اردو ورلڈ کینیڈٓ ( ویب نیوز ) نیدرلینڈز کے ماہرینِ قلب کی تین نئی تحقیقات میں ڈائیگوکسن کی کم خوراک کے ہارٹ فیلیئر کے مریضوں پر ممکنہ فوائد سامنے آگئے۔
دل کی کمزوری یعنی ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کے لیے نیدرلینڈز سے سامنے آنے والی نئی طبی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن روشن کردی ہے۔ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گروننجن کے ماہرینِ قلب کی قیادت میں ہونے والی تین نئی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائیگوکسن کی کم خوراک ہارٹ فیلیئر کے مریضوں میں بیماری کے باعث اسپتال داخل ہونے کے امکانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
محققین کے مطابق کم خوراک میں استعمال ہونے والی اس نسبتاً پرانی اور کم قیمت دوا نے ایسے مریضوں میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں جو پہلے ہی ہارٹ فیلیئر کے لیے تجویز کردہ معمول کے علاج سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ ایک اہم تحقیق میں کم خوراک والی ڈائیگوکسن استعمال کرنے والے مریضوں میں دل کی کمزوری کے باعث اسپتال داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ ہارٹ فیلیئر کے تمام مریض خود سے ڈائیگوکسن کا استعمال شروع کردیں۔ دوا کا استعمال مریض کی مجموعی صحت، بیماری کی نوعیت اور دیگر ادویات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف طبی ماہر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
تین تحقیقات نے نئی بحث چھیڑ دی
یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گروننجن کے ماہرینِ قلب ڈرک جین وین ویلڈوزین، کیوین ڈیمن اور پیٹر وین ڈر میر کی رہنمائی میں ہونے والی تین تحقیقات میں ڈائیگوکسن کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :
دل کے مریضوں کیلئے خوشخبری ، علامات ظاہر ہونے سے قبل قلبی خطرات بتانےوالا آلہ تیار
ماہرین طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ہارٹ فیلیئر کے موجودہ علاج میں ڈائیگوکسن کو اضافی دوا کے طور پر شامل کرنے سے مریضوں کو مزید فائدہ حاصل ہوسکتا ہے یا نہیں۔ نئی تحقیقات نے اس سوال پر دوبارہ توجہ مرکوز کردی ہے اور کم خوراک والی ڈائیگوکسن کے ممکنہ فوائد کے حوالے سے اہم شواہد فراہم کیے ہیں۔
محققین کے مطابق ان نتائج سے مستقبل میں ہارٹ فیلیئر کے علاج سے متعلق طبی رہنما اصولوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر مزید شواہد ان نتائج کی تائید کرتے ہیں تو نسبتاً سستی دوا کو زیادہ مریضوں کے علاج میں شامل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تقریباً ایک ہزار مریضوں پر تحقیق
ان تحقیقات میں سے ایک اہم مطالعے میں نیدرلینڈز کے 43 طبی مراکز سے ہارٹ فیلیئر کے تقریباً ایک ہزار مریضوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق کے دوران مریضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔
ایک گروپ کے مریضوں کو ان کے معمول کے علاج کے ساتھ کم خوراک میں ڈائیگوکسن دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو دوا کے بجائے پلیسبو دیا گیا۔ اس طریقے سے محققین نے دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا تاکہ یہ جاننے میں مدد مل سکے کہ ڈائیگوکسن کے اضافے سے مریضوں کی حالت میں حقیقی فرق پڑتا ہے یا نہیں۔
مریضوں کی تقریباً تین سال تک نگرانی کی گئی۔ اس طویل عرصے کے دوران ان کی صحت اور بیماری کے باعث اسپتال داخل ہونے کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج میں سامنے آیا کہ کم خوراک والی ڈائیگوکسن استعمال کرنے والے مریضوں کے گروپ میں دل کی کمزوری کے باعث اسپتال داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ہارٹ فیلیئر کیا ہے؟
ہارٹ فیلیئر ایک سنگین اور بڑھتا ہوا طبی مسئلہ ہے جس میں دل جسم کی ضروریات کے مطابق خون کو مؤثر انداز میں پمپ نہیں کرپاتا۔ اس بیماری کے نتیجے میں مریض کو معمول کی سرگرمیاں انجام دینے میں بھی دشواری پیش آسکتی ہے۔
ہارٹ فیلیئر کی عام علامات میں سانس کا پھولنا، غیر معمولی تھکن اور جسمانی سرگرمی کے دوران کمزوری شامل ہوسکتی ہے۔ بیماری کی شدت بڑھنے کی صورت میں مریضوں کو بار بار طبی امداد اور اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نیدرلینڈز میں اندازاً پانچ لاکھ سے زائد افراد اس بیماری کا شکار ہیں اور ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کی تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیماری کے مؤثر اور قابل رسائی علاج کی تلاش طبی ماہرین کے لیے اہم ترجیح بنی ہوئی ہے۔
موجودہ علاج میں چار اہم ادویات
