قومی صحت کا خطرہ یا انتظامی ناکامی؟ 20 ملین ڈالر کی ادویات کے ضیاع کا انکشاف

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی پبلک ہیلتھ ایجنسی (PHAC) کو اس سال قومی ہنگامی اسٹاک میں رکھی ادویہ اور ویکسین کی مصنوعات میں درجہ حرارت کی تبدیلی کے باعث تقریباً 20 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔

یہ عدد خود سینہ بہ سینہ تشویش کا باعث ہے: نہ صرف یہ کہ عوامی دولت ضائع ہوئی، بلکہ ایسے اثاثے متاثر ہوئے جو کسی بھی ہنگامی طبی صورتحال میں قوم کی حفاظت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس خسارے کا ذکر سال 2025 کے پبلک اکاؤنٹس میں آیا، مگر ہیلتھ کینیڈا نے واضح نہیں بتایا کہ نقصان بالکل کس حد تک اور کن کن مصنوعات تک محدود تھا، یا درجہ حرارت کی تبدیلی کی وجہ تکنیکی خرابی تھی یا انسانی غفلت۔سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے تقاضے یہ ہیں کہ جب حکومت عوامی صحت کے اہم اثاثے جمع کرتی ہے تو اُن کی حفاظت، صفائی و شفافیت اور بروقت رپورٹنگ لازمی ہوں۔ ہنگامی اسٹاک کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی وبائی یا دیگر طبی بحران میں ویکسین اور ادویات کی کمی نہ ہونے پائے۔ اگر وہی اسٹاک کسی داخلی ناکامی کی وجہ سے خراب ہو جائے تو یہ محض مالی نقصان نہیں بلکہ قومی حفاظتی گارڈ کا منہدم ہونا ہے۔

ہیلتھ کینیڈا کی تسلی بخش وضاحت—کہ ہنگامی حالات میں ضروری ویکسین یا ادویات کی کمی نہیں آئے گی—خوش آئند ہے، مگر تسلی کافی نہیں۔ عوام اور پارلیمانی نگرانی دونوں کو حق ہے کہ انہیں مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں: کن پروڈکٹس کو نقصان پہنچا، کن ذخائر یا مراکز میں درجہ حرارت کا کنٹرول ناکام ہوا، کس وقت اور کن وجوہات کی بناء پر یہ واقعہ رونما ہوا، اور کیا اس کے پیچھے انتظامی یا تکنیکی خامیاں تھیں؟ شفاف جواب اور واضح کارروائی کے بغیر عوام کا اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے، اور یہی اعتماد وبائی خطرات سے نمٹنے میں کلیدی اثاثہ ہوتا ہے۔

اس واقعے نے عوامی صحت کے سرد زنجیر (cold chain) کی کمزوریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ جدید ویکسین اور کئی حفاظتی ادویات انتہائی سخت درجہ حرارت کے قواعد کے تابع ہوتی ہیں؛ اس لیے ذخیرہ، نقل و حمل اور ذخائر کی نگرانی میں چھوٹی سی خامی بھی پورے سسٹم کو متاثر کر سکتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ناصرف آلات میں خرابی آ سکتی ہے بلکہ انسان، انتظامی عمل اور کنٹریکٹرز کی کارکردگی بھی فریق بن جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نظم و ضبط، ٹیکنالوجی اور باقاعدہ آڈٹ تینوں کی ہم آہنگی لازم ہے۔
حکومت کو فوری اور ٹھوس اقدامات کا اعلان کرنا چاہیے۔ پہلا، ایک آزاد اور شفاف تفتیش کروا کر عوام کو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ دوسرا، تمام ہنگامی اسٹاک مراکز میں ریئل ٹائم درجہ حرارت مانیٹرنگ، الارم سسٹمز، متبادل پاور سورسز اور خودکار ڈیٹا لاگرز لازمی کیے جائیں۔ تیسرا، ذخائر کی ریگولر روٹیشن اور میعاد ختم ہونے والی اشیاء کی فہرست بنائیں تاکہ ضیاع کم سے کم رہے۔ چوتھا، ذخیرہ اور لاجسٹکس کا انتظام دینے والے کنٹریکٹرز کے ساتھ معاہدات میں سخت کارکردگی معیارات اور جرمانے شامل کیے جائیں۔ پانچواں، پارلیمان یا متعلقہ کمیٹی کے سامنے تفصیلی بریفنگ اور باقاعدہ عوامی رپورٹس شائع کی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور پالیسی اصلاحات کا ثبوت ملے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی اور صوبائی صحت ایجنسیاں بھی سرد زنجیر کی تیاری اور نگرانی کے قابل بنائی جائیں؛ کارکردگی کے بہتر معیار کے لیے مرکزی اور مقامی سطح پر تعاون لازمی ہے۔ آخر کار، حکومت کے لیے سب سے بڑی قیمت مالی نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہے۔ جب عوام شک میں مبتلا ہوں تو ویکسین کی مہم یا کسی ہنگامی نظام پر عمل درآمد متاثر ہوتا ہے — اور یہی وہ چیز ہے جسے فوری طور پر بحال کرنا ہوگا۔
یہ واقعہ ایک تنبیہی موقع ہے: کینیڈا کو چاہئے کہ وہ اس نقصان کو صرف مالی نقصان کے طور پر نہ لے بلکہ ایک موقع سمجھے جس میں نظامی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کیا جائے۔ عملی اصلاحات، شفافیت اور مضبوط نگرانی کے ذریعے نہ صرف کھوئی ہوئی رقم کو دوبارہ کمایا جا سکتا ہے بلکہ آئندہ خطرات کے خلاف قوم کی دفاعی توانائی بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں