چیٹ جی پی ٹی کی اہم سہولت، حساس چیٹس کو پاس کوڈ سے چھپانا ممکن ہوگا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چیٹ جی پی ٹی دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے مقبول ترین پلیٹ فارمز میں شامل ہے اور اسے استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صارفین اسے نہ صرف عام معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ ذاتی معاملات، دفتری امور، مالی منصوبہ بندی، دستاویزات اور دیگر حساس نوعیت کی گفتگو کے لیے بھی اس کی مدد لیتے ہیں۔

ایسے میں چیٹ جی پی ٹی میں پرائیویسی سے متعلق نئے فیچر کی اطلاعات سامنے آنا صارفین کے لیے خاصی اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے اینڈرائیڈ ایپ میں ایسے فیچر پر کام کیا جارہا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی مخصوص چیٹس کو لاک کرسکیں گے۔

حساس گفتگو کو الگ سے لاک کرنے کی سہولت

اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کی اینڈرائیڈ ایپ میں ایسے اشارے ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی لاک چیٹس یا پروٹیکٹ چیٹس نامی فیچر متعارف کرانے کی تیاری کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

چیٹ جی پی ٹی کی بڑی اپ ڈیٹ، صارفین کیلئے اے آئی ماڈلز کا انتخاب آسان

اس سہولت کے ذریعے صارف کسی مخصوص گفتگو کو اضافی سکیورٹی فراہم کرسکے گا۔ رپورٹ کے مطابق لاک کی گئی چیٹ تک رسائی کے لیے پن کوڈ یا فنگر پرنٹ اسکین جیسی تصدیقی سہولت استعمال کی جاسکتی ہے۔

یہ فیچر خاص طور پر ان افراد کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے جو اپنے موبائل فون پر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ فون کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں جانے کی صورت میں ان کی نجی گفتگو آسانی سے دیکھی جاسکے۔

لاک چیٹس عام ہسٹری میں بھی نظر نہیں آئیں گی

اس نئے فیچر کی سب سے نمایاں بات یہ ہوسکتی ہے کہ لاک کی گئی گفتگو صرف پاس کوڈ یا بائیومیٹرک تصدیق سے محفوظ نہیں ہوگی بلکہ اس کی موجودگی کو بھی عام انٹرفیس سے چھپایا جاسکے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی چیٹ کو لاک کرنے کے بعد اس کا عنوان اور مواد چیٹ جی پی ٹی کی سائیڈ بار، ہسٹری اور سرچ رزلٹس میں ظاہر نہیں ہوگا۔ اس طرح صارف کو اپنی حساس گفتگو کو عام چیٹس سے الگ رکھنے میں مزید سہولت مل سکتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص چیٹ جی پی ٹی میں ذاتی منصوبہ بندی، نجی دستاویزات یا کسی حساس معاملے پر تفصیلی گفتگو کرتا ہے تو وہ اس مخصوص چیٹ کو لاک کرکے اسے عام چیٹ لسٹ سے ہٹانے کے قابل ہوسکتا ہے۔

موبائل فون دوسروں کے ہاتھ میں جانے کی صورت میں فائدہ

اس فیچر کا سب سے بڑا فائدہ ایسے صارفین کو ہوسکتا ہے جو اپنا موبائل فون گھر والوں، دوستوں یا ساتھی کارکنوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ عام طور پر فون پر موجود چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کھلا ہو تو کوئی دوسرا شخص چیٹ ہسٹری دیکھ سکتا ہے۔

نئے نظام کے تحت صارفین کو حساس گفتگو کے لیے ایک اضافی حفاظتی تہہ مل سکتی ہے۔ اگر لاک چیٹ کے لیے فنگر پرنٹ یا پن کوڈ کی تصدیق لازمی ہوگی تو صرف فون ان لاک ہونے سے محفوظ گفتگو تک رسائی ممکن نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں :

 گوگل جیمینائی نے دنیا کو چونکا دیا: چیٹ جی پی ٹی اور دیگر حریف پیچھے رہ گئے؟ 

یہ پہلو خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو چیٹ جی پی ٹی کو ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

عارضی چیٹس سے مختلف ہوگا نیا فیچر

چیٹ جی پی ٹی میں پہلے ہی عارضی چیٹس کا آپشن موجود ہے، لیکن لاک چیٹس کا تصور اس سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔

