اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب میں پارٹی کارکنوں سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کو پنجاب کے عوام سے نہیں بلکہ دوسرے صوبوں سے خطرہ ہے، انہیں پنجاب کے لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں۔
لاہور میں کارکنوں سے گفتگو
سہیل آفریدی نے لاہور میں دو موریہ پل کے مقام پر پارٹی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ان کا بھی ہے اور وہ پنجابیوں کو اپنا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پنجاب کے عوام سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور وہ پنجاب کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے خطاب میں مریم نواز کی حکومت پر بھی سخت سیاسی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ پنجاب کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔
مریم نواز پر الزام
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز مبینہ طور پر جعلی ووٹوں کے ذریعے اقتدار میں بیٹھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے موجودہ صوبائی حکومت کو قبول نہیں کیا۔
وزیراعلیٰ کے پی کے اس بیان کو صوبائی حکومتوں اور تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
پنجاب سے تعلق کا اظہار
سہیل آفریدی نے پنجاب کے عوام سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پنجاب میرا اور میں پنجابیوں کا ہوں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شہریوں اور ان کے درمیان کسی قسم کی دوری نہیں۔
انہوں نے اس موقع پر پارٹی کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ انہیں پنجاب کے عوام سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
پنجاب پولیس پر تنقید
سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میلاد کی تیاری کرنے والے اشتیاق احمد کو پنجاب پولیس نے شہید کیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ انہیں پنجاب پولیس سے سکیورٹی نہیں چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ پنجاب پولیس پر اعتماد نہیں کرتے اور اپنے تحفظ کے حوالے سے اس فورس کی خدمات لینے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
اشتیاق احمد کے گھر پہنچ گئے
سہیل آفریدی جاں بحق کارکن اشتیاق احمد کے گھر بھی گئے جہاں انہوں نے اہلخانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں :مسلم لیگ ن میں صوبوں کے معاملے پر کوئی اختلاف نہیں،مریم نواز
وزیراعلیٰ کے پی کی اشتیاق احمد کے گھر آمد کے موقع پر علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے۔ ان کی آمد سے قبل پولیس کی بھاری نفری چمڑا منڈی کے علاقے میں پہنچ گئی۔
قریبی دکانیں بند
پولیس کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی آمد سے قبل قریبی دکانیں بھی بند کرا دی گئیں۔ علاقے میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے اور آمدورفت پر بھی نظر رکھی گئی۔
سہیل آفریدی کی آمد کے باعث کارکنوں کی موجودگی اور ممکنہ سیاسی سرگرمی کے پیش نظر انتظامیہ نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔
دفعہ 144 نافذ
ضلعی انتظامیہ کے مطابق علاقے میں دفعہ 144 پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پابندیوں پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث علاقے میں اجتماع اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
سیاسی کشیدگی برقرار
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا دورہ لاہور اور ان کے سخت سیاسی بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تحریک انصاف اور وفاقی و پنجاب حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں نہ صرف مریم نواز کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پنجاب پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پنجاب حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر اشتیاق احمد کی ہلاکت کے معاملے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
عوامی ردعمل پر نظر
سہیل آفریدی نے پنجاب کے عوام کو اپنے ساتھ قرار دیتے ہوئے پولیس اور صوبائی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد لاہور میں ان کی سیاسی سرگرمیوں اور کارکنوں کی موجودگی پر انتظامیہ کی نظر برقرار ہے۔
موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا لاہور دورہ سیاسی طور پر بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک ہی موقع پر پنجاب حکومت، مریم نواز اور پنجاب پولیس کے خلاف سخت مؤقف پیش کیا اور جاں بحق کارکن کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کی۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
