اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان ایک سال سے جاری تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ کر ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کی صبح واضح کیا کہ کینیڈا نے کسی بھی قیمت پر معاہدہ کرنے کے بجائے ایسے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا جسے ان کے بقول کینیڈا کے مفادات کے لیے غیر منصفانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ سمجھا گیا۔
مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا نے ایک سال سے زائد عرصے تک امریکا کے ساتھ نئے اور جامع تجارتی معاہدے کے لیے سنجیدگی، صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم آخری وقت میں امریکی مذاکرات کاروں کی جانب سے شرائط میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے ممکنہ معاہدے کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔
آخری وقت میں مذاکرات کیوں ٹوٹے؟
وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق امریکی فریق نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں متعدد ایسی شرائط سامنے رکھیں جنہیں کینیڈا قبول نہیں کرسکتا تھا۔ امریکی مذاکرات کاروں نے کینیڈین آٹو انڈسٹری سے متعلق ٹیرف کے دائرہ کار میں تبدیلی کی کوشش کی، کینیڈا کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی بات کی اور زبان و ثقافت کے تحفظ سے متعلق کینیڈا کی پالیسیوں پر بھی دباؤ ڈالا۔
کارنی کے مطابق یہ معاملات محض تجارت تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق کینیڈا کی معاشی آزادی، ثقافتی شناخت اور بالآخر خودمختاری سے بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈین حکومت نے آخری مرحلے میں سامنے آنے والی شرائط کو قبول کرنے کے بجائے مذاکرات روکنے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ سے ٹیرف کے حوالے سے بہتر ڈیل حاصل ہو گی،کینیڈین وزیر اعظم
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے بھی اسی دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کردیا ہے۔ یوں کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں اور مذاکراتی پیش رفت کی اطلاعات کے بعد اچانک واضح ہوگیا کہ دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔
’زیادہ مانگا، کم پیش کیا‘
کارنی کے مؤقف کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکا نے آخری مرحلے میں کینیڈا سے بہت کچھ مانگا لیکن اس کے مقابلے میں مطلوبہ معاشی سہولتیں دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ کینیڈین وزیراعظم کے مطابق امریکا کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرائط نے یہ سوال پیدا کردیا کہ آیا واشنگٹن واقعی کینیڈا کے ساتھ طویل المدتی اور قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت داری چاہتا ہے یا نہیں۔
کینیڈا کے سابق چیف مذاکرات کار اسٹیو ورہول بھی مبینہ طور پر اس خدشے کا اظہار کرچکے تھے کہ ممکنہ معاہدے میں کینیڈا بہت زیادہ رعایتیں دے سکتا ہے۔ سابق وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے بھی خبردار کیا تھا کہ امریکی ٹیرف کو کسی نہ کسی صورت قبول کرنا کینیڈا کو ایک ایسے مقام پر پہنچا سکتا ہے جہاں سے واپسی آسان نہیں ہوگی۔
تاہم دوسری جانب یہ سوال بھی موجود ہے کہ موجودہ امریکی تجارتی پالیسی کے ماحول میں کیا ایسا معاہدہ ممکن ہے جس میں ٹیرف کا کوئی کردار نہ ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تجارتی حکمت عملی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکا اب تجارتی مذاکرات میں ٹیرف کو ایک اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
ٹیرف کا بوجھ کینیڈا پر بھی پڑے گا
مذاکرات ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کینیڈا کے لیے بھی آسان نہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے ٹیرف ہفتے کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوگئے۔
یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر معاشیات ٹریور ٹومبے نے اندازہ لگایا تھا کہ نئے امریکی ٹیرف کے نتیجے میں تقریباً 90 ہزار کینیڈین ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات سے دستبرداری اگرچہ سیاسی طور پر مضبوط مؤقف کے طور پر پیش کی جارہی ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات کینیڈین صنعت، کاروبار اور ملازمین کے لیے سنجیدہ ہوسکتے ہیں۔
کینیڈا کی چیف مذاکرات کار جینس چیئرٹ نے بھی مبینہ طور پر امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ نئے ٹیرف مذاکرات کے لیے ایک خطرناک موڑ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیرف کے نفاذ سے کینیڈا میں عوامی اور صوبائی ردعمل مزید سخت ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل کے مذاکرات آسان ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
امریکا اب قابلِ بھروسا شراکت دار نہیں؟
کینیڈا کے موجودہ بحران کو صرف ایک تجارتی تنازع سمجھنا شاید کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے امریکا کی بدلتی ہوئی عالمی اقتصادی اور خارجہ پالیسی بھی موجود ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار ایلبریج کولبی نے جولائی میں کہا تھا کہ دنیا اب امریکا کو پہلے کی طرح خودبخود قابلِ بھروسا شراکت دار نہیں سمجھ سکتی۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کی قیمت اور فوائد کو زیادہ واضح انداز میں دیکھنا چاہتا ہے اور رسائی، توانائی، مصنوعی ذہانت، دفاعی اخراجات اور ٹیرف جیسے معاملات کو مذاکراتی دباؤ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
یہ پالیسی کینیڈا کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دونوں ممالک کی معیشتیں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ گہری طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ کینیڈا کی صنعت، توانائی، آٹو سیکٹر اور دیگر شعبوں کا امریکی مارکیٹ سے گہرا تعلق ہے۔ ایسے میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کینیڈین کاروبار کے لیے ایک طویل المدتی مسئلہ بن سکتی ہے۔
طویل المدتی تجارتی دور ختم؟
کینیڈین کنزرویٹو سیاسی حکمت عملی کے ماہر کوری ٹینیک نے موجودہ صورتحال کو ایک دائمی بیماری سے تشبیہ دی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا کو اب ایک ایسے دور کا سامنا ہے جس میں تجارتی تعلقات مستقل طور پر غیر یقینی، تحفظاتی پالیسیوں اور طاقت کے استعمال سے متاثر رہیں گے۔
ان کے مطابق یہ کوئی عارضی بحران نہیں بلکہ ممکنہ طور پر طویل عرصے تک چلنے والی تجارتی پالیسی کی تبدیلی ہے۔ اگر یہ تجزیہ درست ثابت ہوتا ہے تو کینیڈا سمیت دیگر ممالک کو بھی امریکا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کے لیے نئی حکمت عملی بنانا ہوگی۔
یونیورسٹی آف اوٹاوا کے پروفیسر پیٹرک لی بلون نے بھی کینیڈا اور امریکا کے موجودہ مذاکرات کو ’چکن‘ کے کھیل سے تشبیہ دی، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور کوئی بھی پہلے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
اونٹاریو کا کار سیکٹر بھی دباؤ میں
اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے بھی مارک کارنی کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مجوزہ تجارتی معاہدے کو صوبے کے اسٹیل اور آٹو سیکٹر کے لیے خراب قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات معطل کرنا بہتر فیصلہ تھا۔
تاہم اونٹاریو سمیت کینیڈا کے مختلف صنعتی علاقوں کو امریکی ٹیرف کا براہ راست نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ فورڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت ان کارکنوں اور کاروباری اداروں کی مدد کرے گی جو امریکی محصولات کی وجہ سے متاثر ہوں گے۔
اب اگلا قدم کیا ہوگا؟
مذاکرات کے خاتمے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کینیڈا اور امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر کب اور کن شرائط کے ساتھ واپس آئیں گے۔مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا نے ابتدا ہی سے تسلیم کیا تھا کہ امریکا تبدیل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اپنی تجارتی شراکت داریوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے اور معاشی انضمام کو بھی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
اس کے باوجود کینیڈا نے امریکا کے ساتھ ایسا طویل المدتی تعلق قائم رکھنے کی کوشش کی جس پر دونوں ممالک کے کاروبار اور کارکن اعتماد کرسکیں۔ لیکن کارنی کے مطابق امریکی مطالبات کے مجموعی اثر نے یہ ظاہر کردیا کہ موجودہ امریکی حکومت کی حقیقی اقتصادی شراکت داری کے لیے آمادگی کی ایک حد موجود ہے۔
جوابی ٹیرف کا خطرہ
اب معاملہ صرف امریکی ٹیرف تک محدود نہیں رہے گا۔ کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر نئے جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے، جو لیبر ڈے کے بعد نافذ کیے جانے ہیں۔
یہ صورتحال ایک نئے تجارتی ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر امریکا کینیڈین جوابی ٹیرف کے جواب میں مزید اقدامات کرتا ہے تو کینیڈا بھی نئے محصولات عائد کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک ایک ایسے چکر میں داخل ہوسکتے ہیں جس میں ہر نیا ٹیرف دوسرے فریق کے مزید اقدامات کا سبب بنے۔
اس کا براہ راست اثر صارفین، صنعتوں، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان پر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ شعبے جو سرحد پار سپلائی چینز پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے اخراجات میں اضافہ اور کاروباری غیر یقینی صورتحال بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
’خراب معاہدے سے بہتر ہے معاہدہ نہ ہو‘
مارک کارنی پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ خراب معاہدے کے مقابلے میں معاہدہ نہ ہونا بہتر ہے۔ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے بھی ہفتے کو اسی مؤقف کی حمایت کی۔
لیکن موجودہ صورتحال یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ’معاہدہ نہ ہونے‘ کا انتخاب آسان نہیں۔ کینیڈا کو ایک طرف اپنی خودمختاری، صنعت اور طویل المدتی تجارتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو دوسری طرف اسے امریکا جیسے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھنے ہیں۔
مستقبل میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ کینیڈا امریکی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی برآمدات، روزگار اور صنعتی شعبے کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو ممکنہ طور پر یہ مذاکرات پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور سخت شرائط کے ساتھ ہوں گے۔
مجموعی طور پر موجودہ بحران صرف ایک تجارتی معاہدے کے ناکام ہونے کی کہانی نہیں بلکہ شمالی امریکا کے معاشی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ کینیڈا نے فوری طور پر ایک ایسے معاہدے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جسے وہ اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے، مگر اب اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس فیصلے کے معاشی نقصان کو برداشت کرتے ہوئے وہ امریکا کے ساتھ ایک زیادہ متوازن اور قابلِ اعتماد تعلق کیسے قائم کرسکتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کے لیے بھی یہ سوال اہم ہوگا کہ کیا ٹیرف اور دباؤ کے ذریعے حاصل کیے گئے تجارتی فوائد طویل المدتی شراکت داری کو مضبوط کریں گے یا دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد مزید کم کریں گے۔
