اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی اہم ایرانی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی تصدیق
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور سمیت پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
ایرانی ترجمان نے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان موجود قریبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا۔
خطے کی صورتحال اہم موضوع
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں کررہا ہے۔
تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون بھی پہلے سے اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اعلیٰ سطحی رابطے کو خاص اہمیت دی جارہی ہے۔
عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران دورے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
ایرانی حکومت کے مطابق گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتحال اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے معاملات زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کو موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا اہم حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان کا سفارتی کردار
حالیہ علاقائی حالات میں پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ ایران بھی پاکستان کی ان کوششوں کو اہمیت دیتا دکھائی دے رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ اس تناظر میں محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
ایران کو شدید دباؤ کا سامنا
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش شدید مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بدستور جنگی کیفیت میں ہے اور اسے معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔
ایرانی صدر نے امریکا کی سخت پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان دباؤ کے باوجود ثابت قدم ہے اور غیر مساوی جنگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
امریکی دباؤ کا ذکر
مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں امریکا پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
ایرانی صدر کے مطابق مخالف قوتوں کی خواہش تھی کہ ایران کو کمزور اور تباہ کردیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مضبوط اتحاد کے نتیجے میں مزید طاقتور ہوکر سامنے آیا ہے۔
دوطرفہ تعاون پر توجہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات بھی زیر بحث آسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون پہلے ہی اہمیت رکھتا ہے۔
تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔
اہم سفارتی مرحلہ
تجزیاتی اعتبار سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا موجودہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے میں کشیدگی اور سکیورٹی خدشات نمایاں ہیں۔ اس لیے پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست اعلیٰ سطحی رابطہ علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔
اگر پاکستان اور ایران موجودہ صورتحال میں باہمی تعاون اور سفارتی رابطوں کو مزید فعال بناتے ہیں تو اس کے اثرات دونوں ممالک کے تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کے وسیع تر امن و استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم دورے کے نتیجے میں سامنے آنے والی بات چیت اور فیصلے ہی یہ واضح کریں گے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں علاقائی کشیدگی کم کرنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
