کینیڈا امریکا تجارتی معاہدہ، اپوزیشن کا مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سیاسی دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مجوزہ تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے جس پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے تک جاری رہے تھے۔

اپوزیشن کا مطالبہ

کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ اور کینیڈا امریکا تعلقات کے لیے پارٹی کے شیڈو منسٹر شیو الائے مجمدار نے اتوار کو کینیڈا امریکا تجارتی امور کے وزیر ڈومینک لی بلانک کو خط لکھا۔

خط میں انہوں نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی مذاکرات سے متعلق خفیہ معلومات یا حکمت عملی سامنے لانے کا مطالبہ نہیں کررہی، بلکہ وہ ان تفصیلات کی طلب گار ہے جو کینیڈین اور امریکی حکومتیں پہلے ہی جانتی ہیں۔

مجمدار کے مطابق عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مذاکرات میں اصل میں کیا پیشکش کی گئی تھی، کون سی شرائط زیر بحث آئیں اور آخرکار معاہدہ کیوں نہ ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل معلومات سامنے آنے سے کینیڈین عوام ملک کے مستقبل کے بارے میں بہتر بحث اور فیصلہ کرسکیں گے۔

مذاکرات کیوں ٹوٹے؟

کینیڈا اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری تجارتی مذاکرات جمعہ کی رات اس وقت اچانک ختم ہوگئے جب دونوں فریق کسی قابل قبول سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے۔

وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنہیں کینیڈا قبول نہیں کرسکتا تھا۔ ان میں خاص طور پر کینیڈا کی دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی کوشش شامل تھی۔

کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت کینیڈا کی خودمختاری یا ملکی صنعتوں کے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکا کا مختلف مؤقف

امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کینیڈا پر عائد کی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا کی جانب سے مذاکرات کے دوران نئی شرائط پیش کی گئیں جبکہ بعض پہلے کیے گئے وعدوں سے بھی پیچھے ہٹنے کی کوشش کی گئی۔

گریئر کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے پیکیج میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز شامل تھیں۔ ان میں ایرو اسپیس سپلائی چینز میں تعاون، غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے نمٹنے کے اقدامات، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون اور جبری مشقت سے تیار ہونے والی درآمدات کے خلاف سخت اقدامات شامل تھے۔

محصولات کا بڑا جھٹکا

مذاکرات ناکام ہونے کے فوراً بعد امریکا نے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات نافذ کردیئے۔نئے ٹیکس کا اطلاق ہفتے کی صبح سے ہوگیا، جس سے کینیڈا کی کئی اہم برآمدی صنعتیں براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لکڑی، اسٹیل اور دیگر صنعتی شعبوں کو پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسی کے دباؤ کا سامنا ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں بعض شعبوں کے لیے محصولات میں کمی کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ گریئر نے بتایا کہ امریکا نے سافٹ وڈ لمبر پر 10 فیصد محصولات کم کرنے اور اسٹیل پر موجود 50 فیصد شرح کو 25 فیصد تک لانے کی پیشکش کی تھی۔

کینیڈا کا جوابی فیصلہ

وزیراعظم کارنی نے امریکا کے اقدام کے جواب میں یکساں یعنی ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے یہ جوابی اقدامات 8 ستمبر سے شروع ہوں گے۔

کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ملکی خودمختاری، صنعتی مفادات یا مستقبل میں دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی آزادی کو محدود کرے۔

عوامی حمایت برقرار

اگرچہ تجارتی تنازع نے کینیڈا میں معاشی خدشات پیدا کردیئے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر کارنی حکومت کے فیصلے کو ملک میں خاصی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

اونٹاریو کے وزیراعظم ڈگ فورڈ اور برٹش کولمبیا کے وزیراعظم ڈیوڈ ایبی سمیت متعدد صوبائی رہنماؤں نے مذاکرات سے دستبرداری کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

عوامی رائے کا جائزہ لینے والے ادارے ایبیکس ڈیٹا کے سربراہ ڈیوڈ کولیٹو کے مطابق کینیڈین شہری تجارتی کشیدگی کے معاشی اثرات پر پریشان ضرور ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ملک کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے۔

پیئر پوئیلیور کا مؤقف

کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے بھی حکومت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا ایسے یک طرفہ امریکی محصولات قبول نہیں کرسکتا جو ملکی صنعت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو کسی خراب معاہدے کے بجائے محصولات سے پاک تجارت کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ پوئیلیور نے وزیراعظم کارنی سے رابطے کی خواہش بھی ظاہر کی تاکہ کارکنوں، کاروباری اداروں اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بات کی جاسکے۔

اصل معاہدہ اب بھی راز

اس پوری صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں اصل میں کیا طے پایا تھا۔ تاحال کینیڈا اور امریکا دونوں نے مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی حساس نوعیت کے باعث ہر تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی جاسکتی، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ قومی مفاد سے متعلق بنیادی معلومات عوام سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہئیں۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

وزیراعظم کارنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو تجارتی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔ یہ مشاورت ممکنہ طور پر پیر کی سہ پہر یا منگل کی صبح ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب 8 ستمبر سے کینیڈا کے جوابی محصولات اور امریکا کی جانب سے پہلے ہی عائد کیے گئے 50 فیصد ٹیکس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کو مزید شدت دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ آیا سیاسی دباؤ اور معاشی نقصان دونوں حکومتوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لاتا ہے یا تجارتی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

ویب نیوز)

ہمیں فالو کریں