مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، خواجہ آصف

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے کسی الگ معاہدے کی ضرورت نہیں، ان کا تحفظ پاکستان کی ذمہ داری اور دینی فریضہ ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر مکہ معاہدہ موجود نہ بھی ہو تو مقدس مقامات کی حفاظت پاکستان کا فرض ہے۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مرحلہ آچکا ہے جہاں مکہ معاہدے کے تحت ذمہ داریاں سامنے آسکتی ہیں۔

معاہدے پر عملدرآمد

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ پاکستان پر لاگو ہوتا ہے اور ملک اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات میں نہیں جا سکتے، تاہم پاکستان مکہ معاہدے پر عمل کرنے کا پابند ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کے تحفظ کا معاملہ کسی ایک معاہدے یا مخصوص صورتحال تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو اہم سمجھتا ہے۔

سعودی عرب کی حمایت

وزیر دفاع نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال مزید شدت اختیار کرتی ہے اور لڑائی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان اور ترکیہ واضح طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سعودی عرب کو عملی اور سفارتی سطح پر اپنی حمایت فراہم کریں گے۔ خواجہ آصف کے مطابق خطے میں کسی بھی تنازع کے مزید پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

ایران سے متعلق سوال

ایران کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی صورتحال میں اگر ایران کسی ایک فریق کا کھل کر ساتھ دیتا ہے تو ان کی نظر میں یہ دانش مندانہ اقدام نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے ایسا کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھی پیغام پہنچایا جا چکا ہے جبکہ سعودی عرب کی طرف سے بھی پاکستان کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

علاقائی کشیدگی

خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے۔ ایران کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع اور خلیج میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث امن کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں کسی نئے محاذ کا کھلنا یا موجودہ تنازع کا مزید پھیلاؤ خطے کیلئے پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ ایک تنازع پہلے ہی کئی ممالک کو متاثر کر رہا ہو تو اس میں مزید فریقوں یا محاذوں کا شامل ہونا حالات کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

وزیر دفاع کے مطابق پاکستان نے اپنے پیغامات کے ذریعے متعلقہ فریقوں تک اپنا مؤقف پہنچا دیا ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی رابطہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے تناظر میں اپنی ذمہ داریوں کو سامنے رکھے گا۔

خواجہ آصف نے مکہ معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس پر عمل کرنے کا پابند ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ترکیہ بھی ساتھ ہوگا

خواجہ آصف نے پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں مزید توسیع ہوتی ہے تو دونوں ممالک سعودی عرب کے ساتھ عملی اور سفارتی طور پر کھڑے ہوں گے۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں اور رابطوں کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

نیا محاذ خطرناک ہوگا

وزیر دفاع نے ایک بار پھر خطے میں نئے محاذ کے امکانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی صورتحال نازک ہے اور خلیج میں امن ایک غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں کسی نئے محاذ کا کھلنا یا جنگ کو مزید علاقوں تک پھیلانا حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی کے اثرات وسیع پیمانے پر سامنے آسکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے تحفظ کو پاکستان کا فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے کسی اضافی معاہدے کی ضرورت نہیں۔

ہمیں فالو کریں