یورپی یونین کا بڑا منصوبہ، کینیڈا کو پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کی تجویز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یورپی یونین نے عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی اور تجارتی صورتحال کے پیش نظر اپنی سکیورٹی اور تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لاین نے تجویز دی ہے کہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنایا جائے۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مختلف تجارتی اقدامات کررہے ہیں۔

کینیڈا کے لیے نئی پیشکش

یورپی قیادت کی جانب سے کینیڈا کو یورپی یونین کے ساتھ زیادہ قریب لانے کی تجویز کو موجودہ عالمی حالات میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ ایسوسی ایٹ رکنیت مکمل رکنیت سے مختلف ہوگی، تاہم اس کے ذریعے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

کینیڈا پہلے ہی یورپی ممالک کے ساتھ مختلف سطحوں پر سفارتی اور تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے ایسوسی ایٹ ممبر کا تصور ان تعلقات کو ایک نئے ادارہ جاتی فریم ورک میں آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

امریکا سے تجارتی کشیدگی

کینیڈا اس وقت امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اقدامات اور جوابی اقدامات نے شمالی امریکا کی اقتصادی صورتحال پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکا کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کینیڈین معیشت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

تجارتی اختلافات کے باوجود کینیڈا کی امریکا کے ساتھ اقتصادی وابستگی بہت گہری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اشیا، توانائی، صنعت اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تعلقات میں ہونے والی تبدیلیاں کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

ٹرمپ کا 51ویں ریاست کا مؤقف

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں متعدد مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کے اس مؤقف کو کینیڈین حکومت نے قبول نہیں کیا اور وزیراعظم مارک کارنی واضح طور پر ایسی کسی تجویز کو مسترد کرچکے ہیں۔

کینیڈا کی حکومت نے اپنی قومی خودمختاری اور علیحدہ شناخت پر زور دیا ہے۔ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری سیاسی اور تجارتی اختلافات کے تناظر میں یورپی یونین کی جانب سے اوٹاوا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی تجویز نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔

یورپ سے تاریخی تعلقات

کینیڈا کے یورپی ممالک کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی روابط طویل عرصے سے موجود ہیں۔ دونوں خطوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی سطح پر بھی تعاون پایا جاتا ہے۔ کینیڈا کا پارلیمانی جمہوری نظام اور کئی سماجی پالیسیاں بھی یورپی ممالک سے مماثلت رکھتی ہیں۔

کینیڈا میں یونیورسل ہیلتھ کیئر اور سماجی بہبود کے متعدد پروگرام موجود ہیں، جو یورپ کے کئی ممالک کے نظام سے کسی حد تک مشابہت رکھتے ہیں۔ یہی عوامل یورپی یونین اور کینیڈا کے درمیان قریبی تعلقات کی بنیادوں میں شامل ہیں۔

مکمل رکنیت کی راہ میں رکاوٹ

تاہم کینیڈا کو یورپی یونین کا مکمل رکن بنانا ایک مختلف اور پیچیدہ معاملہ ہوگا۔ یورپی یونین کے موجودہ قواعد کے تحت رکنیت کے خواہش مند ملک کو متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

کینیڈا کے معاملے میں سب سے بنیادی رکاوٹ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ کینیڈا یورپ سے باہر شمالی امریکا میں واقع ہے، جبکہ یورپی یونین بنیادی طور پر یورپی براعظم کے ممالک کا سیاسی و اقتصادی اتحاد ہے۔

27 ممالک کی منظوری ضروری

یورپی یونین میں کسی نئے ملک کی مکمل رکنیت کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس کے بعد امیدوار ملک کو مختلف مراحل پر مشتمل الحاق کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان مراحل میں سیاسی، قانونی اور اقتصادی شرائط کا جائزہ لیا جاتا ہے اور امیدوار ملک سے یورپی یونین کے مختلف اصولوں اور قوانین کے مطابق اصلاحات کی توقع کی جاتی ہے۔ اسی لیے کینیڈا کے لیے مکمل رکنیت کے بجائے ایسوسی ایٹ ممبر کا تصور نسبتاً مختلف نوعیت کا ہے۔

سکیورٹی تعاون پر بھی توجہ

یورپی یونین کی جانب سے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سکیورٹی صلاحیت اور تعاون کے نئے ڈھانچے پر کام کرنے کا اعلان بھی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سلامتی کے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔

کینیڈا پہلے ہی مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں شامل ہے، جبکہ یورپی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بھی متعدد شعبوں میں موجود ہیں۔ ایسے میں ایسوسی ایٹ رکنیت کی تجویز دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید منظم اور وسیع کرنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے۔

عالمی صف بندی میں تبدیلی

یورپی یونین اور کینیڈا کے درمیان ممکنہ قربت کو عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صف بندی کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ امریکا اور کینیڈا کے تجارتی اختلافات، عالمی معیشت میں تبدیلیوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث مغربی اتحادیوں کے درمیان تعلقات نئی شکل اختیار کررہے ہیں۔

کینیڈا کے لیے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات امریکا پر اقتصادی انحصار کو متوازن کرنے کی ایک ممکنہ کوشش بن سکتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے لیے کینیڈا کے ساتھ تعاون شمالی امریکا میں ایک اہم شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

تاہم ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی عملی شکل، اس کے اختیارات اور ذمہ داریاں اور یورپی یونین کے اداروں میں کینیڈا کی ممکنہ شرکت جیسے معاملات ابھی مزید وضاحت طلب ہیں۔ فی الحال تجویز نے یورپ اور کینیڈا کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نئی بحث ضرور شروع کردی ہے۔

ہمیں فالو کریں