اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر کے بعض بیرونی مشیر آئندہ مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں وفاقی انتخابات پر زیادہ اختیار حاصل کرنے اور بعض حالات میں مارشل لا نافذ کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں۔
ایران کی جنگ بندی تجویز
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی بات کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بدلے میں ایران نے امریکی فوجی کارروائی اور ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ ایران ان کے مطالبات پر مکمل طور پر عمل نہیں کرے گا۔
انتخابات کے بعد دوبارہ حملوں کا امکان
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملوں کی ممکنہ شدت ابھی واضح نہیں، جبکہ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی پوزیشن آنے والے ہفتوں میں تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے امکانات انتخابات کے بعد بڑھ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا انتخابی مؤقف
ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکی پالیسی مڈٹرم انتخابات سے متاثر نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہا ہے اور امید ظاہر کی کہ نومبر کے انتخابات کے بعد معاہدہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب تازہ وال اسٹریٹ جرنل رپورٹ کے مطابق نجی گفتگو میں ٹرمپ ایران کی جانب سے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرچکے ہیں۔
مڈٹرم انتخابات پر نئی بحث
ایران کے معاملے کے ساتھ ساتھ امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے ایک الگ سیاسی بحث بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے بعض بیرونی مشیر انتخابات کے دوران وفاقی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کے امکانات پر زور دے رہے ہیں۔
سی این این نے دی اٹلانٹک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس سے باہر موجود بعض حامی چاہتے ہیں کہ انتخابات کے دوران صدر وفاقی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کریں۔
پیٹر ٹکٹن کا نام
ان مشیروں میں وکیل پیٹر ٹکٹن کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔
دی اٹلانٹک کے مطابق ٹکٹن ٹرمپ کے دیرینہ ساتھی ہیں اور دونوں نوجوانی میں نیویارک ملٹری اکیڈمی میں ایک ساتھ پڑھ چکے ہیں۔
ٹکٹن نے حالیہ گفتگو میں ایسے حالات کی صورت میں مارشل لا کے امکان کی بات کی ہے جن میں ان کے مطابق انتخابات متنازع ہوجائیں یا ملک میں بدامنی پیدا ہو۔
وفاقی انتخابات پر اختیار کی تجویز
پیٹر ٹکٹن اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کو مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے وفاقی اختیارات استعمال کرنے کی تجاویز دیتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان کی جانب سے قومی ہنگامی حالت نافذ کرنے اور انتخابات کے طریقہ کار میں وفاقی حکومت کا کردار بڑھانے سے متعلق تجاویز بھی سامنے آچکی ہیں۔
تاہم ان تجاویز کی قانونی حیثیت اور صدر کے پاس ایسے اقدامات کے لیے موجود اختیارات پر ماہرین قانون کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی نہیں
اہم بات یہ ہے کہ مارشل لا نافذ کرنے یا مڈٹرم انتخابات پر مکمل وفاقی کنٹرول حاصل کرنے کا کوئی باقاعدہ اعلان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نہیں کیا گیا۔
سی این این کی رپورٹنگ میں بھی واضح کیا گیا کہ یہ تجاویز وائٹ ہاؤس کے اندر سے نہیں بلکہ صدر کے اردگرد موجود بیرونی افراد کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔
انتخابی دھاندلی کے دعوے
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بعض سرکاری مشیر گزشتہ کئی ماہ سے انہیں انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بے بنیاد نظریات سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ انتظامیہ کینیڈا سے تجارتی معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں، امریکی تجارتی نمائندہ
اس کے برعکس بیرونی مشیروں کا ایک گروپ انتخابی عمل پر وفاقی اختیار بڑھانے کی حمایت کررہا ہے۔اس معاملے پر امریکی سیاست میں بحث جاری ہے، تاہم نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے قبل مارشل لا یا وفاقی انتخابی کنٹرول سے متعلق کوئی حتمی حکومتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ایران جنگ اور انتخابات کا تعلق
تازہ رپورٹس میں ایران جنگ اور مڈٹرم انتخابات کے درمیان تعلق بھی زیر بحث ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر اپنے معاونین سے بات کرچکے ہیں، جبکہ دوسری جانب صدر نے عوامی طور پر کہا ہے کہ ایران سے متعلق ان کی پالیسی انتخابات سے متاثر نہیں ہوگی۔
یوں ایک طرف ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کا معاملہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور دوسری طرف امریکا میں مڈٹرم انتخابات سے قبل انتخابی اختیارات اور ہنگامی اقدامات سے متعلق تجاویز نے سیاسی بحث کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