عارضی چیٹ کا بنیادی مقصد ایسی گفتگو کرنا ہے جسے صارف مستقل چیٹ ہسٹری کا حصہ نہیں بنانا چاہتا۔ اس کے برعکس لاک چیٹ کا مقصد کسی موجودہ گفتگو کو محفوظ رکھنا اور اس تک غیر مجاز رسائی روکنا معلوم ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صارف کسی حساس موضوع پر طویل مدت تک گفتگو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے ہر بار عارضی چیٹ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ مخصوص گفتگو کو لاک کرکے اپنی چیٹ ہسٹری میں موجود دیگر مواد سے الگ رکھ سکے گا۔

میموری اور ری کال کے حوالے سے اب بھی سوالات موجود

اگرچہ اس ممکنہ فیچر کے حوالے سے ابتدائی معلومات سامنے آگئی ہیں لیکن اس کے کئی اہم پہلو ابھی واضح نہیں ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال موجود ہے کہ لاک کی گئی چیٹس کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی کے میموری اور ری کال فیچرز کس طرح کام کریں گے۔

یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ لاک چیٹ کو چیٹ جی پی ٹی کی مصنوعی ذہانت مستقبل کی گفتگو میں کس حد تک استعمال کرسکے گی۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ لاک کی گئی گفتگو میں موجود معلومات میموری سسٹم کا حصہ بنیں گی یا انہیں مکمل طور پر الگ رکھا جائے گا۔

ان سوالات کے جوابات فیچر کی باضابطہ لانچ اور اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کی جانے والی تفصیلات کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔

ابھی باضابطہ لانچ کی تاریخ سامنے نہیں آئی

رپورٹ میں اس ممکنہ فیچر کے حوالے سے اشارے ضرور ملے ہیں لیکن اس کی حتمی دستیابی کے بارے میں کوئی واضح تاریخ سامنے نہیں آئی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ لاک چیٹس کا آپشن پہلے صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا یا بعد میں اسے آئی فون سمیت دیگر پلیٹ فارمز تک بھی وسعت دی جائے گی۔

عام طور پر نئی سہولیات کی تیاری کے دوران ایپ کے اندر موجود کوڈ یا تجرباتی فیچرز سے ان کے بارے میں ابتدائی معلومات سامنے آتی ہیں۔ تاہم ایسا ضروری نہیں کہ آزمائشی مرحلے میں نظر آنے والا ہر فیچر فوری طور پر تمام صارفین کے لیے جاری کردیا جائے۔

صارفین کی پرائیویسی پر بڑھتی توجہ

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کی پرائیویسی کا معاملہ بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ لوگ اب اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ایسی معلومات بھی شیئر کرتے ہیں جو عام سرچ انجن میں تلاش کرنے سے کہیں زیادہ ذاتی نوعیت کی ہوسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں :

چیٹ جی پی ٹی کی بڑی اپ ڈیٹ، صارفین کیلئے اے آئی ماڈلز کا انتخاب آسان

اسی وجہ سے چیٹس کو لاک کرنے جیسی سہولت صارفین کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول دینے کی کوشش سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر یہ فیچر اسی انداز میں متعارف ہوتا ہے جس کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے تو صارفین اپنی اہم گفتگو کو حذف کیے بغیر اسے دوسروں کی نظروں سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

فیچر کی آمد کا انتظار

فی الحال لاک چیٹس کے بارے میں دستیاب معلومات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور اوپن اے آئی کی جانب سے اس کی مکمل خصوصیات، سکیورٹی طریقہ کار اور باضابطہ ریلیز کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔

تاہم اگر یہ سہولت متعارف کرائی جاتی ہے تو چیٹ جی پی ٹی کے صارفین کے لیے یہ پرائیویسی کے حوالے سے ایک مفید اضافہ ثابت ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو اے آئی اسسٹنٹ کے ذریعے حساس نوعیت کی طویل گفتگو محفوظ رکھتے ہیں، ان کے لیے مخصوص چیٹس کو پن کوڈ یا فنگر پرنٹ سے محفوظ کرنے کا آپشن روزمرہ استعمال میں خاصا کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں