اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا سے تعلق رکھنے والی 58 سالہ خاتون روزانا مرینا نے پاکستان پہنچ کر اسلام قبول کرنے کے بعد 34 سالہ پاکستانی نوجوان عادل شہزاد سے نکاح کرلیا۔ غیر معمولی عمر کے فرق اور سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی اس محبت کی داستان نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے، جہاں اس شادی کے حوالے سے مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔
سوشل میڈیا سے ہوئی دوستی
میڈیا رپورٹ کے مطابق روزانا مرینا اور عادل شہزاد کے درمیان تقریباً تین سال قبل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا تھا۔ عادل شہزاد کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات یا شناسائی فیس بک پر ہوئی، جہاں ابتدا میں ان کے درمیان عام نوعیت کی گفتگو ہوتی رہی۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ رابطہ مضبوط ہوتا گیا اور دونوں ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جاننے لگے۔ عادل شہزاد کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی دوستی رفتہ رفتہ محبت میں تبدیل ہوگئی اور بعد ازاں دونوں نے اس تعلق کو شادی میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
محبت نے فاصلے مٹا دیے
پاکستان اور امریکا کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا۔ عادل شہزاد کے مطابق مسلسل بات چیت کے نتیجے میں ان کے درمیان اعتماد اور قربت پیدا ہوئی، جس کے بعد روزانا مرینا نے پاکستان آنے اور عادل سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی قابل توجہ ہے کہ دونوں کی عمروں میں تقریباً 24 سال کا فرق ہے، تاہم ان کے مطابق عمر اور جغرافیائی فاصلے ان کے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے۔
پاکستان پہنچ کر اسلام قبول کیا
رپورٹ کے مطابق روزانا مرینا پاکستان آنے کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے عادل شہزاد کے ساتھ نکاح کیا۔
خاتون کی جانب سے مذہب کی تبدیلی اور پاکستانی شہری سے شادی کے فیصلے نے اس واقعے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تاہم ان کے اسلام قبول کرنے کے ذاتی محرکات اور مذہب سے متعلق تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
عدالت میں بھی بیان دیا
روزانا مرینا نے عدالت میں اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آنے اور عادل شہزاد سے شادی کرنے کا فیصلہ ان کی اپنی مرضی سے ہوا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکی خاتون نے منفرد عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق انہوں نے کسی دباؤ یا زبردستی کے بغیر پاکستان آنے اور شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس بیان کو شادی سے متعلق قانونی کارروائی کے دوران اہم قرار دیا جارہا ہے۔
شادی سوشل میڈیا پر وائرل
روزانا مرینا اور عادل شہزاد کی شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا۔ صارفین کی جانب سے جوڑے کے بارے میں مختلف آرا کا اظہار کیا جارہا ہے۔
کچھ صارفین اسے محبت اور باہمی رضامندی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض افراد عمر کے نمایاں فرق اور بین الاقوامی تعلق کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔
عمر کا بڑا فرق
اس شادی میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا پہلو دونوں کی عمروں میں فرق ہے۔ روزانا مرینا کی عمر 58 سال جبکہ عادل شہزاد 34 سال کے ہیں۔ دونوں کے درمیان تقریباً 24 سال کا فرق ہے۔
تاہم شادی کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق دونوں کے درمیان تعلق کئی برسوں پر محیط ہے اور نکاح سے قبل وہ ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
تین سالہ تعلق کا سفر
عادل شہزاد کے مطابق تین سال پہلے شروع ہونے والی فیس بک دوستی نے وقت کے ساتھ سنجیدہ شکل اختیار کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خیالات اور زندگی کے معاملات شیئر کیے، جس کے نتیجے میں ان کے درمیان جذباتی وابستگی پیدا ہوئی۔
بعد ازاں اس تعلق کو باقاعدہ رشتے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور روزانا مرینا پاکستان پہنچیں۔
اپنی مرضی سے فیصلہ
روزانا مرینا کا عدالت میں دیا گیا بیان اس واقعے کا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آنا اور عادل شہزاد سے شادی کرنا ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔
ایسے بین الاقوامی شادی کے معاملات میں خاندان، قانونی حیثیت اور فریقین کی رضامندی جیسے معاملات اہم ہوتے ہیں، اسی لیے عدالت میں خاتون کی جانب سے اپنی مرضی کی تصدیق خاص اہمیت رکھتی ہے۔
منفرد شادی پر دلچسپی
پاکستانی نوجوان اور امریکی خاتون کی شادی نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر دونوں کی مختلف قومیت، عمر کے فرق اور سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے تعلق نے اس واقعے کو عام شادیوں سے مختلف بنا دیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا نے دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کے امکانات کس قدر بڑھا دیے ہیں۔ فیس بک پر شروع ہونے والی ایک دوستی نے بالآخر ایک بین الاقوامی رشتے کی شکل اختیار کرلی۔
محبت سے نکاح تک
روزانا مرینا اور عادل شہزاد کی کہانی تین سال قبل سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستی سے شروع ہوئی اور پاکستان آمد، اسلام قبول کرنے اور نکاح تک پہنچ گئی۔ دونوں کی جانب سے اس رشتے کو اپنی مرضی اور رضامندی سے قائم کرنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
شادی کی خبر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے، تاہم جوڑے کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ان کا فیصلہ باہمی رضامندی پر مبنی ہے اور روزانا مرینا نے عدالت میں بھی اپنی مرضی سے پاکستان آنے اور شادی کرنے کی تصدیق کی ہے۔
