اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر ایک بار پھر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا امریکی ریاست بنے بغیر ریاست بننے کے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوچکے ہیں اور امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد محصولات نافذ کردیئے گئے ہیں۔
ٹرمپ کا نیا بیان
ٹرمپ نے اتوار کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر بیان میں کینیڈا پر الزام عائد کیا کہ وہ برسوں سے امریکی کسانوں پر بھاری محصولات عائد کرتا رہا ہے۔ امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب ایسا مزید نہیں چلے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کینیڈا امریکا کی ریاست نہ ہونے کے باوجود امریکی ریاست جیسی سہولتوں اور فوائد کا خواہاں ہے۔ امریکی صدر ماضی میں بھی کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات اس وقت ختم ہوئے جب امریکی انتظامیہ نے ایسے مطالبات پیش کیے جنہیں اوٹاوا نے ناقابل قبول قرار دیا۔
کارنی کا کہنا تھا کہ امریکا نے کینیڈا سے بہت کچھ مانگا، لیکن اس کے بدلے میں مناسب سہولتیں دینے کی پیشکش نہیں کی۔ کینیڈین وزیراعظم کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کینیڈا کی دوسرے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی کوشش بھی مذاکرات میں بڑا اختلاف بن گئی۔
50 فیصد محصولات نافذ
مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے ہفتے کے روز کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے محصولات نافذ کردیئے۔ ان محصولات کا دائرہ اربوں ڈالر مالیت کی اشیا تک پھیلا ہوا ہے، جن میں پلائی ووڈ، سیمنٹ، شراب اور ہاکی اسٹکس سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ؍امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کرگئی، نئے امریکی ٹیرف نافذ
اس فیصلے نے پہلے سے کشیدہ امریکا کینیڈا تجارتی تعلقات کو مزید خراب کردیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں، اس لیے ماہرین کے مطابق طویل تجارتی تنازع دونوں معیشتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
کینیڈا کا جوابی اقدام
وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی محصولات کے جواب میں جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کینیڈین حکومت 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے محصولات عائد کرے گی۔
کارنی نے امریکی اقدام کو غلط اندازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین عوام متحد ہیں اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صوبائی حکومتیں بھی ساتھ
کینیڈا کے بیشتر صوبائی اور علاقائی سربراہان نے وفاقی حکومت کی جانب سے امریکی تجارتی معاہدہ قبول نہ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
اونٹاریو کے وزیراعظم ڈگ فورڈ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کارنی حکومت نے معاہدہ قبول نہیں کیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ کینیڈا کے مفاد میں بہتر معاہدہ نہیں تھا۔ انہوں نے امریکی محصولات کے جواب میں اسی انداز کے اقدامات کی حمایت کی۔
امریکا کا مؤقف
امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی فوری طور پر کینیڈا کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔
ان کے مطابق امریکی حکومت کا مقصد امریکی کارکنوں اور ملکی سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ گریئر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے کینیڈا کو اسٹیل، گاڑیوں اور لکڑی سمیت بعض اہم شعبوں میں محصولات کم کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن کینیڈا نے اسے قبول نہیں کیا۔
کینیڈا میں دباؤ بڑھ گیا
دوسری جانب کینیڈا کی اپوزیشن بھی حکومت سے مذاکرات کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ شیو الائے مجمدار نے کہا کہ حکومت کو مجوزہ معاہدے کی وہ تفصیلات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں جو مذاکراتی رازوں میں شامل نہیں۔ان کے مطابق کینیڈین شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مذاکرات میں امریکا نے کیا پیشکش کی اور کینیڈا نے اسے مسترد کیوں کیا۔
تجارتی جنگ کا اگلا مرحلہ
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ کینیڈا کے جوابی محصولات ستمبر میں نافذ ہونے ہیں، جس دوران دونوں حکومتوں کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ وقت موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں بڑھتی مہنگائی اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے سیاسی دباؤ کے باعث واشنگٹن بھی کسی ایسے حل کی تلاش کرسکتا ہے جس سے تجارتی تنازع کو محدود کیا جاسکے۔
تاہم فی الحال ٹرمپ کے سخت بیانات، 50 فیصد امریکی محصولات اور کینیڈا کی جوابی کارروائی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کردیا ہے۔
