کینیڈا امریکا تجارتی جنگ، البرٹا نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دے دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچ سکیں۔

واشنگٹن میں مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکی حکومت نے کینیڈین برآمدات کی ایک بڑی تعداد پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کردیا ہے۔ ڈینیئل اسمتھ کے مطابق البرٹا کی امریکا کے ساتھ مجموعی 188 ارب ڈالر کی تجارت میں سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی تجارت ان نئے اقدامات سے متاثر ہوسکتی ہے۔

ڈینیئل اسمتھ نے ہفتے کی صبح اپنے ریڈیو پروگرام Your Province, Your Premier میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ دونوں ممالک جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور 8 ستمبر سے کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف سے قبل کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں کی آخری وقت میں سامنے آنے والی شرائط کینیڈا کے لیے قابل قبول نہیں تھیں اور ان شرائط کو قبول کرنا ملک کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور دونوں ممالک کو کسی منصفانہ حل کے لیے تعمیری بات چیت دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔

امریکی مطالبات پر تحفظات

وزیراعظم مارک کارنی نے مذاکرات کے خاتمے کے بعد بتایا تھا کہ امریکی فریق نے کینیڈا کی جانب سے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ مجوزہ معاہدے میں کینیڈین آٹو انڈسٹری کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود تھا۔

کارنی کے مطابق امریکی حکام نے کینیڈا میں فرانسیسی ثقافتی پروگراموں کے لیے دی جانے والی بعض سبسڈیز پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا امریکی فریق کی پیش کردہ شرائط قبول نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ وہ مطالبات پورے کرے گا جو کینیڈا کے مفادات کے خلاف ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے منصوبے پر شدید عوامی غصہ، ٹیکنالوجی وزیر کو سخت سوالات کا سامنا

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ انہیں خاص طور پر کینیڈا کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات پر ممکنہ پابندی کی بات سن کر حیرت ہوئی۔ ان کے مطابق البرٹا پہلے ہی امریکا سے باہر اپنی برآمدات دگنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانا صوبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

جوابی ٹیرف پر محتاط مؤقف

البرٹا کی پریمیئر نے امریکا کے خلاف جوابی ٹیرف کے معاملے پر بھی محتاط رویہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جذباتی طور پر امریکی اقدامات کا جواب دینا اچھا محسوس ہوسکتا ہے، لیکن جوابی ٹیرف کے نتیجے میں امریکا سے مصنوعات خریدنے والے کینیڈین کاروبار اور صارفین بھی زیادہ قیمتوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہیں امریکی الکحل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ البرٹا اور سسکیچیوان اس وقت کینیڈا کے وہ صوبے ہیں جہاں امریکی الکحل پر ایسی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

اسمتھ نے خبردار کیا کہ تجارتی جنگ کا اثر کسانوں، زرعی آلات استعمال کرنے والے کاروباروں اور دیگر صنعتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر البرٹا کے فرنیچر بنانے والے کاروبار اور شہد پیدا کرنے والے شعبے کو زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا۔

چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہونے کا خدشہ

البرٹا کے چھوٹے کاروبار بھی نئے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔ کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے سینئر پالیسی تجزیہ کار کایودے ساؤتھ وڈ کے مطابق کینیڈا بھر میں چھوٹے کاروباروں پر نئے ٹیرف کے فوری اور نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق البرٹا کے تقریباً 40 فیصد چھوٹے کاروبار امریکا کو مصنوعات برآمد کرتے ہیں، جبکہ تقریباً نصف چھوٹے کاروبار امریکا سے مختلف مصنوعات درآمد کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی ٹیرف کے ساتھ ساتھ کینیڈا کی جانب سے عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف بھی ان کاروباروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

ساؤتھ وڈ نے کہا کہ موجودہ مرحلے کے ٹیرف پہلے کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، کیونکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں چھوٹے کاروباروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ اگر دونوں حکومتوں کی جانب سے مزید محصولات عائد کیے گئے تو کاروباری لاگت میں اضافہ اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

توانائی کے شعبے کو نسبتاً کم خطرہ

ڈینیئل اسمتھ کے مطابق البرٹا کی قدرتی گیس اور تیل کی بڑی برآمدات کو نئے امریکی ٹیرف سے نسبتاً کم نقصان پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم صوبے کی معیشت کے دیگر شعبے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، خصوصاً وہ کاروبار جن کا براہ راست انحصار امریکی منڈی پر ہے۔انہوں نے کہا کہ البرٹا کو مستقبل میں امریکا سے باہر نئی منڈیوں پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسی ایک ملک پر برآمدی انحصار کم کیا جاسکے۔

نئے تجارتی راستوں کی ضرورت

کیلگری چیمبر آف کامرس کی صدر ڈیبورا یڈلن نے بھی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران کینیڈا کے لیے اپنی تجارتی حکمت عملی پر نظرثانی کا موقع بھی ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق کینیڈا کے پاس 51 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے موجود ہیں جو عالمی مجموعی پیداوار کے تقریباً 60 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کینیڈا کی برآمدات میں ان مارکیٹوں کا حصہ صرف تقریباً 33 فیصد ہے۔

یڈلن نے زور دیا کہ کینیڈا کو موجودہ تجارتی معاہدوں سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ اس میں بندرگاہوں، ریل، سڑکوں اور دیگر نقل و حمل کے نظام کو ترقی دینا شامل ہے تاکہ کینیڈین مصنوعات امریکا کے علاوہ دیگر ممالک تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائی جاسکیں۔

ڈینیئل اسمتھ منگل کو اپنی کابینہ کے ساتھ اجلاس کریں گی، جس میں نئے تجارتی اقدامات کے دائرہ کار، وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباروں کے لیے ممکنہ امدادی پیکیج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔

البرٹا کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرچکا ہے۔ ایک طرف کینیڈا اپنے معاشی مفادات اور تجارتی خودمختاری کے تحفظ پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی ٹیرف نے کینیڈین کاروباروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی ہی اس تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کا اہم راستہ سمجھی جارہی ہے۔

ہمیں فالو کریں