے۔

سعودی عرب نے تیل کو مشرقی بندرگاہوں سے مغربی ساحل تک پہنچانے کے لیے تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل پیٹرول لائن پر انحصار بڑھایا تھا۔ مغربی ساحل پر واقع ینبع سے تیل بحیرہ احمر کے راستے عالمی منڈی تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

حوثیوں کی کارروائی

بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں حوثی گروپ کی کارروائیوں نے سعودی تیل کی ترسیل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یمن کے ساحلی شہر موخا پر قبضے اور اسٹریٹجک جزیرے پر کنٹرول کے بعد خطے میں سمندری راستوں کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسی دوران پیٹرول لائن پر ڈرون حملوں نے سعودی تیل کی ترسیل کے متبادل راستے کو بھی متاثر کیا۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر پائپ لائن طویل عرصے تک بند یا متاثر رہی تو عالمی منڈی میں دستیاب تیل کی مقدار پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے۔

کینیڈا کے لیے ممکنہ ونڈ فال

وینکوور میں سینٹر فار فیوچر ورک کے ماہر اقتصادیات جم اسٹینفورڈ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں پہلے ہونے والے اضافے کے دوران کینیڈا کی پوری تیل صنعت کے سہ ماہی بعد از ٹیکس منافع میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور یہ تقریباً 23 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

اب تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر سے اوپر پہنچنے کے بعد کینیڈین توانائی کمپنیوں اور حکومتوں کی آمدنی میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم بلند تیل قیمتوں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کینیڈین صارفین کو بھی پٹرول، نقل و حمل اور دیگر اشیا کی بڑھتی لاگت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوں مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی معیشت کے لیے خطرات بڑھانے کے ساتھ کینیڈا کے لیے ایک پیچیدہ معاشی صورتحال پیدا کردی ہے، جہاں امریکی ٹیرف سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں تیل سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کسی حد تک سہارا فراہم کر سکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں