آبنائے ہرمز کا بحران، نیٹو کا محدود کردار اور عالمی طاقتوں کی نئی حکمت عملی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آبنائے ہرمز میں تجارتی اور توانائی سے متعلق بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر نے متعدد رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ممکنہ تعاون اور مختلف ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اگرچہ یہ اجلاس نیٹو کے پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد ہوا، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ کارروائی براہ راست نیٹو مشن نہیں ہوگی۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اتحاد کی حیثیت سے براہ راست فریق بننے سے اب تک گریز کرتے آئے ہیں۔

نیٹو کا محدود مگر اہم کردار

نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکووچ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ان ممالک کے سربراہان دفاع یا متعلقہ اعلیٰ عسکری نمائندوں نے شرکت کی جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ میں ممکنہ طور پر کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

نیٹو کا بنیادی کردار یہاں ایک مشترکہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بجائے مختلف ممالک کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا دکھائی دیتا ہے۔

یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مغربی ممالک آبنائے ہرمز کی صورتحال کو صرف علاقائی مسئلہ نہیں سمجھ رہے بلکہ اسے عالمی توانائی اور تجارت کے لیے اہم خطرہ تصور کررہے ہیں۔

فرانس اور برطانیہ متحرک

آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے ممکنہ بین الاقوامی انتظامات میں فرانس اور برطانیہ نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔ دونوں ممالک تقریباً 12 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔

اس مجوزہ اتحاد کا بنیادی مقصد موجودہ کشیدگی کم ہونے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مجوزہ اتحاد کو نیٹو کے باضابطہ مشن سے الگ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے رکن ممالک کو ایران کے ساتھ براہ راست عسکری محاذ آرائی سے بچنے اور محدود دائرہ کار میں بحری سکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

عالمی توانائی کیلئے اہم راستہ

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ فروری میں لڑائی شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں تجارت کیے جانے والے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش یا یہاں جہازوں کی آمدورفت میں بڑی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور توانائی کی فراہمی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈین نیٹو انٹرن پر جاسوسی کے الزامات، پارلیمانی کمیٹی نے سکیورٹی اسکریننگ کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا

خاص طور پر ایشیائی ممالک کے لیے یہ راستہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ خلیجی خطے سے نکلنے والی توانائی کی بڑی مقدار اسی سمندری راستے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے۔

صرف فوجی مسئلہ نہیں

موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو آبنائے ہرمز کا معاملہ محض بحری سکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہا۔ اس کے ساتھ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتیں، انشورنس، شپنگ اور سپلائی چینز بھی براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔

اگر جہاز رانی کے لیے خطرات برقرار رہتے ہیں تو تجارتی کمپنیوں کو زیادہ سکیورٹی، مہنگی انشورنس اور متبادل راستوں کے استعمال کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیا کی ترسیل کی لاگت بڑھنے اور عالمی مہنگائی پر اضافی دباؤ کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔اسی لیے مغربی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنا صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ معاشی استحکام کا مسئلہ بھی ہے۔

ایران کیلئے حساس معاملہ

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں غیر ملکی بحری افواج یا کثیر ملکی اتحاد کی موجودگی ایران کے لیے ایک حساس معاملہ ہوسکتی ہے۔ تہران کسی بھی ایسے انتظام کو اپنی سمندری حدود یا علاقائی سلامتی کے خلاف اقدام تصور کرسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے ممکنہ مشن کو نیٹو کے باقاعدہ آپریشن سے الگ رکھنے کی کوشش بھی اہم ہے۔ اس سے ایک طرف بحری جہازوں کے تحفظ کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اور دوسری طرف تنازع کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔

کشیدگی کم کرنے کی کوشش

مجموعی صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مغربی ممالک ایک ایسے نظام کی تیاری چاہتے ہیں جو جنگ یا کشیدگی کے خاتمے کے بعد فوری طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بحال کرسکے۔

تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف بحری طاقت پر نہیں ہوگا بلکہ ایران کے ردعمل، خطے میں سکیورٹی صورتحال اور جنگ بندی یا سیاسی مذاکرات کی پیش رفت پر بھی ہوگا۔

نیٹو کا موجودہ کردار بھی اسی لیے محتاط نوعیت کا ہے۔ اتحاد اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے ممالک کو اکٹھا کررہا ہے، لیکن براہ راست فوجی مشن سے فاصلہ برقرار رکھ رہا ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

اگر آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت بحال ہوجاتی ہے تو عالمی توانائی منڈی کو استحکام ملنے، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں کم ہونے اور شپنگ کمپنیوں کے خدشات میں کمی آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے یا آبنائے ہرمز مسلسل خطرناک سمندری راستہ بنی رہتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور سپلائی چینز پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اس لیے موجودہ پیش رفت کو صرف نیٹو کی ایک عسکری ملاقات سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ دراصل یہ عالمی طاقتوں کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے ایک انتہائی اہم توانائی گزرگاہ کو دوبارہ محفوظ بناتے ہوئے ایران کے ساتھ تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے بھی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہمیں فالو کریں