پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر، سہیل آفریدی کا نئی تاریخ کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے تمام معاملات پر مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔

سیاسی کمیٹی کا فیصلہ

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ سمیت تمام معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔ لانگ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم اب اس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ہے۔

پرامن مارچ ہوگا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت راستے بند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی جدوجہد کریں گے۔

وفاقی وزرا پر تنقید

سہیل آفریدی نے بعض وفاقی وزرا کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتا جبکہ منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا گیا، وہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو سیاسی انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔

عمران خان کا معاملہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں اپنا کام شروع کردیں تو ان کے بقول آدھے گھنٹے میں عمران خان کی ضمانت ہوجائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔

گرفتاریوں کے الزامات

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا جارہا ہے اور خیبرپختونخوا کی سرحدوں پر راستے بند کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی اور پرامن لوگ ہیں، تاہم ان کے بقول ایسے اقدامات سے خدشہ ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف ماضی جیسے مقدمات اور کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

آئین اور قانون کی بالادستی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لڑائی آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔ان کے بقول سیاسی کشیدگی کا فائدہ دوسروں کو پہنچ رہا ہے جبکہ عوامی مسائل اور حکومتی اخراجات پر توجہ ہونی چاہیے۔

خیبرپختونخوا کی سرحدوں کا معاملہ

سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کی حدود میں سڑکوں پر رکاوٹیں اور کیلیں لگانے کے اقدامات پر بھی اعتراض کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی باؤنڈری پر کیلیں گاڑنے کا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور خیبرپختونخوا کے عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مریم نواز کودوسرے صوبوں کے لوگوں سے خطرہ،مجھے پنجاب سے کوئی خطرہ نہیں،سہیل آفریدی

سرکاری اہلکاروں پر اعتراض

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ دوسرے صوبے سے آنے والے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا کے سرکاری اہلکاروں سے الجھ رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوگیا ہے یا صوبے میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

میڈیا سے متعلق شکایات

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے بعض وزرا اور پارلیمانی رہنماؤں کو میڈیا پر آنے سے روکا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی کوریج کے حوالے سے بھی رکاوٹوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

جعلی خطرات کا الزام

وزیراعلیٰ نے سرکاری عمارتوں اور دیگر مقامات کو سکیورٹی خدشات کے باعث بند کیے جانے پر بھی سوال اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ جن مقامات کو خطرات کا حوالہ دے کر بند کیا گیا، وہاں وہ خود گئے اور ان کے مطابق کوئی ایسا خطرہ موجود نہیں تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جعلی خطرات کے ذریعے صوبے کا نظام متاثر کیا جارہا ہے۔

لانگ مارچ مؤخر کرنا حکمت عملی

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ 4 اکتوبر تک لانگ مارچ مؤخر کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی ہے۔انہوں نے کہا کہ مارچ کے بعد بھی مذاکرات کا راستہ کھلا رہے گا اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

اتحادیوں کو اعتماد میں لیا

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیاسی کمیٹی کے فیصلے سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اتحادیوں سے مشاورت بھی کی گئی ہے۔

4 اکتوبر کو پشاور سے روانگی

سہیل آفریدی نے کہا کہ اب لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور لانگ مارچ کے حوالے سے کارکنوں کو بھی آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔

کرپٹ نظام ختم کرنے کا دعویٰ

سہیل آفریدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جب پی ٹی آئی کے کارکن 4 اکتوبر کو نکلیں گے تو ان کے بقول کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

حکومتی اقدامات پر ردعمل

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سڑکوں پر کیلیں لگائی جائیں، کنٹینرز رکھے جائیں یا دیگر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ کرے گی۔انہوں نے ریاستی اداروں اور حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ سیاسی معاملات کو مزید کشیدہ نہ کیا جائے۔

لانگ مارچ کی نئی تاریخ

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پہلے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب روانہ ہونا تھا، تاہم سیاسی کمیٹی کی مشاورت کے بعد نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کردی گئی ہے۔سہیل آفریدی کے مطابق مارچ پشاور سے روانہ ہوگا اور اسے پرامن رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہمیں فالو کریں