اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور اختلافات کے حل کے لیے کسی نئے ثالث کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ امریکی حکومت کی پالیسی اور اس کا طرزِ عمل ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں مختلف ممالک اپنے طور پر رابطوں اور سفارتی کوششوں میں کردار ادا کررہے ہیں، تاہم تہران نے کسی نئے ملک کو باضابطہ ثالث مقرر نہیں کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض یورپی ممالک بھی دوطرفہ رابطوں کے دوران اپنی آرا پیش کرتے اور سفارتی معاونت کی پیشکش کرتے رہے ہیں۔
پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک رابطوں میں مصروف
اسماعیل بقائی کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی رابطوں میں سہولت فراہم کرنا معمول کی بات ہے، لیکن اسے ایران اور امریکا کے درمیان کسی نئے ثالث کے باضابطہ طور پر سامنے آنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے کسی نئے ثالث کو قبول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ مذاکرات کے لیے کسی واسطے کی عدم موجودگی نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی پالیسی میں بعض ایسے اندازے اور اقدامات شامل ہیں جو ماضی میں بھی نتائج کے اعتبار سے کامیاب ثابت نہیں ہوئے۔
بقائی نے کہا کہ ایران کسی ایسے عمل کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے امریکا کی پالیسی اور عملی اقدامات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت پر مذاکرات
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار تشکیل دینے پر مذاکرات جاری ہیں۔
بقائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں موجود سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان زیرِ غور منصوبے کو حتمی شکل دینے میں وقت لگ رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مختلف ممالک کی عسکری موجودگی اور جاری کشیدگی نے بحری نقل و حرکت سے متعلق معاملات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں جس کے ذریعے دونوں ساحلی ممالک کے مفادات اور خودمختار حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جاسکے۔
مشترکہ طریقہ کار پر سنجیدہ بات چیت جاری
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری نظام کے قیام سے متعلق مذاکرات سنجیدگی سے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک باہمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مشترکہ بیان اور عملی طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کررہے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں واشنگٹن کی جانب سے بعض وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے باوجود تہران اور مسقط نے اپنے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں :
ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا،بات چیت کے لیے تیار ہیں،امریکہ
انہوں نے اس عمل کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی ایک فریق کے مفاد کو ترجیح دینا نہیں بلکہ بحری تجارت اور محفوظ آمدورفت کے لیے قابلِ عمل انتظام تشکیل دینا ہے۔
عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی توانائی کی تجارت میں اس راستے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور عمان کی جانب سے محفوظ بحری آمدورفت کے لیے کسی مشترکہ طریقہ کار پر غور کو اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔ تاہم اس نظام کی حتمی شکل، اس پر عمل درآمد اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال مستقبل میں اس کی افادیت کا تعین کرے گی۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے نئے ثالث کی تلاش بنیادی ضرورت نہیں۔ تہران کا اصرار ہے کہ اصل پیش رفت امریکی پالیسی میں تبدیلی اور ایسے اقدامات سے ممکن ہوگی جن سے باہمی اعتماد بحال کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
