ایران کا سفارتی حل کا خیرمقدم،قومی خودمختاری کے دفاع کا عزم برقرار

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنی قومی خودمختاری اور عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکراتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے بنیادی قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔

بیجنگ میں اہم ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ان دنوں سفارتی رابطوں کے سلسلے میں چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ سفارتی حل سمیت متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی ذرائع کو اہم سمجھتا ہے۔ تہران کی کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں جو خطے میں استحکام پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

پڑوسی ممالک سے مذاکرات

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران نے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ علاقائی مسائل کا حل باہمی رابطوں، مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

قومی خودمختاری کا دفاع

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سفارتی حل کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنی قومی خودمختاری یا بنیادی حقوق سے دستبردار ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کا تحفظ تہران کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کو معاشی نہیں، اندرونی طور پر تباہ کرنا ہے، پزشکیان

عراقچی کے مطابق ایران امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے بھی پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کی بحالی اور قومی خودمختاری کا تحفظ ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ دونوں مقاصد کو سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

چین کا کشیدگی کم کرنے پر زور

ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ چین نے واضح کیا کہ موجودہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا خطے کے مفاد میں ہے۔

وانگ یی نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ موجودہ کشیدگی مزید بڑھے اور اس کے اثرات یمن اور بحیرہ احمر سمیت خطے کے دوسرے حصوں تک پھیل جائیں۔ ان کے مطابق تنازع کے دائرہ کار میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ

چینی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران سے زیرِ التوا معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو اختلافات کے باوجود مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وانگ یی نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی فریم ورک بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی راستہ اختیار کرنا کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور اختلافات کے حل کے لیے زیادہ مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

تنازع کسی کے مفاد میں نہیں

چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق مسلسل کشیدگی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے بھی سفارتی حل کی حمایت اور پڑوسی ممالک سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران علاقائی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ تاہم ایرانی قیادت نے ساتھ ہی یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ امن کی کوششوں کے ساتھ قومی خودمختاری اور ایرانی عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی جاری رکھا جائے گا۔

خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

عباس عراقچی کا دورہ چین ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ چین نے ایک بار پھر مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کا مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی پڑوسی ممالک کے ساتھ براہ راست رابطوں کے ذریعے امن و استحکام کے لیے کوششیں تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تہران اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں دونوں جانب سے کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے، مذاکراتی راستہ بحال کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

ہمیں فالو کریں