کینیڈا اور امریکا میں تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ،ٹیرف سے بچنے کی کوشش تیز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات انتہائی نازک اور شدید مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان نئے امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے آئندہ 48 گھنٹے اہم قرار دیے جارہے ہیں۔

وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کو سینٹ جانز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان مذاکرات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، اس لیے وہ بات چیت کی تفصیلات عوامی سطح پر بیان کرنے سے گریز کررہے ہیں۔

مارک کارنی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور کینیڈا ان مذاکرات میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات کو عوام کے سامنے کرنے کے بجائے سفارتی سطح پر آگے بڑھانا زیادہ مناسب ہے۔

ٹرمپ سے رابطہ متوقع

کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ انہیں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کے مواقع ملیں گے۔ اسی دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان پیر کی سہ پہر ٹیلی فون پر بھی گفتگو ہوئی، تاہم وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بات چیت کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتیجے تک نہ پہنچ سکے تو بھی کینیڈا کے پاس مختلف حالات کے لیے منصوبہ موجود ہے۔

نئے ٹیرف کا خدشہ

مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکی صدر کی جانب سے دھمکی دیے گئے نئے سیکشن 338 ٹیرف کو روکنا ہے۔ یہ ٹیرف 19 اگست سے مختلف کینیڈین مصنوعات پر عائد ہوسکتے ہیں اور بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ڈیوٹی لگنے کا خدشہ ہے۔

کینیڈا پہلے ہی امریکی اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی سمیت مختلف شعبوں پر عائد ٹیرف سے متاثر ہے۔ کینیڈین حکام کی کوشش ہے کہ نئے ٹیرف کو روکا جائے اور پہلے سے عائد ڈیوٹیوں میں بھی خاطر خواہ کمی حاصل کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا سے تجارتی معاہدہ،کینیڈا نئی امریکی ٹیرف پابندیوں سے بچنے کے لیے مشکلات کا شکار

واشنگٹن میں اہم ملاقات

کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور چیف تجارتی مذاکرات کار جینس چیاریٹ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک سے پیر کو اہم ملاقات کی۔

یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ تک جاری رہی، جو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں سب سے طویل قرار دی گئی۔ تاہم مذاکرات کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچے ہیں یا نہیں۔لی بلانک نے امریکی حکام کے دفتر سے باہر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ کینیڈا مذاکرات جاری رکھے گا اور ابھی کام مکمل نہیں ہوا۔

امریکا کے مطالبات

امریکی انتظامیہ مذاکرات کے دوران کینیڈا سے متعدد اہم رعایتیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ امریکی شراب کو کینیڈا کے صوبائی سرکاری اسٹورز میں دوبارہ فروخت کے لیے دستیاب کیا جائے۔

امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی گاڑیوں پر عائد جوابی ٹیرف ختم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ نظام، بالخصوص ڈیری سیکٹر میں کوٹے کی تقسیم کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

کینیڈا کی شرائط

دوسری جانب کینیڈا کی سب سے بڑی ترجیح نئے سیکشن 338 ٹیرف کو روکنا ہے۔ کینیڈین حکومت چاہتی ہے کہ امریکی انتظامیہ ان نئے محصولات کو واپس لے اور ان شعبوں میں بھی ٹیرف میں کمی کرے جو گزشتہ ایک سال سے امریکی تجارتی پابندیوں سے شدید متاثر ہیں۔

کینیڈا خصوصاً لکڑی، اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں جیسے شعبوں کے لیے زیادہ سازگار تجارتی شرائط حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

صوبوں کا دباؤ

مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ امریکی شراب کی فروخت سے متعلق صوبائی پالیسیوں کو قرار دیا جارہا ہے۔ کینیڈا کے بعض صوبے امریکی شراب سے متعلق پابندیوں میں فوری تبدیلی پر آمادہ نہیں، جبکہ واشنگٹن اسے مذاکرات میں اہم مطالبے کے طور پر پیش کررہا ہے۔

اس صورتحال نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ وزیراعظم کارنی کو ایک طرف امریکا سے معاہدہ کرنا ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومتوں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔

جوابی کارروائی کی تیاری

کینیڈین حکام کو خدشہ ہے کہ اگر 19 اگست سے امریکی ٹیرف نافذ ہوگئے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

وزیراعظم کے کینیڈا-امریکا مشاورتی بورڈ کے رکن اور سابق کنزرویٹو رہنما ایرن او ٹول کے مطابق کینیڈا نے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی مذاکرات کاروں کی جانب سے طے کیے جانے والے کم ٹیرف پر رضامند ہوتے ہیں یا نہیں۔

او ٹول نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے 50 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کیے جاتے ہیں تو کینیڈا کے پاس جوابی کارروائی کے سوا محدود راستے رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق کینیڈا پہلے ہی ممکنہ جوابی اقدامات کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

تجارتی جنگ کا خطرہ

کینیڈین حکام اور کاروباری حلقوں کو خدشہ ہے کہ نئے ٹیرف دونوں ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ امریکا اور کینیڈا ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، اس لیے ٹیرف میں اضافے کا اثر صنعت، روزگار، صارفین اور کاروباری لاگت تک پھیل سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان جوابی ٹیرف کا سلسلہ بھی شروع ہوسکتا ہے، جس سے پہلے سے موجود تجارتی اختلافات مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔

اگلے 48 گھنٹے اہم

مارک کارنی کے مطابق آنے والے 48 گھنٹے مذاکرات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کینیڈین اور امریکی حکام کی کوشش ہے کہ 19 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے کوئی ایسا سمجھوتا طے پا جائے جس سے نئے امریکی ٹیرف سے بچا جاسکے۔

تاہم دونوں جانب مطالبات میں نمایاں فرق موجود ہے اور واشنگٹن نے اپنے ٹیرف نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے کوئی واضح آمادگی ظاہر نہیں کی۔

اب نظریں مارک کارنی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع رابطے پر ہیں، جس میں یہ طے ہوسکتا ہے کہ دونوں ممالک تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچتے ہیں یا 19 اگست سے نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایک نئے تجارتی محاذ کا آغاز ہوتا ہے۔

ہمیں فالو کریں