دوسر ا ٹیسٹ،یشسوی جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر آئی سی سی کا جرمانہ

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بھارت اور سری لنکا کے درمیان کولمبو میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب بھارتی اوپنر یشسوی جیسوال اور سری لنکا کے فاسٹ بولر اسیتھا فرنینڈو ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔

دونوں کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ جسمانی رابطے تک پہنچ گیا۔ واقعے نے میچ کے ماحول کو خاصا گرم کردیا اور بعد ازاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے دونوں کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا۔
آئی سی سی کے مطابق یشسوی جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو دونوں پر ان کی میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

پنڈی کرکٹ ٹیسٹ میچ ،پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کیخلاف آپریشن کلین سویپ کیلئے تیار
آئی سی سی نے واضح کیا کہ دونوں کرکٹرز نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تسلیم کرلی تھی، اس لیے معاملے میں باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

یہ واقعہ بھارت کی پہلی اننگز کے 17 ویں اوور میں پیش آیا۔ اسیتھا فرنینڈو نے یشسوی جیسوال کو آؤٹ کیا، جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم تبادلہ شروع ہوگیا۔ آئی سی سی کے مطابق جیسوال فرنینڈو کی جانب بڑھے اور دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ الفاظ کہے۔ اس کے بعد فرنینڈو نے بھی اپنا سر جیسوال کی جانب کیا اور جیسوال کے آگے جھکنے کے نتیجے میں دونوں کے سروں کا آپس میں رابطہ ہوا۔

واقعے کے فوراً بعد دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کی اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور کیا۔ میدان میں پیش آنے والے اس منظر نے شائقین کی توجہ حاصل کی کیونکہ عام طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں سخت مقابلے کے باوجود کھلاڑیوں سے کھیل کے ضابطوں اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔

آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی

آئی سی سی نے دونوں کھلاڑیوں کو آرٹیکل 2.12 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ یہ شق کسی کھلاڑی، سپورٹ اسٹاف، امپائر، میچ ریفری یا بین الاقوامی میچ سے متعلق کسی دوسرے فرد کے ساتھ نامناسب جسمانی رابطے سے متعلق ہے۔ آئی سی سی نے اس معاملے کو لیول ون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لیول ون کی خلاف ورزیوں میں سزا کے طور پر سرزنش سے لے کر کھلاڑی کی میچ فیس کے 50 فیصد تک جرمانہ اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس شامل ہوسکتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں دونوں کھلاڑیوں کو 25 فیصد جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا ہے۔

دونوں کھلاڑیوں نے سزا قبول کرلی

آئی سی سی کے مطابق یشسوی جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کرلی۔ اس فیصلے کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت نہیں رہی۔

مزید پڑھیں :

صرف 642 گیندوں پر فیصلہ ، تاریخ کا مختصر ترین ٹیسٹ میچ کن دو ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کے خلاف گزشتہ 24 ماہ کے دوران اس نوعیت کی کوئی سابقہ خلاف ورزی موجود نہیں تھی۔ اسی وجہ سے موجودہ کارروائی میں انہیں کسی معطلی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

جیسوال کی وکٹ کے بعد بڑھا تنازع

یشسوی جیسوال نے اپنی اننگز کے دوران جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی، تاہم اسیتھا فرنینڈو کی گیند پر وہ 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ کے بعد ہونے والا تنازع میچ کے ابتدائی دن کا نمایاں واقعہ بن گیا۔

رپورٹس کے مطابق فرنینڈو کی جانب سے جیسوال کو آؤٹ کرنے کے بعد دیا گیا ردعمل بھارتی بیٹر کو ناگوار گزرا، جس کے بعد وہ واپس بولر کی جانب گئے۔ دونوں کے درمیان پہلے زبانی بحث ہوئی اور پھر صورتحال جسمانی رابطے تک پہنچ گئی۔ بھارتی بیٹنگ کوچ ستانشو کوٹک نے بھی بعد میں تسلیم کیا کہ جیسوال کو فرنینڈو کے اتنے قریب نہیں جانا چاہیے تھا، اگرچہ انہوں نے اسے میچ کے دباؤ اور اس وقت کے جذبات سے جوڑا۔

ڈی میرٹ پوائنٹ کی اہمیت کیا ہے؟

آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت ڈی میرٹ پوائنٹس کھلاڑی کے ڈسپلنری ریکارڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔ موجودہ کیس میں جیسوال اور فرنینڈو دونوں کے ریکارڈ میں ایک ایک پوائنٹ شامل ہوا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کے ڈی میرٹ پوائنٹس 24 ماہ کے دوران چار یا اس سے زیادہ ہوجائیں تو انہیں معطلی پوائنٹس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں کھلاڑی کو میچ سے باہر بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔ دونوں کرکٹرز کے لیے موجودہ ایک ایک پوائنٹ فوری معطلی کا سبب نہیں بنتا، تاہم مستقبل میں کسی مزید خلاف ورزی کی صورت میں ان کا ڈسپلنری ریکارڈ اہم ہوسکتا ہے۔

دوسرے ٹیسٹ میں مقابلے کی شدت

بھارت اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ کولمبو میں کھیلا جارہا ہے اور دونوں ٹیمیں سیریز میں اہم برتری حاصل کرنے کے لیے میدان میں موجود ہیں۔ پہلے ٹیسٹ میں بھارت نے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے باعث سری لنکا کے لیے دوسرا ٹیسٹ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

دوسرے ٹیسٹ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا اور اسی ماحول میں جیسوال اور فرنینڈو کا تنازع بھی سامنے آیا۔ تاہم آئی سی سی کی کارروائی کے بعد معاملہ اب ضابطہ اخلاق کے تحت نمٹا دیا گیا ہے اور دونوں کھلاڑی اپنی ٹیموں کے لیے کھیل پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔

کھیل کے جذبے کو برقرار رکھنے کی ضرورت

کرکٹ میں جارحانہ مقابلہ اور جذبات کا اظہار کھیل کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن جسمانی رابطے اور نامناسب رویے کے حوالے سے آئی سی سی کے قوانین واضح ہیں۔ موجودہ واقعے میں بھی اصل کارروائی اسی وجہ سے ہوئی کہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان معاملہ صرف زبانی بحث تک محدود نہیں رہا۔

جیسوال اور فرنینڈو دونوں نے سزا قبول کرکے معاملہ مزید آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ 25 فیصد میچ فیس کا جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ اگرچہ سخت ترین سزا نہیں، تاہم یہ دونوں کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح یاد دہانی ضرور ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں جذباتی لمحات کے دوران بھی نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ہمیں فالو کریں