ہارٹ فیلیئر کے موجودہ علاج میں عام طور پر چار اہم اقسام کی ادویات کا مجموعہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین غیر رسمی طور پر اس مجموعے کو ’’فنٹاسٹک فور‘‘ بھی کہتے ہیں۔
ان ادویات کا بنیادی مقصد دل پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا، بیماری کی شدت کو قابو میں رکھنا اور مریض کی مجموعی حالت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بعض مریضوں کو بیماری کی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال داخل ہونے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔
اسی پس منظر میں ماہرین یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آیا ڈائیگوکسن کو موجودہ علاج کے ساتھ پانچویں دوا کے طور پر شامل کرنے سے مریضوں کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پرانی دوا دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی
ڈائیگوکسن کوئی نئی دوا نہیں بلکہ طویل عرصے سے طبی میدان میں استعمال ہوتی آرہی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہارٹ فیلیئر کے علاج کے نئے طریقے سامنے آنے کے باعث اس دوا کے کردار پر بحث کم ہوگئی تھی۔
حالیہ تحقیق نے ایک مرتبہ پھر ڈائیگوکسن کو طبی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ کم خوراک میں اس کے استعمال سے اسپتال داخلوں میں کمی کے نتائج نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ پرانی اور نسبتاً سستی دوا جدید علاج کے ساتھ ایک اضافی کردار ادا کرسکتی ہے۔
محققین کے مطابق اس دریافت کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ اسپتال داخلوں میں کمی دیکھی گئی بلکہ اس لیے بھی ہے کہ کم قیمت علاج ایسے مریضوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہوسکتا ہے جنہیں طویل عرصے تک علاج کی ضرورت رہتی ہے۔
ہر مریض کے لیے دوا موزوں نہیں
تحقیق کے حوصلہ افزا نتائج کے باوجود ماہرین نے احتیاط پر زور دیا ہے۔ ڈائیگوکسن ایسی دوا نہیں جسے ہارٹ فیلیئر کا ہر مریض اپنی مرضی سے استعمال کرسکے۔
مریض کی عمر، مجموعی طبی حالت، بیماری کی شدت اور پہلے سے استعمال کی جانے والی ادویات سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسی لیے ماہرین کے مطابق ڈائیگوکسن کے استعمال کا فیصلہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی کیا جانا چاہیے۔
نئی تحقیق کو دوا کے ممکنہ فوائد کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر مریض کے لیے اس دوا کا استعمال یکساں طور پر مفید ہوگا۔
طبی رہنما اصولوں میں تبدیلی کا امکان
تحقیقات کی قیادت کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والے نتائج مستقبل میں ہارٹ فیلیئر کے علاج سے متعلق رہنما اصولوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اگر مزید تحقیق میں بھی اسی نوعیت کے نتائج سامنے آتے ہیں تو ڈائیگوکسن کے استعمال پر طبی حلقوں میں دوبارہ سنجیدہ غور کیا جاسکتا ہے۔
یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ ہارٹ فیلیئر ایک طویل مدتی بیماری ہے اور مریضوں کو مسلسل علاج اور طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر نسبتاً کم قیمت دوا اسپتال میں داخل ہونے کے امکانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے تو اس کے طبی اور معاشی دونوں پہلوؤں سے فوائد سامنے آسکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج عالمی سطح پر پیش
ان تحقیقات کے نتائج طبی دنیا کے اہم سائنسی جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نتائج جرنل نیچر میڈیسن اور جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت دیگر سائنسی جرائد میں بھی شائع کیے گئے۔
تحقیق کے نتائج بارسلونا میں منعقد ہونے والی یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی ہارٹ فیلیئر کانگریس میں بھی پیش کیے گئے، جہاں دنیا بھر سے ماہرینِ قلب اور طبی محققین شریک ہوئے۔
مزید پڑھیں :
روزانہ ایک سیب کھانےکے حیران کن طبی فوائد
نئی تحقیقات نے ہارٹ فیلیئر کے علاج میں ایک پرانی دوا کے ممکنہ نئے کردار پر بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ تاہم ماہرین کے لیے اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ ان نتائج کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ کن مریضوں کو ڈائیگوکسن سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
فی الحال تحقیق کا سب سے نمایاں نتیجہ یہی ہے کہ کم خوراک والی ڈائیگوکسن کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر کے مریضوں میں بیماری کے باعث اسپتال داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ دریافت مستقبل میں علاج کے مزید مؤثر اور نسبتاً کم لاگت طریقوں کی تلاش میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے
