اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد معاشی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف ایرانی معیشت کو دباؤ میں لانا نہیں بلکہ ایرانی معاشرے میں اندرونی انتشار، بے چینی اور تباہی پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکومت ان حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تہران میں خطاب
مسعود پزشکیان نے تہران میں وزارت محنت کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی پابندیوں اور ایران کو درپیش موجودہ مشکلات پر اظہار خیال کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا مختلف پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے ایرانی معاشرے کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران کے خلاف دباؤ کا مقصد صرف اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنا نہیں بلکہ ملک کے اندر ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن کے نتیجے میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو اور معاشرتی استحکام متاثر ہو۔
دشمنوں پر الزام
ایرانی صدر نے بیرون ملک مقیم بعض ایرانی شہریوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ کچھ ایرانی عناصر تہران کے دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک کے اندر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان کے مطابق بیرون ملک موجود بعض عناصر ایرانی عوام کو مشتعل کرنے اور ملک میں بدامنی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو ایران کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیا۔
معاشی دباؤ میں اضافہ
ایران پہلے ہی طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ پابندیوں نے ایرانی معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے جبکہ بیرونی تجارت، مالیاتی لین دین اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی بھی مشکل ہوئی ہے۔
مسعود پزشکیان نے تسلیم کیا کہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے اثرات ملکی معیشت اور عوامی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم ان کا مؤقف ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔
تیل برآمدات متاثر
ایران کی معیشت کے لیے تیل کی برآمدات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں اور دیگر اقدامات کے باعث ایرانی تیل کی بیرون ملک فروخت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایرانی تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھنے سے ملک کو حاصل ہونے والی آمدنی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کے لیے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا اور عوامی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
غیر ملکی کرنسی کا مسئلہ
پابندیوں کا ایک اہم اثر غیر ملکی کرنسی تک محدود رسائی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی معیشت میں ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی دستیابی محدود ہونے سے کاروباری سرگرمیوں، درآمدات اور مالیاتی معاملات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں کرنسی کی قدر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عام شہریوں کی قوت خرید پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
امریکی کارروائی
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے 24 اگست کو ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو بیرونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا اور اس کے معاشی وسائل پر دباؤ مزید بڑھانا بتایا گیا ہے۔
امریکی پابندیوں کا بنیادی ہدف ایران کے مالی اور معاشی ذرائع کو محدود کرنا ہے تاکہ تہران کی معاشی سرگرمیوں اور بیرونی تجارت پر دباؤ برقرار رہے۔
عوامی زندگی متاثر
ایرانی صدر کے مطابق پابندیوں کے اثرات اب صرف سرکاری یا تجارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ عوامی زندگی بھی ان سے متاثر ہو رہی ہے۔ معاشی مشکلات بڑھنے کی صورت میں روزمرہ اخراجات، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔
ایران میں پہلے ہی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کے مسائل موجود ہیں، اس لیے بیرونی پابندیوں کا مزید دباؤ عام شہریوں کے لیے حالات کو مشکل بنا سکتا ہے۔
داخلی استحکام اہم
مسعود پزشکیان کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے معاشی دباؤ کے ساتھ داخلی استحکام کو بھی مرکزی مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دشمن قوتیں ایران کے خلاف بیرونی دباؤ کے ساتھ ملک کے اندر بھی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایرانی حکومت کے لیے موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف پابندیوں سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹا جائے اور دوسری طرف داخلی سطح پر عوامی بے چینی اور سیاسی اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
تہران کا مؤقف
ایرانی صدر کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکی پابندیوں کو محض اقتصادی کارروائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے وسیع تر دباؤ کی حکمت عملی قرار دے رہا ہے۔ پزشکیان کے مطابق ایران کو کمزور کرنے کے لیے معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں آنے والے دنوں میں پابندیوں کا دباؤ اور اس کے معاشی و سیاسی اثرات اہم رہیں گے۔ تہران کے لیے معاشی استحکام، عوامی اعتماد برقرار رکھنا اور داخلی اتحاد قائم رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ کی پالیسی جاری رہنے کی صورت میں ایرانی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
